MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اسامہ ستی قتل کیس..مجرمان نے سزا کا فیصلہ چیلنج کر دیا

0 207

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سلام آباد (مسائل نیوز) اسامہ ستی قتل کیس میں مجرم قرار دئیے گئے پولیس اہلکاروں نے سزا کا فیصلہ چیلنج کر دیا۔پولیس اہلکاروں کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا 2 رکنی بینچ آج سماعت کرے گا۔کیس میں سزائے موت پانے والے دو پولیس اہلکاروں نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔درخواست میں پولیس اہلکار افتخار احمد اور محمد مصطفیٰ کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔
درخواست میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانون سے متصادم ہے لہذا کالعدم قرار دیا جائے۔ٹرائل کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کو ختم کرکے مقدمے سے بری کیا جائے۔درخواست میں اپیل کی گئی کہ اسامہ ستی کیس میں ٹرائل کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کو ختم کر کے مقدمے سے بری کیا جائے،پولیس اہلکاروں کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل دو رکنی بینچ آج سماعت کرے گا۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے اسامہ ستی قتل کیس میں دو ملزمان کو سزائے موت اور تین ملزمان کو عمرقید کی سزاکا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ایڈیشنل سیشن جج زیباچوہدری نے 44 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔فیصلہ میں کہا گیا کہ ملزم مدثر مختیار نے گولی نہیں چلائی، ملزم شکیل احمد گاڑی چلارہاتھا۔ ملزم سعید احمد نے مشین گن سے ایک فائر کیا۔
ملزم افتخار نے 9ایم ایم سے 4 اور ملزم مصطفیٰ نے ایس ایم جی سے 17 فائر کیے۔پوسٹمارٹم کے مطابق اسامہ ستی کی موت زخموں اور تقریباً 2 لیٹر خون کے ضائع ہونے سے ہوئی۔اسامہ ستی کے سر، بازو اور جسم کے مختلف حصوں پر 11 گولیوں کے زخم تھے۔مقتول کے والد کے مطابق اسامہ ستی کی ایک دن قبل پانچوں ملزمان سے تلخ کلامی ہوئی۔ مقتول کے والد کے مطابق پانچوں ملزمان نے اسامہ ستی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
واقع کے چشم دید گواہ کے مطابق سرینگر ہائی وے پر پولیس کی گاڑی نے چھوٹی گاڑی کو روک کر گولیاں چلائیں۔فورینسک کے مطابق 17 ایس ایم جی مصطفیٰ، ایک ایس ایم جی سعید اور چار نائن ایم ایم کی گولیاں افتخار کے ساتھ میچ کیں۔ثبوتوں سے ظاہر ہوتاہیملزمان نے جان بوجھ کر اسامہ ستی پر گولیاں چلائیں۔ فورینسک کے مطابق اسامہ ستی کی گاڑی پر 19 گولیوں کے داخل اور 8 گولیوں کے خارج ہونے کے نشانات تھے۔
ملزمان کی جانب سے 22 فائر کیے گئے لیکن ایک بھی اسامہ ستی کی گاڑی کے ٹائروں کو نہیں لگا۔ملزمان نے اسامہ ستی کو ہسپتال لیکر جانیکی بجائے لاش کئی وقت سڑک پر رکھیرکھی۔15 نے بھی ریسکیو 1122 کو جائے وقوعہ کا غلط پتہ بتایا، ایمبولینس کچھ وقت بعد واپس چلی گئی۔ثبوتوں کی بنیاد پر مصطفیٰ اور افتخار کو سزائے موت کا حکم دیاجاتاہے۔ثبوتوں کی بنیاد پر مدثر، شکیل اور سعید کو عمرقیدکی سزا سنائی جاتی ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.