موجودہ حکومت نے آئی ڈی پیز کے لیے کوئی فنڈنگ نہیں رکھی ، عمران خان
اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے آئی ڈی پیز کے لیے کوئی فنڈنگ نہیں رکھی ۔ تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ قبائل کی خصوصی ضروریات کے پیش نظر ہماری حکومت نے فنڈنگ 3 گنا کی ، موجودہ حکومت نے ترقیاتی فنڈ میں کمی کردی ، ہم نے قبائل کے لیے فنڈنگ 3 گنا کرکے 131 ارب کردی تھی ، موجودہ حکومت نے قبائل کے لیے صرف 110 ارب روپے کا بجٹ رکھا۔
- Advertisement -
گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان سے سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں میں بھی اہم تعیناتیاں کی جارہی ہیں، پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تقررتبادلے ہو رہے ہیں، اہم تعیناتیوں اور تقرر وتبادلوں کا واحد مقصد الیکشن میں دھاندلی کی تیاری ہے ، ہمیں معاملات کا اندازہ ہے اور اہم مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے بعد پوری قوت سے لانگ مارچ کروں گا، کوئی یہ نہ سمجھے کہ لانگ مارچ ختم ہوگیا۔
عمران خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے کر جارہی ہے۔آنے والے دنوں میں اسلام آباد کا رخ کروں گا، عام انتخابات کی تاریخ ملنے تک جدوجہد جاری رکھوں گا۔ہم نے بڑی تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پر نکال کر دکھایا ہے ، حکومت کے فسطائی ہتھکنڈوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جولائی سے کمرتوڑ مہنگائی کا عوام سامنا کیسے کریں گے، بجٹ سے لگتا ہے کہ حکومت ایک ڈیڑھ ماہ میں جہاز سے چھلانگ لگا دے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سے نکلنے کے بعد میرے پاس دو ہی راستے تھے ، طاقتور حلقوں سے معافی مانگ کر پاؤں پکڑتا یا پھر عوام کے پاس چلا جاتا،میں نے دوسرا راستہ اپنایا اور عوام کے پاس چلا گیا ، اب لگ رہا ہے کہ سیاسی معاشی بحران سے پریشان تمام حلقے موجودہ صورتحال سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں، ملک کو موجودہ حالات کا سامنا کرنے کیلئے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے،مضبوط قیادت شفاف الیکشن کے ذریعے سامنے آسکتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ بجٹ کو آئی ایم ایف کسی صورت نہیں مانے گا،اس وقت آئی ایم ایف اور دیگر ممالک پاکستان کی امداد نہیں کررہے ہیں ، عالمی اداروں کو بھی موجودہ حکومت کی نااہلی کا یقین ہے ، آئی ایم ایف اور دیگر ممالک کو یقین ہے کہ عوام اس حکومت کے ساتھ نہیں ہیں۔