MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کراچی میں غیرقانونی کال سینٹر پر چھاپہ، بینک اکاؤنٹس ہیک کرنیوالے 5ملزمان گرفتار، مکمل طریقہ واردات جانیے

0 69

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کراچی (مسائل نیوز)کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے بینک اکاؤنٹس ہیک کرنے والے 5ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق این سی سی آئی اے نے کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں واقع غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مارا۔ انوسٹی گیشن ایجنسی نے بینک اکاؤنٹس ہیکنگ میں ملوث 5ملزمان کو گرفتار کرکے ہیکنگ ڈیوائسز اور موبائل فونز برآمد کرلیے۔

این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان غیر قانونی کال سینٹر کی آڑ میں بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس کی ہیکنگ میں ملوث تھے۔ ملزمان کال سینٹر کی مدد سے بیرونِ ملک رہنے والے افراد کو بینک اکاؤنٹس فراڈ کا نشانہ بناتے تھے۔

طریقہ واردات

تاحال این سی سی آئی اے نے یہ وضاحت جاری نہیں کی کہ آخر کراچی میں غیر قانونی کال سینٹر آپریٹ کرنے والے یہ ملزمان بیرونِ ملک موجود بینک اکاؤنٹس کو کیسے اپنے جرائم کا نشانہ بنا کر ان کے اکاؤنٹس خالی کرنے یا دیگر اسی طرح کے مالی فراڈ میں ملوث تھے۔

- Advertisement -

ظاہری طور پر ایسے کال سینٹرز معمولی آؤٹ سورسنگ کے دفاتر کی طرح کام کرتے ہیں اور غیر قانونی طور پر انٹرنیشنل کالز کرتے ہوئے خودکو بیرونِ ملک موجود بینک، کمپنی یا حکومتی ادارے کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں اور اکاؤنٹ ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ان کی ذاتی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس مرحلے کو سوشل انجینئرنگ کہا جاتا ہے یعنی انسانی نفسیات کا استعمال کرکے حساس معلومات کا حصول جس سے ہیکنگ آسان بلکہ بعض اوقات بائیں ہاتھ کا کھیل بن جاتی ہے۔

مبینہ طور پر ملزمان کا طریقہ واردات بینک اکاؤنٹ صارفین سے حساس نوعیت کی معلومات حاصل کرنے پر مبنی تھا، اس کے ذریعے اکاؤنٹ کی بنیادی تفصیل، بینک سے بھیجا گیا او ٹی پی کوڈ، ای میل اور آن لائن بینکنگ تک رسائی کی معلومات کا حصول انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور حقیقت سے لاعلم اکاؤنٹ ہولڈرز یہ معلومات ملزمان کو خود فراہم کرکے ہیکنگ کا شکار بنتے ہیں۔

ہیکرز سسٹم کو اپنی غیر قانونی کارروائی کا نشانہ بعد میں بناتے ہیں لیکن سب سے پہلے صارف کے ذہن تک رسائی حاصل کرنا ان کا پہلا طریقہ ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک صارفین آسان ہدف اس لیے بنتے ہیں کیونکہ کئی ممالک میں بینکنگ معلومات فون پر دینے کا رجحان زیادہ ہوسکتا ہے۔ کئی لوگ عالمی کالز کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور مقامی حکام کی ملزمان تک فوری رسائی بھی نہیں ہوپاتی۔

فراڈ سے بچنے کا طریقہ

بینک اکاؤنٹ ہولڈرز، خاص طور پر آن لائن بینکنگ کی سہولت سے فائدہ اٹھانے والوں کو چاہئے کہ اپنا یوزر نیم، پاس ورڈ یا او ٹی پی کسی بھی بینک، کمپنی یا ادارے کو فون پر نہ بتائیں۔ کال مشکوک لگے تو فوری طور پر کال منقطع کرکے بینک کے آفیشل نمبر پر رابطہ کریں کیونکہ بینک ہو، ایف بی آر یا کسی بھی ملک کا کوئی بھی مالی ادارہ، او ٹی پی، یوزر نیم اور پاس ورڈ وغیرہ نہیں مانگتا۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ، ای میل یا ایس ایم ایس پر آئے ہوئے لنکس پر کلک کرنے سے بھی گریز کریں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.