کوئٹہ (ویب ڈیسک)بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس جناب جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بنچ نے ایس ایس جی سی کی جانب سے صارفین کو پی یو جی /سلو میٹر چارجز بھیجنے کو خلاف قانون قرار دے دیا ۔گزشتہ روز سینئر قانون دان سید نذیر آغا ایڈووکیٹ ، فرزانہ خلجی ایڈووکیٹ اور سلطانہ ثروت ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر آئینی درخواست نمبر 813/2021کی سماعت کے دوران درخواست گزاران
- Advertisement -
،زیارت بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری کاشف کاکڑ پانیزئی ایڈووکیٹ ، رخسانہ کاکڑ ایڈووکیٹ ، پا کستان پیپلز پارٹی کو ئٹہ سٹی کے صدر نو ر الدین کا کڑ ودیگر عدالت میں پیش ہوئے ۔ سماعت کے موقع پر عدالت نے پی یو جی /سلو میٹر چارجزسے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا اور کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 8، 9اور 25سے متصادم ہے ۔ عدالت نے ایڈیشنل ڈیپازٹ چارجز سے متعلق قرار دیاکہ اگر کسی صارف کو اس سلسلے میں شکایت ہے
تو وہ کنزیومر کورٹ سے رجوع کرے ، عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ کسی بھی صارف کے میٹر اتارنے سے قبل صارف کو نوٹس جاری کیا جائے اگر صارف کی جانب سے 15دن تک نوٹس کا جواب نہ دیا جائے تو پھر متعلقہ تھانے سے مدد لے کر صارف کی موجودگی میں میٹر اتارا جائے ۔عدالت نے پریشر ریگولیشن سٹیشنز( پی آرایس )سے متعلق مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایات جاری کیں ۔