MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پرآمن بلوچستان، اور 34ویں نیشنل گیمز

0 271

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

خصوصی رپورٹ: طارق خان ترین

یوں تو بلوچستان کو پسماندہ، پنپتی ہوئے نا ختم ہونے والی احساس محرومیوں سے پکارے جانے والی صوبہ جنہیں کرپشن، عدل و انصاف کا فقدان، تعلیمی رجحانات میں کمی کے ساتھ ساتھ قومیتی تعصب، شدت پسندی اور دہشتگردی جیسے موذی معاشرتی  مگر، مصنوعی امراض کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ایسے میں بلوچستان کے ان تمام تر پسماندگی کو دیکھتے ہوئے یہاں 34 National Games کا انعقاد کروانا اور پھر انہیں کامیاب کرانے کے لئے ایمرجنسی بنیادوں وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے احسن اقدامات اٹھانا بلوچستان میں مثبت تبدیلی کی طرف ایک اہم

ترین کاوش ہے جس کے دور رس نتائج نکلیں گے۔

نیشنل گیمز کے تاریخی پس منظر میں کو اگر دیکھا جائے یہ مختلف کھیلوں کا مجموعہ ہے جن کا انعقاد ایونٹ کی شکل میں ہوتا ہے۔ جس میں مختلف صوبے، فیڈریشنز کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مختلف اداروں کے ڈپارٹمنٹل ٹیمز کے کھلاڑی شامل ہوتے ہے جو ملک میں اپنے اداروں کے نام روشن کرتے ہے۔ 1924 میں پاکستان کی آزادی سے پہلے اس اولمپک گیمز کے حوالے سے تب کے پنجاب کے اولمپک ایسوسی ایشن کے پہلے سیکریٹری حسن نے اس ایونٹ کی بنیاد رکھی، جہاں اس ایسوسی ایشن باڈی کے پہلے صدر لیفٹیننٹ کرنل گیرٹ

بنے جو اس وقت کے گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل تھے۔ لاہور، کولکتہ دہلی کے ساتھ اس وقت جب پنجاب تقسیم نہیں ہوا تھا اسکے دارالخلافہ میں اس گیمز کا انعقاد کروایا گیا۔ ہر دو سال کے بعد اس ایونٹ کا انعقاد کیا جاتا تھا جب 1940 میں پہلی مرتبہ بھارتی شہر  ممبئ میں اس گیم کو شروع کیا جارہا تھا تب اس کا نام انڈیان اولمپک گیمز سے تبدیل کر کے نیشنل گیمز

رکھا گیا۔

سن 1947ء میں جب پاکستان کو اللہ تعالی نے وجود بخشا تو 1948 میں پہلی مرتبہ 23 اپریل سے لیکر 25 اپریل تک کراچی کے پولو گراونڈ میں پاکستان اولمپک ایسوسی نے نیشنل گیمز کے ایونٹ کو منعقد کروایا، یاد رہے کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پاکستان کے تمام کھیلوں کا ایک اہم ترین ادارہ سمجھا جاتا تھا جب تک کہ 1962 میں پاکستان سپورٹس بورڈ بنا۔ اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے یے کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے پہلے Pattern in Chief قائد اعظم محمد علی جناح خود بنے تھے۔

- Advertisement -

قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلی نیشنل گیمز کے افتتاح کے موقع پر اپنے زریں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“For sound minds we should have sound bodies and that is why nations the world over attach so much importance to bodybuilding and physical culture. The First Pakistan Olympic Games should act as an incentive to all Pakistan nationals to emulate the Olympic motto: “Citius, Altius, Fortius” i.e. “Faster, Higher and Stronger”. I wish the organizers of the games and all competitors the best of luck. Build up Pakistan higher, firmer and stronger.”


