MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

28 ویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی نظام سے متعلق ترامیم شامل کی جائیں گی، مصطفی کمال

0 111

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز)وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ایک اور آئینی ترمیم متوقع ہے جس میں بلدیاتی حکومتوں سے متعلق تبدیلیاں آئینی ترمیم میں شامل کی جائیں گی جس کا مطالبہ ایم کیو ایم پاکستان کرتی آئی ہے، 27ویں ترمیم کے موقع پر بارگیننگ نہیں کی۔27ویں آئینی ترمیم کے نافذ ہونے کے بعد کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران مصطفی کمال نے آئین کے آرٹیکل 140 اے کا ذکر کیا، جو مقامی حکومتوں سے متعلق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے اس آرٹیکل میں مجوزہ ترامیم کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ انہیں 28ویں آئینی ترمیم کا حصہ بنا کر زیرِ بحث لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں ابتدا میں 26ویں آئینی ترمیم میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھیں، جو گزشتہ سال اکتوبر میں ایک رات میں طویل اجلاس کے ذریعے پارلیمنٹ سے منظور کی گئی تھی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ مجوزہ تبدیلیاں اس وقت پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاسوں میں بھی زیرِ بحث آئیں، تاہم حکومت نے اس وقت یہ کہہ کر اپنی عدمِ استطاعت ظاہر کی کہ وہ ان ترامیم کخیئے مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکتیں۔اسلئے انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان سے درخواست کی کہ معاملہ اگلی آئینی ترمیم تک موخر کیا جائے۔مصطفی کمال نے مزید کہا کہ چنانچہ ہمارا بل ایک سال تک قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پڑا رہا اور پھر 27ویں آئینی ترمیم کا وقت آگیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایم کیو ایم چاہتی تو 27ویں آئینی ترمیم کے اعلان سے قبل، حکومت کی جانب سے آئینی تبدیلی کا فیصلہ سامنے آنے پر وہ حکومت سے مزید وزارتیں، ترقیاتی پیکیج کے نام پر وسائل، یا مراعات و خصوصی اختیارات کا مطالبہ بھی کر سکتی تھی۔ میں پاکستان اور پاکستانیوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے عوامی مسائل کا حل نکالا اور ہر سیاسی جماعت کے پاس گئے، حکومت میں جانے کے لئے ایک نکاتی بلدیاتی آئینی ترمیم بل کو سپورٹ کرنے کی شرط رکھی، مسلم لیگ ن نے ہم سے اس پر معاہدہ کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے شکر گزار ہیں انہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی 27ویں ترمیم میں ہمارے بل کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھی، ہم سے وفاقی حکومت نے اپیل کی کہ اس مرتبہ اہم قانون سازی کی ضرورت ہے، وزیراعظم، کابینہ، مسلم لیگ ن اور چوہدری سالک سمیت سب کا شکر گزار ہوں۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں، ان سب نے ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو 27ویں آئینی ترمیم میں شامل کرنے کی حمایت کی۔ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں 6 گھنٹے اس پر بحث ہوئی، حکومت نے کہا کہ اس ترمیم میں فوج اور عدلیہ کے حوالے سے ترامیم شامل ہیں، پنجاب نے جو بل پاس کیا ہے وہ من و عن ہمارا بل ہی ہے، یہ ہمارے ہی موقف کی 100 فیصد تائید ہے اور مہر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ جو آئینی ترمیم آئے گی اس میں یہ بل شامل ہوگا، ہم نے سوچا تھا کہ اگر یہ بل کابینہ میں ڈسکس نہیں ہوا تو ہم استعفی دیں گے، یہ ہمارا نصب العین ہے لوگوں کے حقوق کی بات کرنا ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ جب لوگ مظاہرے کر رہے تھے ہم نے پاکستان کے لوگوں کا مقدمہ ایوان میں پہنچایا، 70 سالوں سے ہم اپنی فوج کو اپنے لوگوں کے خلاف ہی لڑوا رہے ہیں، یہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، وفاق کو بلوچستان کے لوگوں کی محرومیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، آپ این ایف سی ایوارڈ لیتے ہیں لیکن پی ایف سی کوئی ہے ہی نہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.