کوئٹہ (ویب ڈیسک)بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلئ کی جانب سے گوادر دھرنے کے شرکاء میں پیسے تقسیم کرنے کے پراپیگنڈہ کی مزمت کرتے ہوۓ کہا ہے کہ دھرنے میں ہزاروں افراد شامل تھے جن میں خواتین اور بچے بھی تھے وزیراعلئ نے دھرنے سے باہر چند غریب خواتین اور بچوں کو پیسے دیۓاپنے ایک بیان میں ترجمان نے کہا ہے
- Advertisement -
کہ ماؤں بہنوں کو انکے گھر جاکرچادر کے پیسے دینا بلوچستان کی جاندار قبائلی روایات میں شامل ہےوزیراعلئ نے صوبے کی روایات کی پاسداری کی اس پر تنقید کی کوئی گنجائیش نہیں ترجمان نے کہا کہ بعض عناصر حق دو تحریک اور حکومت بلوچستان کے درمیان معاہدے سے خائف ہیں امن مخالف عناصر کی خواہش تھی کہ دھرنے سے بد امنی پھیلے تاہم وزیراعلئ اور مولانا ہدایت الرحمان کی سیاسی بصیرت سے دھرنے کا پرامن اختتام ملک و صوبے کے بہترین مفاد میں ہے
ترجمان نے کہا کہ حکومت کی کامیابی نے امن مخالف عناصر کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہےاور یہ مایوس عناصر اپنی خفت مٹانے کے لیۓ مختلف حربوں سے معاہدے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ وزیراعلئ کی جانب سے پیسے تقسیم کرنے کا منفی پراپیگنڈہ بھی انہی حربوں کی کڑی ہےحق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان نے بھی دھرنے میں پیسے تقسیم کرنے کی تردید کی ہے۔ترجمان نے کہا کہ غریبوں کو چند پیسے دینا حکومت مخالف عناصر کو ہضم نہیں ہو رہاپراپیگنڈہ کرنے والے عناصر کی خواہش ہے کہ غریب اور مستحق افراد کی بجاۓ سب کچھ انکی جیب میں جاۓ ۔