MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

عملی تبدیلی میں ہی مساٸل کا حل ہے۔

0 397

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:عمران امین

یہ ایک اٹل حقیقت تھی کہ ملکہ وکٹوریہ کے دور میں انگریز سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔اب جبکہ ملکہ وکٹوریہ کو مرے ہوئے سو سال سے اُوپر ہو گئے ہیںاور برطانیہ کی عظیم سلطنت بھی آہستہ آہستہ بند مٹھی کی ریت کی طرح بکھر کر صرف برطانیہ تک محدود ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی سلطنت ختم کیسے ہوئی؟۔اس زوال کی بے شمار وجوہات میں سب سے بڑی وجہ گوروں کیٴٴ بلیو بکٴٴ میں درج مختلف شاہی افراد، وزرائ،سرکاری افسران اور مقامی اکابرین کے لیے پروٹوکول تھے۔پروٹوکول والے افراد جس شخص کو وفاداری اور حب الوطنی کا پروانہ جاری کرتے تھے، صرف وہی وفادار اور محب وطن سمجھا جاتا تھا۔باقی تمام مشکوک لوگوں کو کبھی بھی گرفتار کر کے کوئی بھی سزا سنائی جا سکتی تھی ۔پروٹوکول کی اس بہار دلفریب نے برطانیہ کے نہ ڈوبنے والے سورج کو تاریخ کے سیاہ سمندر میں غرق کر کے بجھا دیا۔برطانیہ نے تاریخ کے اس انصاف کے بعدچار بڑے فیصلے کیے۔پہلا فیصلہ۔

- Advertisement -

۔پروٹوکول کا خاتمہ،دوسرا فیصلہ۔۔قانون کی حکمرانی،تیسرا فیصلہ۔۔حقیقی جمہوریت،چوتھا فیصلہ۔۔محب وطن اور انصاف پسند قیادت کا چنائو۔یہ وہ چار فیصلے تھے کہ جن کی وجہ سے تاج برطانیہ صرف برطانیہ تک محدود ہونے کے باوجود آج دنیا کی پانچویں بڑی طاقت ہے۔ پنجاب میں منعقد کیے جانے والے بلدیاتی انتخابات کی تفصیلات جاری کی جا چکی ہیں اور ان میں کامیابی حاصل کرنے میں ہی پی ٹی آئی کی بقا ہے۔ پنجاب چونکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے لہذا یہاںکے انتخابات ہمیشہ سے پاکستان کی سیاست کی راہ متعین کرتے رہے ہیں۔ پورے ملک میں مہنگائی اور حکومتی بیڈ گورنس کی بے شمار مثالیں ہیں چنانچہ اس بنا پر عمران خان نے پنجاب پرپوری توجہ دینے کا پروگرام بنایا ہے کیونکہ خیبر پختونخواہ کے انتخابی نتائج سیاسی پنڈتوں کے لیے حیران کُن ہیں اگرچہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات میں اس صوبے سے دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس صوبے میں عوام الناس کی بھلائی کے لیے بہت سارا کام بھی کیا گیا مگر مہنگائی کے عفریت کے سامنے عوام نے گھٹنے ٹیک دئیے اور بھوکے پیٹ اور ننگ بدن عوام نے حکومتی جماعت پر واضح کر دیا کہ اگر عام انتخابات میں جیتنا ہے تو افلاس و غربت کے سیلاب کے آگے بند باندھنا ضروری ہے۔اس انتخابی مہم میں ناکام حکومتی وزرائ اور مصاحبین کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں اسد قیصر کا بھائی،شہرام ترکئی کا چچا،پرویز خٹک کا بیٹا،علی امین گنڈاپور کا بھائی،کامران بنگش کا بھائی،افتخار خان مہمند کا بیٹا اور دیگر شامل ہیں۔

