MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اسلامی تاریخ کی ضرورت و اہمیت

0 498

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: سید نجیب اللہ حریفال۔

اُمتِ مسلمہ کے لیےاسلامی تاریخ سے واقفیت انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس فن کا علم و فہم ایک بیش قیمت متاع اور بے بہا اثاثہ ہے۔ اسلامی ہجری تاریخ کی ابتدا سرورِ کائنات حضرت محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ سے چلی آرہی ہے۔ جب تک اسلام باقی ہے، قوی امید اور آرزو یہی ہے، کہ یہ شاندار تاریخ قیامت تک جاری وساری رہے گی۔

اسلامی تاریخ کا آغاز واقعہ ہجرت کی مناسبت سے قمری تاریخ کی بنیاد پر ہوا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے اصرار اور فیصلوں کے نفاذِ عمل و عدمِ عمل پر تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے دیگر صحابہ کی امیر المومنین سے تاریخ لکھوانے کی گزارش کی گئی۔ امیر المؤمنین حضرت عُمر رضی اللہ عنہ اور اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متفقہ مشورہ سے”ہجرت کی سولہویں،سترہویں یا اٹھارہویں سال حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں ان کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ (تاریخ ابن کثیر: 204/3) اور اسلامی وقمری مہینے وہ ہیں کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی تھی۔

اسلامی مہینوں کی تعداد کل بارہ ہیں۔ ان کی عظمت کا ثبوت ربِ کریم کی کتاب قرآنِ عظیمُ الشان کی مختلف آیات سے ثابت ہے۔ اسلامی کلینڈر کا آغاز مُحَرَّمُ الحَرام سے ہوتا ہے، جب کہ ذی الحج پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔

اسلامی مہینوں کے نام حسبِ ذیل ہیں:
۱: مُحَرَّمُ الحَرَام، ۲: صَفَر المظفّر، ۳:رَبِیْعُ الاوّل، ۴: ربیع الثانی، ۵: جُمادی الاُولیٰ، ۶: جُمادی الأُخریٰ، ۷: رَجَبُ المرجب، ۸: شَعبَانُ المعظّم، ۹: رمضانُ المبارک، ۱۰: شَوالُ المکرّم۔ ۱۱: ذیقعدہ، ۱۲: ذی الحجہ۔

عیسوی یا شمسی تاریخ کا تعلق حضرت عیسیٰ سے ہے۔اس تاریخ کی ابتدا ہجری تاریخ کی بنیاد رکھنے سے 622 سال قبل، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مناسبت سے رکھی گئی ہے۔ ہمارے ہاں برصغیر میں اسے انگریزی تاریخ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ عیسوی کلینڈر میں بھی مہینوں کی کل تعداد بارہ ہے۔ اس کی ابتدا جنوری سے اور اختتام دسمبر پر ہوتا ہے۔

اسلامی اور عیسوی تاریخ کے درمیان چند نمایاں فرق:

اسلامی اور عیسوی ایام میں ایک نمایاں فرق یہ بھی ہے، کہ اسلامی تاریخ کا دن غروبِ افتاب کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے جب کہ انگریزی یا عیسوی تاریخ کا دن وقت سے تعلق رکھتا ہے، ہمارے ہاں رات بارہ بجے کے بعد دن تبدیل ہوتا ہے۔

- Advertisement -

دونوں کلینڈرز میں دوسرا نمایاں فرق یہ بھی ہے، کہ شریعتِ اسلامی کے بہت سے مسائل کی تفہیم اور ایامِ عبادت کی معلومات اسلامی و قمری تاریخ سے معلوم اور حل ہوتی ہیں۔ جب کہ انگریزی اور شمسی تقویم سے ان کا کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔

تیسرا واضح و نمایاں فرق یہ ہے۔ کہ ہجری تاریخ کی صحت و درستگی قرآنِ کریم،اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت و محفوظ چلی آرہی ہے۔ جب کہ عیسوی تاریخ میں وقتا فوقتا ترامیم کا عمل جاری رہا ہے۔

عیسوی مہینوں کے بعض اسماء میں توہم پرستی، شرک اور بے معنیٰ الفاظ بھی موجود ہیں۔ جن کی تفصیل اور وضاحت “حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کی پسند فرمودہ کتاب” اور “مولانا محمد رمضان لدھیانوی” کی تالیف، “اسلامی مہینوں کے مسائل ،فضائل اور تاریخی واقعات “تاریخ کے ساتھ ساتھ” میں ذکر ہے۔

 

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ معارف القرآن (507/4) میں لکھتے ہیں۔

“اس کے یہ معنیٰ نہیں، کہ شمسی حساب یاد رکھنا یا استعمال کرنا،ناجائز ہے۔ بلکہ اس کا اختیار ہے۔ کہ کوئی شخص ،نماز،،روزہ،زکوۃ،حج،اور عدت کے معاملہ میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے۔مگر اپنے کاروبار، تجارت وغیرہ میں شمسی حساب استعمال کرے۔شرط یہ ہے،کہ مجموعی طور پر مسلمانوں میں قمری حساب جاری رہے۔تاکہ رمضان اور حج وغیرہ کے اوقات معلوم ہوتے رہیں۔ایسا نہ ہو،کہ اسے جنوری فروری کے سوا کوئی مہینے ہی معلوم نہ ہوں۔فقہا رحمہم اللہ نے قمری حساب باقی رکھنے کو مسلمانوں کے ذمّہ فرضِ کفایہ قرار دیا ہے۔اور اس میں شبہ نہیں کہ سنت انبیا اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین میں قمری حساب استعمال کیا گیا ہے۔اس کا اتباع موجب برکت و ثواب ہے۔”

بلا شبہ اسلامی تاریخ دنیا کی سب سے شاندار اور نمایاں تاریخ ہے،لیکن أفسوس کی بات ہے،کہ دورِ حاضر کےلوگ اپنے شاندار اور عالی شان اسلامی تاریخ سے غافل اور کوسوں دور ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے،کہ وہ انگریزی اور سنِ عیسوی کے ساتھ قمری و اسلامی تاریخ کو بھی اپنائیں۔اور اپنے تمام معاملات و مراسلات، دفاتر اور رجسٹروں،تنخواہوں وغیرہ میں سن عیسوی کے ساتھ سن ہجری کو بھی لکھا کریں۔

ہم چودہ سو چوالیس (1444ھ) ہجری سال کی آمد پر سب دوستوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اورنئے سال بخیر و عافیت کے ساتھ گزارنے کےلیے دعا گو اور متمنی ہیں۔ ربِ کریم سے دعا ہے کہ تمام احباب کو سدا سلامت، خوش و خرم اور دولتِ ایمان و اسلام سے سر خروئی نصیب فرمائے۔ سدا کی خوشحالی و ترقی سے فرحت سے بہرمند فرمائیں۔

نئے سال کی آمد ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ و جائزہ لینے کی ترغیب دیتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ پچھلے سالوں کے برے اعمال پر نادم و تائب ہوں۔ زندگی کے ان کڑے لمحات پر خوب غور و فکر کریں۔ آئندہ آنے والے سال کو احکامِ خداوندی، اطاعتِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اعمالِ حسنہ، صداقت و عدالت،ایثار و قربانی کے ساتھ گزارنے کا عزمِ صمیم کریں، تاکہ ہر شخص کو دنیا و آخرت میں امن و امان، صلح و آشتی، راحتُ و سکون، کامیابی و کامرانی نصیب ہو۔

وما توفیقی إلا باللّه علیه توکلت وإلیه أنیب!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.