ورچوئل کرنسی پر پابندی ختم کرنے پر مشاورت؛ پی وی اے آر اے کا اہم اجلاس
اسلام آباد(مسائل نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کو کابینہ ڈویژن کے بجائے وزارتِ خزانہ کے ماتحت کرنے کی سفارش کی ہے۔ یہ تجویز بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران دی گئی جس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔
اجلاس میں ورچوئل ایسٹس بل 2025 پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس بل کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ضابطے میں لانا ہے تاکہ منی لانڈرنگ، دہشتگردی کی مالی معاونت اور دیگر غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
- Advertisement -
اجلاس کے دوران کمیٹی نے رائے دی کہ چونکہ ورچوئل ایسٹس مالی نوعیت کا موضوع ہے اس لیے اس کا انتظام وزارتِ خزانہ کے تحت ہونا زیادہ مناسب ہوگا۔ کمیٹی نے مزید تجویز دی کہ مجوزہ اتھارٹی کے سربراہ کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال مقرر کی جائے جبکہ امیدوار کے پاس ڈیجیٹل فنانس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کم از کم پانچ سال کا تجربہ ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے پہلے بورڈ اجلاس میں 2018 میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے لگائی گئی ورچوئل کرنسیوں پر پابندی ختم کرنے پر غور کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بورڈ نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی رسک مینجمنٹ، لائسنسنگ اور ریگولیٹری فریم ورک کے لیے ایک روڈمیپ کی تیاری پر بھی بات چیت کی تھی۔
واضح رہے کہ 2018 کے سرکلر میں اسٹیٹ بینک نے تمام مالیاتی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ ورچوئل کرنسیوں جیسے بٹ کوائن، لائٹ کوائن، پاک کوائن اور دیگر ڈیجیٹل ٹوکنز سے متعلقہ کاروباری سرگرمیوں سے گریز کریں، کیونکہ یہ پاکستان میں قانونی زر کی حیثیت نہیں رکھتے۔