صوبے کا مالی خسارہ 1500 ارب روپے ہے، سالانہ صرف 100 ارب روپے ملتی ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ، گوادر (مسائل نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کا مالی خسارہ 1500ارب روپے ہے، ترقیاتی مد میں سالانہ 100ارب ہوتے ہیں جن سے صوبے بھر میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مشکل درپیش ہوتی ہے،ماہی گیروں کو لیبر کا درجہ دے دیا گیا ہے، ماہی گیروں کے لئے ہیلتھ کارڈ کا اجرائ، انجن اور کشیاں فراہم کی جائیں گی، ایران سے گوادر کے لئے 100میگا واٹ بجلی کی فراہمی جلد شروع ہوگی ۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو گوادر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ میں،جام کمال یا کوئی اور وزیراعلیٰ ہو ترقیاتی منصوبے کے پیسے ہمارے ذاتی نہیں ہیں ترقیاتی منصوبے علاقوں اور صوبے کی ترقی کے لئے ہیں کبھی ایسا نہیں کیا کہ کسی علاقے کو منصوبے کو تاخیر کا شکار بنا یا جائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام ترقیاتی کام کروانا ہے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقم بلوچستان کے عوام کی ہے اگر پیسے خرچ ہو ہے ہیں تو منصوبے کو تاخیر کا شکار بنائے بغیر مکمل ہونا چاہےے ۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر کی اطلاع نہیں ہے تاہم جن منصوبوں کی نشاندہی ہوئی ہے انکی تکمیل کے لئے احکامات جاری کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے مالی وسائل محدود ہونے کی وجہ سے بعض بڑے منصوبوں کی رفتار میں کمی آئی ہے صوبائی حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ بہت بڑی بڑی اسکیمات کو مکمل کرے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں اس وقت 1500ارب روپے کا خسارہ ہے سالانہ صرف 100ارب روپے ترقیاتی مد میں ملتے ہیں ہمارا تھرو فارورڈ بہت زیادہ ہے آنے والے دنوں میں چیزیں مزید بہتر ہونگی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر کے ماہی گیروں کا مطالبہ تھا کہ انہیں مزدور کا درجہ دیا جائے جو صوبائی حکومت نے دے دیا ہے اب انکے حقوق لیبر قوانین کے تحت محفوظ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایران سے بجلی کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے ، ماہی گیروں کے لئے ہیلتھ کارڈ جاری کئے جارہے ہیں، انہیں انجن اور کشتیاں بھی دی جائیں گی صوبائی حکومت گوادر کے لئے اقدامات کر رہی ہے مستقبل میں چیزیں بہتر نظرآئیں گی ۔
- Advertisement -