الیکشن کمیشن نے مختلف پارٹی رہنماؤں کے بیانات کا نوٹس لے لیا
اسلام آباد (مسائل نیوز) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مختلف پارٹی رہنماؤں کے میڈیا پر چلنے والے بیانات کا نوٹس لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں، بلدیاتی ایکٹ سیکشن 10کے تحت ہرضلع کی لوکل کونسلز کی تعداد مہیا کرنا صوبائی حکومت کا استحقاق ہے، حکومت سندھ نے 31 دسمبر 2021ء کے نوٹی فکیشن میں لوکل کونسلز کی تعداد مہیا کی، الیکشن کمیشن صونائی حکومت کی جانب سے مہیا کردہ تعداد کے تحت ہی حلقہ بندیاں کرنے کا پابند تھا اور الیکشن کمیشن نے صاف و شفاف اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حلقہ بندیاں کیں۔
اپنے بیان میں ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اسلام اباد میں وفاقی حکومت نے الیکشن کے دوران یونین کونسلز کی تعداد 101سے بڑھا کر 125 کردی، وفاقی حکومت الیکشن شیڈول کے بعد یونین کونسلز کی تعداد میں رد و بدل نہیں کرسکتی تھی، اس لیے اسلام آباد بلدیاتی انتخابات پر الیکشن کمیشن نے وقت پر الیکشن ہونے کا آرڈرپاس کیا۔
ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کامعاملہ عدالت میں زیرسماعت رہا، الیکشن کمیشن 7 سے 10دن میں اسلام آباد میں الیکشن کیلئے تیار تھا، اس لیے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں، رانا ثنااللہ نے جو بیان دیا وہ غلط اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے، الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں احسن طریقے سے اداکررہا ہے۔
- Advertisement -
خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ حلقہ بندیوں کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی تھی، الیکشن کمیشن پہلے بھی حلقہ بندیوں پر اپنے ذمہ داری پوری نہیں کرسکا، ایم کیو ایم کا انتخابی عمل سے علیحدہ ہونا جسٹیفائیڈ ہے، ایم کیو ایم نے جو موقف اپنایا وہ سراہنے کے قابل ہے، تاہم انتخابی عمل سے ایم کیو ایم کے علیحدہ ہونے سے بلدیاتی انتخابات کی ساکھ متاثرہوگی اور افسوس ہے کراچی کی بڑی پارٹی انتخابات کے اس عمل سے علیحدہ ہوئی۔