اپنی بندوق کی نوکیں نیچے کرلو، ہم نے چوڑیاں نہیں پہنیں کہ کوئی بلوچستان کو کیک کی طرح کاٹ دے، اسد بلوچ
کوئٹہ (مسائل نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کا کوئٹہ میں جلسہ کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رہنما اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ان حالات کی ذمے دار وہ قوتیں ہیں جو انسانیت کو نہیں مانتیں، پاکستان کے آئین نے ہمیں جو حقوق دیے ہیں اس کے تحت بلوچستان کے عوام کو حقوق دینا ہوں گے۔ ہمارے کندوں کو کمزور سمجھتے ہو، ہمارے عوام کو آپس میں لڑا کر ، بلوچستان میں ہر قبیلے کو آپس میں لڑایا گیا، جب انصاف نہیں ہوگا ان پہاڑوں کے درمیان جو لوگ اپنی زندگیاں تکالیف میں گزار رہے ہیں ان سے آپ کیا توقعات رکھ سکتے ہیں۔ ایک چرواہا اپنی بکریوں کیساتھ جب پہاڑوں پر جائے تو اسے کوئی خوف محسوس نہ ہو۔ بلوچستان میں ہر پانچ ، دس قدم کے فاصلے پر چیک پوسٹیں ہیں، جہاں سے گزرتے ہوئے پنجاب اور خیبرپختونخوا سے آنے والا مقامی لوگوں سے پوچھتا ہے کہ کون ہو، کہاں سے آرہے ہو، کہاں جارہے ہو۔ بہت سی چیک پوسٹوں پر تو ہماری ماﺅں بہنوں کو گاڑیوں سے اتار کر تلاشی لی جاتی ہے، اس طرح تو نوآبادیاتی دور میں بھی نہیں ہوا جو اس دور میں بلوچستان میں لوگوں کیساتھ کیا جارہا ہے۔ پاک ایران بارڈر پر کاروبار کرنے والے لوگوں کو روک دیا گیا ہے، کہا جاتا ہے کہ رجسٹریشن کرواﺅ، رجسٹریشن کے بعد صرف گنتی کی گاڑیوں کو چھوڑا جاتا ہے، باقی لائن میں مہینوں انتظار کرتے رہتے ہیں جس سے روزگار متاثر ہور ہا ہے۔ بلوچستان میں لوگوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے جہاں نہ پینے کا صاف پانی ہے، نہ بجلی اور نہ ہی گیس جبکہ بلوچستان سے نکلی ہوئی گیس پورے پاکستان کو فراہم کی جاتی ہے۔ سی پیک کے وارث گوادر کے عوام کو پرامن جدوجہد کرنے پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، اپنی بندوق کی نوکیں نیچے کرلو، عظیم بلوچستان کے غیور اور غیرت مند عوام کو امن اور سکون سے جینے دو۔ محمود خان اچکزئی نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات نہیں کی گئی تو ہم بلوچستان کو کیک کی طرح کاٹیں گے، ہم نے چوڑیاں نہیں پہنیں کہ آپ کیک کی طرح کاٹیں گے، افسوس خان عبدالصمد خان کے بیٹے کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ بلوچستان کے غیور عوام ایک ہوکر ہم بھی مظلوم ہیں، آپ بھی مظلوم ہیں ، ہم ایک ہوکر اسلام آباد سے اپنے حقوق لے کر انصاف کی بات کرتے۔ بلوچ اور پشتون دشمنی کو مسترد کرتے ہیں، چند سیٹوں کیلئے بلوچ پشتون تنازع کو ہوا دی جارہی ہے۔ پشتون بھائی بلوچستان کے جس علاقے میں بھی ہیں وہ سر زمین ان کی اور بلوچ جہاں ہیں وہ سرزمین ان کی ہے، دونوں کو مل کر بلوچستان کو خوبصورت بنانا چاہیے۔