روس سے سستے تیل کی خریداری کا معاملہ
اسلام آباد (مسائل نیوز) وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک کا کہنا ہے کہ روس سے 60 روز سے مذاکرات چل رہے ہیں۔روس سے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔انہوں نے کہا کہ روس سے تمام معاملات مارچ سے پہلے طے ہو جائیں گی۔روس نے یقین دہانی کروائی کہ 20 سے 21 دن ٹریول ٹائم ہے۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ بارٹر ڈیل ہیں، اس پر پابندی لگی ہوئی ہے۔
تیل کی مصنوعات کی قیمت زیادہ ہے ، تبادلے کے لیے زیادہ اشیا نہیں ہے۔پاکستان پر پابندی نہیں لگنے دیں گے۔ایل پی جی بارٹر ڈیل کے ذریعے ایران سے آرہی ہیں۔خیال رہے کہ روس نے پاکستان کو مارچ 2023کے آخر تک خام تیل برآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان اور روس کے تجارت، معیشت ، سائنس اور تکنیکی تعاون کے بارے میں بین الحکومتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس ہوا۔
اجلاس کی سربراہی وزیر توانائی نکولے شلگینوو اور پاکستان کے وفاقی وزیراقتصادی امورسردارایازصادق نے کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے وزرا سمیت اعلیٰ سطح وفد نے شرکت کی۔ دونوں فریقوں نے ایک مضبوط اور جامع اقتصادی تعلقات کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان 3 معاہدے طے پائے گئے جس میں کسٹم معاملات میں تعاون اور باہمی مدد سے متعلق معاہدہ، ایئر ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون پر اتفاق کیا، جس میں ڈیٹا ایکسچینج کے تعاون بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ پاک روس ایروناٹیکل مصنوعات کی فضائی قابلیت پرکام کرنے کا معاہدہ بھی طے پاگیا ہے۔پاکستانی وفد کی جانب سے کہا گیا کہ اس طرح کے تعلقات سے دونوں ممالک کے ساتھ خطے کی اقتصادی تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ذرائع ابلاغ، ٹرانسپورٹ، اعلیٰ تعلیم، صنعت، ریلوے، فنانس، بینک کے شعبے، کسٹم، زراعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط اور بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ تیل اورگیس کے تجارتی لین دین کا ایسا ڈھانچہ بنائیں کہ دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچے جس سے پاکستان اور روس کو اقتصادی فائدہ حاصل ہوگا، یہ عمل مارچ 2023 میں مکمل کیا جائے گا۔دونوں فریقوں نے توانائی کے تعاون کو مضبوط بنانے، تجارت کو بڑھانے اور اس کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو اسٹریٹجک اور تجارتی شرائط کی بنیاد پر وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