ریاستِ پاکستان میں اللہ کا نظام ناگزیر
تحریر: جاوید صدیقی
ھم بحیثیث پاکستانی اور مسلمان من الحصل قوم فراموس کرچکے ہیں کہ پاکستان دو قومی نظریہ کے تحت معروضِ وجود میں چوہ اگست سنہ انیس سو سینتالیس اسلامی مہینے رمضان المبارک کی مبارک شب، شب قدر کو آیا۔ نظریہ اسلام کے تحت بننے والے پاکستان میں اللہ کا قانون یعنی قانونِ شریعت کو کبھی بھی لاگو نہیں کیا البتہ جنرل ضیاء الحق نے ایک معمولی اور ادھوری سی کوشش کی تھی جس کے تحت شریعت کورٹ وجود میں آئی مگر وہ بھی بے سود اور اسی طرح اسلامی کونسل گویا اسلامی تشخص کی اسٹیکر چسپاں کردیجئے ہوا وہی جو بیرونی سامراج چاہتے تھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! محمد عربی خاتم الانبیاء رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے دینِ اسلام یعنی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین کیساتھ کیا ہم مخلص ہیں؟؟
کہیں ہم صرف زبانی کلامی مسلمان تو نہیں؟؟ کیا ہمارے ذمہ جو دین اسلام کا امن کا فلاح کا پیغام تھا، اس پہ عمل کررہے ہیں؟؟ کیا اسے آگے پھیلا رہے ہیں؟؟ کیا دینِ اسلام صرف عبادات کا دین یے؟؟ یا مکمل ضابطہ حیات ہے؟؟ تو جواب ہے، نہیں کیونکہ اس شیطانی دجالی نظام جمہوریت نے ہمیں اندر سے رفتہ رفتہ اس قدر بے ایمان و پڑھے لکھے جاہل و کرپٹ بنا دیا ہے کہ ہم ایک قوم نہیں رہے، بے اتفاقی عروج پے، فرقہ پرستی، پارٹی پرستی، شخصیت پرستی، علاقہ ذات رنگ نسل پرستی عروج پے، ہمارا سیاسی، معاشی، معاشرتی، عدالتی، تعلیمی، سارے نظام درہم برہم ہیں، آوے کا آوا بگڑ چکا ہے، ہم ذلت کے دن جی رہے ہیں، یہ نظامِ جمہوریت ہمیں اپنے نفس و شیطان کی فرماں برداری کا حکم دیتا ہے، یہ جمہوری نظام ہمیں اللہ تبارک تعالیٰ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کا درس دیتا ہے،
جو غیر محسوس انداز سے ہم پر مکمل اثر انداز ہے، نظامِ جمہوریت ایک مکمل باطل دین ہے، جمہوریت کہتی ہے کہ لوگوں کی حکومت ہو، لوگوں کے ووٹوں سے ہو، لوگوں کیلئے ہو، کہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا، دینِ اسلام کا ذکر تک نہیں کرتا جبکہ دینِ اسلام ہمیں ہر عمل میں، ہر میدان میں، ہر حالت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے، ہمیں ایک مربوط سیاسی، معاشی، معاشرتی، عدالتی، تعلیمی نظام دیتا ہے۔ دینِ اسلام صرف نماز، روزے، زکاۃ، حج کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور جمہوریت تو کہتی ہے، دین کو سیاست سے اداروں سے باہر رکھو، بھئی مجھے کوئی ثابت کرے گناہ و ثواب، پاک و ناپاک، حلال و حرام، جائز و ناجائز کا بغیر آسمانی کتاب کا سہارا لئے؟ آپ نہیں کرسکتے تو پھر آپ کیسے کرسکتے ہیں
- Advertisement -
