پاکستان کے معاشی حالات پر امریکا کا ردِعمل آ گیا
اسلا م آباد(مسائل نیوز) امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے معاشی چیلنج سے واقف ہیں، اسے بہتر معاشی پوزیشن پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ترجمان امریکی وزارت خارجہ نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ میں کہا کہ جہاں ممکن ہو پاکستان کی سپورٹ کرتے ہیں۔جانتے ہیں پاکستان عالمی اقتصادی اداروں سے رابطے میں ہے۔پاکستان کو بہتر معاشی پوزیشن پر دیکھنا چاہتے ہیں،جہاں ممکن ہو پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں۔
دوطرفہ رابطوں پر ان معاملات میں بات چیت ہوتی ہے۔پاکستان کے ساتھ تکنیکی نکات پر بات چیت ہوتی ہے۔محکمہ خارجہ، خزانہ، وائٹ ہاوس اور دیگر بھی پاکستان کی میکرواکنامک استحکام پربات کرتے ہیں۔ امریکا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی بینک نے پاکستان کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی منظوری آئندہ مالی سال تک موخر کر دی۔
بتایا گیا تھا کہ ڈالر کو ترستی پاکستان معیشت رواں مالی سال مزید 1.1ارب ڈالر سے محروم ہو گئی۔معیشت کے استحکام کے پروگرام رائز کے لیے 45 کروڑ ڈالر ملنا تھے۔سستی توانائی کے پروگرام کے لیے 60 کروڑ ڈالر ملنا تھا۔عالمی بینک نے 1.1 ارب ڈالر کے پراجیکٹ کے لون موخر کر دئیے۔عالمی بینک کو حکومت کی معاشی حکمت عملی سے اختلاف ہے۔ عالمی بینک نے رائز ٹو اور پیس ٹو پراجیکٹ کے فنڈز روک دئیے۔
فنڈنگ آئندہ مالی سال میں کچھ معاشی اقدامات سے مشروط کر دی۔عالمی بینک نے شرط رکھی ہے کہ پاکستان کو امپورٹس پر اضافی ٹیکس کم کرنا ہوگا۔قبل ازیں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ آئی ایم ایف نے مذاکرات مطالبات پر پیشرفت سے مشروط کر دئیے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف کے سخت رویے سے پریشان ہے۔
پاکستان کو ڈالر ایکسچینج ریٹ فری فلوٹ کرانا چاہتا ہے۔ڈالر کے ایکسچینج ریٹ پر مصنوعی پابندی ختم کرانا چاہتا ہے۔ پاکستان کو پٹرولیم لیوی 855 ارب روپے جمع کرانے کا روڈ میپ دینا ہوگا۔قبل ازیں بتایا گیا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف کو اہداف میں نظر ثانی کے لیے قائل کرنے میں ناکام ہو گئی، آئی ایم ایف نے پاکستان سے اگلی قسط کے لیے مذاکرات سے پہلے اہداف مکمل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