ان کے علاوہ عمر ایوب، علی محمد خان،شہریار آفریدی،شبلی فراز اور دیگر حکومتی ارکان کو اپنے آبائی حلقوں میں اذیت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اگر ہم پچھلے چند سالوں میں ملک میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی بات کریں تو پتا چلتا ہے کہ عوام نے پی ٹی آئی کی معاشی ناکامیوں کا مزید بوجھ اُٹھانے سے انکار کر دیا ہے اور اکثریت یہ مانتی ہے کہ اس حکومت نے مہنگائی کے سیلاب کو روکنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔اگرچہ COVIDاور اب اُمی کرون کی لہر نے ساری دنیا کو متاثر کیا ہے حتیٰ کہ دنیا کےمضبوط اقتصادی ممالک بھی تاریخی مہنگائی کا شکار ہوئے اوروہاں کی عوام کے لیے وبائی امراض کے ساتھ جینا محال ہو گیا تھا مگر متاثرہ ممالک کے حکمرانوں نے اپنی مجبوریوں کو مناسب انداز میں عوام تک پہنچایا اور بہتر حکومتی اقدامات سے عوام کو ریلیف پیکج دیئے۔مگرافسوس کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کو ان امراض کی تباہ کاریوں سے مکمل آگاہی دینے میں ناکام رہی ،حالانکہ پاکستان بھی بد قسمتی سے ایسے ممالک میں شامل تھا جہاں ان وبائی امراض کی بد حالی کے براہ راست اثرات عوام تک پہنچے مگر نادان اور خوش فہم حکمرانوں کی ٹولی نے نہ حکومتی اخراجات کم کرنے کا سوچا اور نہ وزرائ کے پروٹوکول کو محدود کیا۔

عالمی موسمیاتی کانفرنس میں ایک بڑے وفد کا جانا،اس کی تازہ مثال ہے جہاں عوام کا پیسہ بے دریخ خرچ کیا گیا۔اس کے علاوہ پچھلے دنوںجب حکومت عوام کو ریلیف دینے کا سوچ رہی تھی تب بینکوں سے کہا گیا کہ ایک سو ارب روپیہ دیں۔بینکوں نے تقریباً دس فیصد مارک اپ پر آمادگی ظاہر کر دی۔مگر ہمارے کچھ نااہل حکومتی اہلکاروں کی بد نیتی کی وجہ سے وہ BID منسوخ کر دی گئی۔مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر انٹریسٹ ریٹ بڑھادیا گیا اور دوبارہ سے بینکوں سے وہی رقم تقریباً گیارہ فیصد پر لی گئی ۔ اندازاً ایک سال پہلے پاکستان کو عالمی منڈیوں سے ایل این جی چار ڈالر پر تین سے پانچ سال کے معاہدے پر مل رہی تھی مگر حکومت نے انکار کیا مگر بعد میں وہی گیس 17ڈالر اور 33ڈالر میں خریدی۔حالیہ دنوں میں جب مقامی آئل ریفائنریز میں فرنس آئل کی پیداوار جاری تھی تب فرانس آئل امپورٹ کیا گیا اور اتنی بڑی مقدار میں منگوایا گیاکہ ہماری سٹوریج کیپسٹی فُل ہو گئی تب مقامی ریفائنریز کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنی پیداوار کو بند کریں۔ اُوپر بیان کی گئی چند مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ اب عمران خان کو بھی برطانوی حکمرانوں کی طرح چند بڑے فیصلے کرنے ہوں گے جو اُس کے اقتدارکے ڈوبتے سورج کو پھر سے طلوع کر سکیں۔قوت ارادے کی ہوتی ہے،باتیں تو خان صاحب بہت عرصے سے کر رہے ہیں۔خان صاحب یادرکھیںٝلفظی تبدیلی کی بجائے عملی تبدیلی میں ہی موجودہ مسائل کا حل ہے۔ورنہ پھر نہ کہنا ٴٴہمیں خبر نہ ہوئی اور باغ اجڑ گیاٴٴ۔ آج پی ٹی آئی کی حکومت کو صوبے کے پی کے میں اپنی شکست کے اسباب جاننے کی ضرورت نہیں

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.