اس وقت کے پہلے منعقدہ ایونٹ میں کم و بیش 140 اتھلیٹس نے حصہ لیا جہاں track & field, باسکٹ بال، باکسنگ، سائکلنگ، والی بال، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ کے شعبہ کھیل میں مقابلے کرائے گئے اور مقابلوں میں پنجاب کی جیت سرفہرست رہی۔ 1986 میں پہلی مرتبہ کوئٹہ میں نیشنل گیمز کا آغاز کیا گیا، پھر اس کے بعد 1995 میں اور پھر 2004 میں نیشنل گیمز کا انعقاد کیا گیا جسکے بعد یعنی 21 مئی 2023 تک بلوچستان میں کھیلوں کی سرگرمیاں، سیاست تفرقے، قوم پرستوں کے تعصب، شدت پسندی اور دہشتگردی گردی کے نظر ہوئے۔

اسی لئے طویل عرصے کے بعد بلوچستان جیسے صوبے میں 34ویں نیشنل گیمز کا انعقاد ہونا بلوچستان کے باسیوں کے لئے ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا ہے جس سے بلوچستان کے جوان بھرپور فائدہ اٹھانے کے خواہشمند ہے۔ بلوچستان میں جوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنا ایک انتہائی طور پر ضروری ہے، جہاں نوجوان بے روزگاری، غربت، بھوک و افلاس سے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہو وہاں یہ عین ممکن ہے کہ یہی نوجوان منشیات، اور بے راہروی کے شکار بن کر معاشرے کی تعمیر کے بجائے تخریب کا سبب بنے جنہیں روکنے کے لئے حکومت کو نیشنل گیمز سے ہٹ کر دیگر مزید سپورٹس ایونٹس منعقد کرنے چاہیے۔ بلوچستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد آبادی کے تناسب سے 1.6 فیصد یعنی جون 2022 تک دو لاکھ اسی ہزار ہے۔ جن میں عمر 20 سال سے لیکر 40 سال تک کے 80 فیصد افراد شامل ہے۔ عادی افراد میں چرس، ہیروئین، افیوم، شیشہ وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

تقریبا 90 فیصد مواد افغانستان کے صوبے ہلمند سے چمن بارڈر کے زریعے بلوچستان میں سمگل کئے جاتے ہیں جنہیں روکنے کے لئے حکومتی کوششیں نا ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹیز، عوام الناس، معاشرے کے دانشور، قبائلی مشران اور علماء کو اپنا ایک اہم کردار ادا کرلینا چاہئیے تاکہ صوبے سے منشیات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ مگر ضروری امر یہی ہوگی کہ حکومت کو صوبائی اور علاقائی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات کئے جانے چاہئیں۔

کھیل کے شعبہ کے اس مخدوش صورتحال کا سہرا جناب عبدالخالق ہزارہ جو کہ بہت بڑے عرصے سے سپورٹس منسٹر ہے بلوچستان میں کے سر جاتا ہے۔ صوبائی منسٹر کھیل میڈیا میں طرح طرح کے تنازعات کا شکار ہوچکے ہے، ابھی حال ہی میں جوانوں کی طرف سے پریس کانفرنس کی گئی جس میں نوکریوں کے بندر بانٹ کا الزام لگایا گیا کہ موصوف نے نوکریوں یا تو بیچ ڈالا ہے یاپھر انہوں نے تعیناتی ارڈر صرف اپنی ہی کمیونٹی کے افراد میں تقسیم کردئے ہے۔ اسی طرح سے الزامات کا یہ سلسلہ چلتے ہوئے بین الاقوامی سپورٹس مقابلوں کے لئے بھی اپنے ہی کمیونٹی کے لوگوں کو نوازتے ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کا نوجوان طبقہ مایوسیوں کے دلدل میں پس رہا ہے۔ لہذا حکومت بلوچستان کو ھوش کے ناخن لینے چاہئیے اور

