لاہور (مسائل نیوز) تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آج لاہور ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی،وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کیا گیا تو خارجہ تعلقات شدید متاثر ہوں گے۔ فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر کہا کہ یہ حیرت انگیز ہے صرف چند ہفتے پہلے توشہ خانہ کی گھڑی حکومت کا ٹاپ ایجنڈا تھا،اب اس مؤقف سے فراراس لئے کہ اپنا کچا چٹھا کھلے گا؟
یادر ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو 7 فروری کو توشہ خانہ ریکارڈ کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنیوالی شخصیات کی تفصیلات فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس عاصم حفیظ نے درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ توشہ خانہ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کا بیان حلفی دیں کیسے یہ تحائف خفیہ ہیں؟ جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دئیے عدالت مطمئن ہوئی کہ تحائف خفیہ ہونے چاہییں تو پبلک کرنے کا حکم نہیں دے گی،عدالت نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ جواب میں لکھا گیا توشہ خانہ تحائف منظر عام پر آنے سے میڈیا ہائپ بن جاتی ہے۔
- Advertisement -
جسٹس عاصم حفیظ نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا میڈیا ہائپ ہی کی وجہ سے توشہ خانہ کے تحائف خفیہ رکھا جاتے ہیں؟اگر بی ایم ڈبلیو گاڑی کا تحفہ آتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے بدلے ایل این جی کا ٹھیکہ دیں تو کیا ہو گا؟ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کے وکیل کو توشہ خانہ کے ریکارڈ کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 فروری تک ملتوی کر دی۔ جبکہ گزشتہ سماعت پر لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ تحائف کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران قرار دیا کہ آئین میں بنیادی حقوق سے متعلق شق انیس کی رو سے توشہ خانہ کی تفصیلات بارے آگاہی کے عوام کا حق ہے اور شفافیت کا تقاضا بھی یہی ہے۔