سارے نظام کو درست؟ بالکل نہیں، تو مطلب ہمیں سب سے بہترین نظام، نظامِ اسلام کو لاگو کرنا ہوگا جس میں ہماری دینی و دنیاوی بقاء و کامیابیاں ہیں، ہمیں دینِ اسلام کو خود بھی مکمل اپنے اوپر اور وطن کی سطح پر قوم کے اوپر نافذ کرنا ہوگا اور پھر عمل سے، کردار و اخلاق سے، نظام سے پوری دنیا تک اسلام پھیلانا ہوگا جو اللہ کا حکم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی ہے، ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور یہ ہو کر رہیگا انشاءاللہ، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس سے اپنا نصیب بناتے ہیں یا اس کے خلاف بدنصیب بنتے ہیں، فیصلہ ہمارا ہے، تو ہمارا فیصلہ نفاذ دینِ اسلام ہی ہونا چاہیئے، ورنہ ہم مٹ جائیں گے، ذلیل ہو جائیں گے۔
۔۔ معزز قارئین!! اسلام کے خلاف قوتوں نے ہر زمانے میں ہر دور میں اپنی سازشیں کرنا نہ چھوڑیں۔ تاریخ گواہ ھے کہ دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی ریاستوں کو منافقوں غداروں نے ہی نقصان پہنچایا ھے۔ سابقہ اور موجودہ صدی میں کافروں مشرکوں کی گود میں پلنے والی دجالی فتنہ باز جماعت، جماعتِ احمدیہ یعنی قادیانیوں نے اسلام اور پاکستان کو مالی، معاشرتی، معاشی، اخلاقی، سیاسی، تجارتی اور عسکری بنیادوں پر شدید نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ موجودہ جمہوری حکومت ہو یا گزشتہ حکومت زرداری اور نواز شریف کی۔ ان تینوں حکومتوں میں قادیانیت نے پاکستان میں سر اٹھایا اب تو یہ حال ھوگیا
کہ ایسا فتنے باز گروہ جس کا نہ کوئی مذہب ھے نہ کوئی دین اسے قانونی سطح پر اقلیت کا درجہ دیا پھر یہی نہیں بلکہ نصاب میں تبدیلیاں اور خاص کر اسلامیاب کے مضمون کو لادین اور غیر مسلموں کو پڑھانے کی اجازت یہ سب ریاست اور آئین پر حملہ نہیں تو کیا ھے۔ ریاست کے امین خاموش کیوں؟؟ عدالتوں کا ازخود نوٹس کیوں نہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستانی اقوام ان بہمانہ ظالمانہ عمل کو ہر گز برداشت اور قبول نہیں کریں گے۔ مختلف ذرائع نے تصدیق کی ھے کہ ان تیرہ سالہ جمہوری حکومتوں میں قادیانیوں کی پشت پناہی اور تحفظ دیا گیا اور جارہا ھے۔ جمہوری نظام غیر مسلموں مشرکوں کافروں کا ھے جسے ہمارے بدکردار سیاسی رہنماؤں نے سر کا تاج بنایا ھے
کیونکہ اس نظام میں شراب جوا زنا بدکاریاں کرپشن اور لوٹ مار قتل و غارت گری پر قدغن نہیں جبکہ دینِ اسلام نے ان تمام بدکردار خبیث ذلیل عوامل پر سخت ترین سزا وارد کی ہوئی ہیں۔ یہ عیاش سیاستدان جو تاریخ کے غداروں اور منافقوں کی طرح اپنا طرز زندگی اپنائے بیٹھے ہیں ان کی اور ان کے نظامِ جمہورث کے سبب پاکستان عنقریب لڑ کھڑا سکتا ھے۔ عوام اب سب کے چہروں کو دیکھ چکی ھے اس قوم کو جمہوریت سے شدید نفرت ہوگئی ھے ملک و قوم کا ہر فرد متلاشی ھے اور خواں ھے صرف اور صرف نظامِ اسلام کا کیونکہ نظامِ اسلام ہی ان سازشی عناصر قادیانیوں، منافقوں اور غداروں کی موت ھے جبتک ھم ان دجالی شیطانی عناصر کا جڑ سے خاتمہ یقینی نہیں بناتے اس وقت تک یہ ملک و قوم کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناظر رہے آمین یارب العالمین۔ پاکستان زندہ باد ۔۔۔افواج پاکستان زندہ باد۔۔۔!!