MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پاکستان کا مشکل ترین مرحلہ گذر چکا، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے

0 276

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کراچی(مسائل نیوز) بینک دولت پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان کا مشکل ترین مرحلہ اب گذر چکا ہے ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، پچھلے دو برسوں سے پاکستان کی مجموعی نمو دو ہندسوں میں ہے، معیشت اوورہیٹنگ کررہی تھی اور اس سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو بہت تیزی سے پالیسی ریٹ میں 8 فیصد اضافہ کرنا پڑا دیگر ممالک سے موازنہ کریں تو اسٹیٹ بینک نے بہت مختصر وقت میں اہم قدم اٹھایا۔
بینک دولت پاکستان کے حالیہ اقدامات کی بدولت آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی پالیسیوں پر اعتماد کو مضبوط کرے گا جو پاکستان کی معیشت پر اعتبار کا ایک اشارہ ہے اور اس طریقے سے ایکسچینج ریٹ کے محاذ پر بھی استحکام نظر آئے گا۔بینک دولت پاکستان کے چیف اکانومسٹ اور ریسرچ ایڈوائزر ڈاکٹر علی چوہدری نے حالیہ پالیسی ریٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ایم پی سی کے اراکین کرتے ہیں جن کی تعداد اوسطاً دس ارکان تک ہوتی ہے۔
ضروری نہیں ہے کہ زری پالیسی کمیٹی متفقہ فیصلہ کرے اور اختلاف کی صورت میں گورنر کا کاسٹنگ ووٹ ہو گا۔چیف اکانومسٹ نے بتایا کہ ایم پی سی نے تین بنیادی وجوہات کی بنا پر توقف کرنے کا فیصلہ کیا: پہلی وجہ یہ کہ پالیسی ریٹ میں سابقہ اضافے کے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے گئے یعنی مجموعی طلب سست ہو رہی ہے۔سیمنٹ اور آٹو انڈسٹری کے فروخت کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ معیشت میں طلب کم ہو گئی ہے۔
بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) بھی سست ہورہی ہے۔ پالیسی ریٹ میں وقفہ لینے کی دوسری وجہ سیلاب کے اثرات تھے جن کا ہمیں ابھی تک درست علم نہیں ہے لیکن اس سیلاب کے اثرات بالآخر معاشی اظہاریوں اور نمو کو متاثر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک معیشت پر سیلاب کے اثرات سے متعلق ابتدائی اعداد و شمار اگلے چار ہفتوں میں حاصل کر لے گااور 2010ء کے سیلاب سے موازنہ کرے گا۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ مہنگائی سے متعلق ہمارے موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مہنگائی سے متعلق پیشگوئیوں پر نظر ثانی نہیں کی گئی ہے، اس لیے موجودہ مہنگائی اسٹیٹ بینک کے لیے تعجب کا باعث نہیں ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ہم نے رواں مالی سال کے لیے مہنگائی کی پیشگوئی 18 سے 20 فیصد کی شرح پر برقرار رکھی ہے۔ واضح رہے کہ زری پالیسی کمیٹی کا اگلا اجلاس چھ ہفتے بعد ہونا ہے اور امید ہے کہ اٴْس وقت تک معیشت کی صحیح صورت حال واضح ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ مستقبل قریب میں مہنگائی کا منظر نامہ کیا ہوگا۔ گذشتہ چند ہفتوں میں عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم کی قیمت میں کمی ہوئی ہے، اسی طرح اجناس کی قیمتوں میں بھی قدرے کمی ہوئی ہے۔مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک کے مہنگائی کے تخمینے جوں کے توں رہے۔انہوں نے کہا کہ ان تین وجوہات سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ زری پالیسی کمیٹی نے فی الحال توقف کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔
ملک کے ڈیفالٹ کرنے کے حوالے سے افواہوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر علی چوہدری نے ایسی افواہوں سے اختلاف کیا اور کہا کہ اب ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ آئل کے ضمن میں پاکستان کو طلب کے دھچکے کے ساتھ رسد کے دھچکے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ تیل اور اجناس کی قیمتوں کی وجہ سے مہنگائی پر دباؤ کا اثر طلب کے لحاظ سے تقریباً 60 فیصد اور رسد کے لحاظ سے 40 فیصد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران کیے گئے اقدامات کے اثرات اب دیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ ہر چیز کی طلب سکڑ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ چونکہ اسٹیٹ بینک کا اوّلین مقصد قیمتوں میں استحکام کاحصول ہے لہٰذا یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اب اسٹیٹ بینک کا ہدف ہے کہ وسط مدت کے دوران قیمتوں میں 5 سے 7 فیصد تک استحکام لایا جائے۔ایک اور سوال کے جواب میں چیف اکانومسٹ نے اسٹیٹ بینک کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ایس بی پی ایکٹ میں ترمیم کے بعد اسٹیٹ بینک کا کام قیمتوں میں استحکام لانا ہے، تقریباً آٹھ سہ ماہیوں کے لیے مہنگائی کے حوالے سے ہمارا ہدف 5 تا 7 فیصد ہے۔
مستقبل میں جیسے ہی مہنگائی کے تخمینے میں بہتری آئے گی، اس بہتری کے ساتھ بالاآخر پالیسی ریٹ کم کردیا جائے گا۔ دوسری جانب مہنگائی کی بلند سطح کاروباری افراد کی طلب کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کی اتنی بلند سطح معاشی عاملین کے لیے اچھی نہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فی الوقت پاکستان کفایت شعاری کے دور سے گذر رہا ہے اور جیسے ہی مہنگائی کے تخمینوں میں بہتری آئی، اس کے نتیجے میں پالیسی ریٹ کم کردیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف مہنگائی کی بلند سطح طلب کو نقصان پہنچاتی ہے،اور یہ کہ کسی ایک چیز میں کمی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے،چاہے یہ آئی ایم ایف یا کسی اور وجہ سے وقوع پذیر ہو۔کفایت شعاری کے بارے میں اس سوال پر کہ آیا اس کا مطلب اخراجات میں کمی یا آمدنی کے تناسب سے خرچ کرنا ہے، ڈاکٹر چوہدری نے جواب دیا کہ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں: یا ہم ٹیکس بڑھائیں یا اپنے اخراجات میں کمی لائیں۔
یہ مختلف اقسام کی کفایت شعاری کی نمو کے لیے مختلف شدت ہوتی ہے۔ چند حالیہ مطالعوں کے مطابق ٹیکس عائد کرنے کی نوعیت والی کفایت شعاری کے معاشی نمو پر اثرات زیادہ ہوتے ہیں جس کا سبب اعتماد اور احساسات پر اس کا اثر ہے۔ پاکستان میں بالعموم اخراجات کی نوعیت والی کفایت شعاری کو بروئے کار لایا گیا ہے، اور اس کے اثرات کم اور بحالی تیزی سے ہوجاتی ہے۔
پاکستان میں ایکسچینج ریٹ کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ اب منڈی کی حرکیات پر منحصر ہے، منڈی پر مبنی شرح مبادلہ میں یہ ہوتا ہے کہ جب ڈالر کی رسد اس کی طلب سے زیادہ ہو اور اگر منڈی کے احساسات مثبت ہوں تو پھر روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح اگر درآمدی ادائیگیاں بلند ہوں اور ڈالر کی طلب بڑھ جائے تو پھر ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوگا۔#

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.