جوانوں کو مایوس کرنے کے بجائے انہیں اپنی ذہانت کے استعمال کا موقع فراہم کرے۔

نیشنل گیمز ایونٹ میں بہت سے کھیل شامل ہے جنسے بلوچستان کے عوام کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں سے بھی عوام لطف اندوز ہو رہی ہے۔  کھیلوں کی فہرست میں ہاکی، فٹبال، بیس بال، ہینڈبال، کبڈی، رگبی، سافٹ بال، ٹگ آف وار، والی بال، بیڈ منٹن، باکسنگ، فینسنگ، جمناسٹک، تیراندازی، اتھلیٹکس، باسکٹ بال، تن سازی، سائکلنگ، گالف، جوڈو کراٹے، سکواش، ٹیبل ٹینس، ٹیکوانڈو، ٹینس، ویٹ لفٹنگ، ریسلنگ، ووشو، روئنگ، شوٹنگ، سوئمنگ، تھروبال، کرکٹ، فٹسال کے ساتھ دیگر کھیل شامل ہے۔ ہاکی کے مقابلے 12 سے 19 مئی تک نوب غوث بخش ہاکی سٹیڈیم کوئٹہ میں کھیلے گئے، فٹبال کے مقابلے 13مئی سے ایوباسٹیڈیم،بیس بال 15مئی سے بیوٹمز کرکٹ گراؤنڈ کوئٹہ، ہینڈ بال 13 مئی سے ایوب اسٹیڈیم، کبڈی 15مئی سے وویمن ہال ایوب اسٹیڈیم،رگبی کے مقابلے 16 مئی سے بیوٹمز،سافٹ بال 15مئی سے بیوٹمز،ٹگ آف وارکے مقابلے 16 مئی سے ایوباسٹیڈیم،والی بال کے مقابلے 23 سے 27 مئی تک ایوب اسٹیڈیم، بیڈمنٹن کے مقابلے 15مئی سے ایوب اسٹیڈیم،باکسنگ 13 سے ایوب اسٹیڈیم،فینسنگ کے مقابلے 16مئی سے بیوٹمز،جمناسٹک کے مقابلے 18 مئی سے 20 مئی تک بیوٹمز،تیراندازی کے مقابلے 24 مئی سے تعمیر نو کالج کوئٹہ،اتھیلیٹکس 24مئی سے ایو ب اسٹیڈیم، باسکٹ بال کے مقابلے 23مئی سے ایوب اسٹیڈیم،تن سازی کے مقابلے 23 مئی سے ایو ب اسٹیڈیم،سائیکلنگ کے مقابلے 24 مئی سے 28 مئی تک کوئٹہ پشین روڈ، گالف کے مقابلے 24 مئی سے 28 مئی تک گالف کلب کوئٹہ کینٹ،جوڈوکے مقابلے 23 مئی سے 26 مئی تک بیوٹمز،کراٹے کے مقابلے 23 سے 27مئی تک سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی کوئٹہ، سکواش کے مقابلے 23 سے 29 مئی تک ایو ب اسٹیڈیم، ٹیبل ٹینس 25 سے 29 مئی تک ایو ب اسٹیڈیم،تیکوانڈو کے مقابلے 23 سے 29 مئی تک بیوٹمز کوئٹہ،ٹینس کے مقابلے 23 سے 29 مئی تک ایوب اسٹیڈیم،ویٹ لفنگ کے مقابلے 26 سے 29 مئی تک ایوب اسٹیڈیم، ریسلنگ کے مقابلے 26 سے 28 مئی تک بوائے سکاؤٹس کوئٹہ، ووشو کے مقابلے24 سے 28مئی تک ایوب اسٹیڈیم،روئنگ کے مقابلے 14 سے 18 مئی تک اسلام آباد،شوٹنگ کے مقابلے 13 سے 19 مئی تک پنجاب کے ضلع جہلم،سوئمنگ کے مقابلے 26سے 28مئی تک لاہور میں ہوں گے۔جبکہ اس دوران 23 اور 25 مئی کو تھروبال، وویمن کرکٹ،فٹ سال اور کینوئے اینڈ کیاک کے نمائشی میچ کوئٹہ میں کھیلے جائیں گے جس میں بین الاقوامی کھلاڑی بھی شریک ہوں گے۔ دوسری جانب قومی کھیلوں کے دوران فول پروف سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں ایوب اسپورٹس کمپلیکس کے اندر اور باہر سمیت شہر کے اہم مقامات اور ایوب اسپورٹس کمپلیکس جانے والے راستوں پرڈھائی ہزار پولیس اور ایف سی اہلکار تعینات کیے جائینگے جبکہ پاک فوج کوا سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے ڈی جی سپورٹس بلوچستان درا بلوچ کا کہنا ہے کہ 19 سال بعد کوئٹہ میں قومی کھیلوں کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں ملک بھر سے مختلف محکموں اور ایسوسی ایشنز کی 14 ٹیمیں شریک ہیں کھلاڑیوں اور آفیشلز کی رہائش اور سیکورٹی کیلئے تمامانتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔

