اس وقت ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے ،معید یوسف
اسلام آباد (ویب ڈیسک) مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہاہے کہ مجوزہ قومی سلامتی پالیسی مستقبل میں ملک کو درپیش چیلنجز اور مواقعوں کا خاکہ پیش کرےگی،پالیسی چیلنجز نمٹنے اور مواقعوں سے مستفید ہونے کے کے لیے رہنما اصول فراہم کرےگی،ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے قومی پالیسیوں پر عوامی نمائندوں سے مشاورت ضروری ہے،پالیسی ملک کو مستقبل میں پیش آنے والے اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا احاطہ کرے گی اور ان کے سدباب کے لیے رہنمائی فراہم کرےگی۔
- Advertisement -
اسپیکر قومی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس پیر کی سہ پہر پارلیمنٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مجوازہ قومی سلامتی پالیسی پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کمیٹی کو پالیسی کی تفصیلات آگاہ کیا۔ڈاکٹر معید یوسف نے کمیٹی کو بتایا کہ قومی سلامتی کی پالیسی انسانی، اقتصادی اور دفاعی سلامتی کے مابین تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کی خوشحالی اور تحفظ کے لیے مرتب کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی سکیورٹی اس پالیسی میں بنیادی جزو ہے، پالیسی کا مقصد انسانی اوردفاعی سلامتی میں زیادہ وسائل کی فراہمی اور سرمایہ کاری کو وسعت دینا ہے۔مشیر برائے قومی سلامتی نے کمیٹی کو بتایا کہ قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل قومی سلامتی ڈویژن کے قیام کے بعد سال 2014 میں شروع کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2018 میں ایک ڈرافٹنگ کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے پہلے سے کیے گے کام کو مزید آگے بڑھایا۔ انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ان متعدد مسودوں پر تمام ریاستی اداروں بشمول صوبائی حکومت اور گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کی گئی۔