آئین واضح ہے کہ پارلیمانی پارٹی نے واضح کرنا ہے کہ وہ کدھر جائیں گے
اسلام آباد (مسائل نیوز)ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے، جسے 2.30 بجے تک ملتوی کیا گیا ہے۔سماعت میں وقفے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نام نہاد حکومت کے وکلاء نے نامناسب رویہ اختیار کیا۔ سپریم کورٹ نے انہیں آخری وقت تک موقع دیا۔
وکلا پوری طرح سے سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔حکومت نے سپریم کورٹ کے خلاف بغاوت کا مظاہرہ کیا ہے۔آئین واضح ہے کہ پارلیمانی پارٹی نے واضح کرنا ہے کہ وہ کدھر جائیں گے۔پہلی بار موقع ہے کہ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت پنپ سکے گی۔پاکستان کے عوام عدلیہ کی کے وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے بغیر ملک میں جمہوریت ممکن نہیں۔
نوازشریف کو لانے کے لیے پیپلز پارٹی نے چارٹر آف ڈیموکریٹ کیا۔چارٹر آف ڈیموکریسی نے دو خاندانوں کو اجارہ داری قائم کی گئی۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ برطانیہ میں بھی بورس جانسن کو پارلیمانی پارٹی نے علیحدہ کیا۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں جمہوریت لانے کے لیے دو بڑی اصلاحات ہوئی ہیں۔قبل ازیں انہوں نے کہا تھا کہ فل کورٹ بینچ بنانا نہ بنانا ججز کا اختیار ہے۔
پرویزالہٰی کے 186،حمزہ شہباز کے179 ووٹ تھے،179 والے کو وزیراعلیٰ ،جبکہ 186ووٹ والے کو اپوزیشن میں بٹھا دیا گیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ 22 کروڑ لوگوں کے وزیر اعظم کو گھر بھیجا گیا،اس وقت مٹھائیاں بانٹی گئیں،اور بائیکاٹ کا خیال نہیں آیا انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک میڈیا گروپ کے ساتھ مل کے سازشیں بنائی جارہی ہیں،عمران خان کے خلاف کیوں سازش کی گئی،اس کے کردار شرمندہ ہیں۔ جب نتیجہ آیا تو حمزہ شہباز کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا،کیوں چمٹے رہے،ہم نے مریم صفدر کی پنجاب ضمنی الیکشن میں شکست تسلیم کرنے کے بیان کو سراہا تھا،انہیں اپنی ناکامی پر سیاسی قیادت تبدیل کرنا چاہیے تھی۔