کھیلوں کے مناسبت سے بلوچستان میں پروجیکٹ پاکستان کے تحت صوبے کے مختلف علاقوں میں کرکٹ، فٹ بال اور کبڈی کے میچز کا اہتمام کیا گیا  جس سے نوجوانوں کو بڑی تعداد میں شائقین کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور  مظاہرہ کرنے کا موقع ملا ۔ یہ صحت مند تفریحی سرگرمیاں پیغام پاکستان/ منزل بلوچستان اقدام کا حصہ ہیں ۔کیچ، چاغی، بارکھان، موسیٰ خیل، سبی اور ہرنائی سمیت مختلف شہروں میں مجموعی طور پر 39 کرکٹ میچز کا انعقاد کیا گیا جس سے کھیلوں کے  شائقین  کو تفریح  اور دلچسپ مقابلے دیکھنے کے مواقع ملے۔ضلع پنجگور ،ہرنائی ،نوشکی اور دکی میں فٹ بال کے 23میچز کا انعقاد ہوا ،فٹ بال میچز میں پرجوش شائقین نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ،سبی میں ایک کبڈی میچ کا انعقاد کیا گیا جس میں شائقین نے نوجوان ٹیلنٹ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور ان کی صحت مند سرگرمیوں میں  شمولیت کو سراہا۔ اسی سلسلے میں 14تقریری مقابلوں کا بھی انعقاد ہواجن میں 2000 کے قریب شرکاءنے شرکت کی ،تقریری مقابلے لسبیلہ، کیچ ،حب، نوشکی  اور چاغی میں منعقد ہوئے ،بلوچستان میں امن اورمعاشی ترقی پر اسلامک ریسرچ انسٹیٹوٹ میں دوروزہ انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ،خاران، نوشکی، ہرنائی اور سبی میں شرکا نے ”میرا آئین میری آزادی کا ضامن‘‘ کے عنوان پر  ہونے والے سیمینار ز میں بڑی تعداد میں   شرکت کی،سبی یوتھ فیسٹول کا انعقاد کیا گیا جس میں 250کے قریب شرکاءشریک رہے ،کیچ میں آرٹ کی نمائش کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف فن پاروں کی نمائش کی گئی جس میں لوگوں نے بھی نمایاں شرکت کی ۔طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے لسبیلہ میں مقامی لوگوں کے لیے تین میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے۔واشک اور چمن میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں  کی قربانیوں اور خدمات کو سراہنے اور اظہار یکجہتی کے لیے مقامی لوگوں کی جانب سے دو ریلیاں نکالی گئیں۔

قارئین کرام بلوچستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہماری اجتماعی زمہ داری ہے کہ صوبے کے ہر محاذ پر ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا ایک موثر کردار ادا کرے، جب تک کہ ہم انفرادیت کے خول سے نہیں نکلیں گے تب تک بلوچستان کی ترقی خواب کے مترادف ہے۔ بلوچستان سے احساس محرومیوں کا خاتمہ، غربت کا خاتمہ، یہاں تک کہ ہر طرح سے پسماندگی کا خاتمہ میرے اور اپ کے اجتماعی سوچ پر منحصر ہے اگر آج ہی بلوچستان کے باسی اپنی سوچ کا زاویہ منفی پروپیگنڈوں، قوم پرستانہ سیاست، تفرقاتی سرداری و جاگیرداری شکنجوں سے پاک و شفاف کرینگے تو یقین مانئے صوبے کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی ترقی ممکن ہے۔ ہمیں حقیقی معنوں میں اسلامی شعائر کی اتباع کرنے کی ضرورت ہے جس میں انسان کی فلاح و بہبود کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ائیں مل کر بلوچستان کو اس گو نا گو مسائل سے نکال باہر کرے ہمت کے ساتھ، بھائی چارے کے ساتھ اور قومی حمیت کے ساتھ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.