اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ کسی ملٹری مہم جوئی اور فوجی آپریشن پر یقین نہیں رکھتے، روس اور یوکرین تنازع کے پرامن طریقے سے حل کے خواہاں ہیں ، مذاکرات کے ذریعے اختلافات کا حل نکالا جائے،افغانستان میں طاقت کا استعمال کرکے کیا حاصل کیا گیا،کسی بھی تنازع کو جنگ کے ذریعے حل کرنا بیوقوفی ہے،ہم کسی ملک کے بلاک کا حصہ نہیں بنیں گے،موجودہ بھارت گاندھی اور نہرو کا نہیں، مودی کا ہے،
- Advertisement -
پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ کشمیر ہے،ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی بڑا چیلنج ہے،ہمیں بطور انسان اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنا چاہیے ،ہمارے ملک کے سابق حکمرانوں نے بھی پیسہ باہر منتقل کرکے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں، اگر امیر اور ترقی یافتہ ممالک بیرون ملک سے آنے والے پیسے کی تحقیقات کریں کہ پیسہ قانونی ہے یا نہیں تو پیسے کی منتقلی روکی جاسکتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے روسی ٹی وی (آر ٹی) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاکستان، امریکی بلاک کا حصہ بنا جس کے باعث پاکستان کو امداد ملی مگر اس امداد کی وجہ سے ہم اپنے ادارے مضبوط نہیں کرسکے۔انہوںنے کہاکہ بیرونی امداد ایک لعنت ہے، اس کے لیے ممالک کو غلط فیصلے کرنے پڑتے ہیں، امداد کے باعث ہم نے ترقی کے اصل محرکات اور عوامل پر توجہ نہیں دی اور صرف امداد پر انحصار کے عادی ہوگئے۔