بی جے پی کے توہین آمیز بیان سے مسلمانوں میں نفرت بڑھ رہی ہے، ثمینہ زہری
کوئٹہ (مسائل نیوز) سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بی جے پی کے ترجمان اور رہنماؤں کی جانب سے نبی آخری الزماں حضرت محمد مصطفی ؐ کی شان میں گستاخی اور توہین آمیز بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا کہ بھارتی انتہا پسندی پارٹی بی جے پی کے ترجمان اور رہنماؤں کے حضور ؐ کی شان میں توہین آمیز بیانات سے مسلم امہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عالم اسلام اور دنیا بھر میں رہنے والے مسلمان خاتم النبین نبی کریم ؐ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور قرآن کے حکم کے مطابق مومنوں کیلئے نبی کریمؐ کی محبت ان کے بچوں اور ماں باپ سے او لیت رکھتی ہے۔ توہین آمیز ریمارکس سے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ توہین آمیز اور متنازع بیانات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، ایسے بیانات بھارت میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’توہین آمیز بیان دینے پر محض پارٹی عہدیداروں کو معطل کرنا اور نکال دینا کافی نہیں۔ بی جے پی کو اپنے انتہا پسند اور فاشسٹ ہندوتوا نظریئے سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہو گی۔ مودی کے نفرت انگیز ہندوتوا فلسفے کے تحت بھارت اپنی تمام اقلیتوں کی مذہبی آزادیوں کو پامال کر رہا ہے اور ان پر بلاامتیاز ظلم کر رہا ہے۔ اس طرح کے توہین آمیز بیانات کی اجازت دینا انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے سنگین خطرہ ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کیخلاف تشدد کے واقعات بڑھے اور مغربی دنیا میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز واقعات رونما ہوئے۔ مذہبی آزادی ہرشخص کا بنیادی حق ہے اور اسلام میں کسی بھی مذہب کے خلاف نفرت انگیزی کا کوئی تاثر نہیں اور اس عمل کونا پسندیدہ قرار دیا ہے اور سختی سے منع کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ملکوں خاص کر ہمارے ازلی دشمن بھارت میں سیاسی مقاصد کے حصول اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات کا اظہار کرنے کے لیے اسلاموفوبیا کوہوا دی جاتی ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت سے بھارت میں اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کا ایجنڈا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت میں خطرناک حد تک اضافے پر بھی گہری تشویش ہے۔