ملک کے مختلف علاقوں میں 12 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ جاری
اسلام آباد (مسائل نیوز) ملک کے مختلف علاقوں میں 12 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہے۔ملک میں بجلی کی کل طلب 27 ہزار 737میگاواٹ ہےاور بجلی کی مجموعی پیداوار 22 ہزار 108 میگاواٹ ہے جبکہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار 629 میگاواٹ ہے۔
ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جوہری ایندھن ایک ہزار 234 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے اوربگاس سے چلنے والے پلانٹس 169 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔نجی شعبے کے بجلی گھروں کی مجموعی پیداوار 12 ہزار 9میگاواٹ ہے جبکہ سرکاری تھرمل پلانٹس ایک ہزار 590میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ پانی سے 5 ہزار 344 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔
- Advertisement -
دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ اب پٹرول اور ڈیزل پر کوئی سبسڈی نہیں دیں گے۔انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’ آج شاہزیب خانزادہ ‘ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق قیمتیں ہوں گی۔جوالائی کے مہینے میں نقصان میں نہیں جائیں گے، سبسڈی کو اس سال ختم کریں گے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام نہ ملا تو ڈیفالٹ کے علاوہ چارہ نہیں۔
اس سے قبل بھی انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیا۔مفتاح اسماعیل نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے جبکہ پٹرول کی قیمت میں 28 سے 30 روپے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے پٹرولیم لیوی عائد کرنے کا بھی عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ آہستہ آہستہ پٹرولیم لیوی بڑھاتے رہیں گے۔
5 روپے سے شروع کریں گے اور سال کے آخر تک پٹرولیم لیوی کی مد میں ساڑھے 700 ارب روپے تک جمع کر لیں گے، اس سے ہمارے بجٹ خسارے میں کمی ہو گی۔ اس سے قبل اپنی بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم کی قیمتوں کے پیش نظر کم آمدنی والے طبقہ کو تحفظ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ ان کی ہدایت پر40 ہزار روپے ماہانہ سے کم آمدنی والے خاندانوں کو دو ہزار روپے ماہانہ مدد دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ جون 2022 سے نافذ العمل ہے۔
اس سے تقریبا 8 کروڑ سے زائد لوگوں کو فائدہ پہنچے گا،یہ امداد مالی سال 2022-23 کے بجٹ میں شامل کردی گئی ہے اس میں ضروری نہیں کہ کسی کے پاس کار یا موٹر سائیکل ہو بلکہ جو عوام بس میں سفر کرتے ہیں وہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جو مستحق افراد بی آئی ایس پی میں پہلے سے رجسٹرڈ ہیں ان کو جون کے مہینے میں دو ہزار روپے کی اضافی ادائیگی خودکار طریقے سے کی جارہی ہے۔ ان میں مزید 60 لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جارہا ہے جن کو ہر مہینے دو ہزار روپے دیئے جائیں گے۔