MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پیغام پاکستان

1 232

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
صوبہ بلوچستان میں تعلیمی سرگرمی میں ترقی کے لئے صوبائی اور عسکری قیادت نے پیغام پاکستان کے منصوبے کا آغاز کیا, قلم کے ذریعے دہشتگردی کے سر کو قلم کرنے کی تجویز کو ہزاروں اسلامی اسکالرز نے سراہا اور دستخط کیے ہیں،اس دوران انہوں نےعہد کیا کہ وہ جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، ہم آہنگی، باہمی احترام اور انصاف کے اصولوں پر مبنی معاشرے کے لیے کام کریں گے تاکہ پرامن ماحول کا قیام ممکن ہو
پیغام پاکستان اسلامی نظریاتی کونسل جیسا ادارہ ہے, آپ اپنی آسانی کے لئے پیغام پاکستان کو اسلامی نظریاتی کونسل کی زیلی تنظیم بھی کہہ سکتے ہیں, اس پلیٹ فارم کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد ملی پیغام پاکستان مذہبی آزادی سے متعلق آئینی شقوں کی توثیق کرتا ہے اور انہیں اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق قرار دیتا ہے۔ شہری حقوق, قانون اور اخلاقیات کی پاسداری, مساوات, بھائی چارہ, ثقافت, سیاست, سماجی, عقیدہ اور اقتصادی نکات کی مفصل تعلیم دیتا ہے جبکہ فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریے کو دوسروں پر مسلط کرنے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ افواج پاکستان کی مسلسل کوششوں کی بدولت پیغام پاکستان کے پلیٹ فارم کے تحت
759,426 طلباء کو ہائر سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ  کی سطح تک تعلیم دی گئی, پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کور ملک کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں 176 اسکول کا قیام کرچکے ہیں,  جن میں 58,298 طلبا زیور علم سے آراستہ ہو رہے ہیں, جن کا خاندانی پس منظر فوج سے نہیں ہے, پاکستان کوسٹ گارڈز   کے صوبہ سندھ کے دارحکومت کراچی میں 3 اسکولوں اور 2 کالجز ہیں۔ جن کل 4,313 طلباء زیر تعلیم ہیں, جس میں 65% طالب علم کا خاندائی پس منظر فوج کا نہیں ہے, آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج کے  200 ادارے ہیں جہاں  258,316 طلبا کو تعلیم دی جارہی ہے, جس میں 46 فیصد غیر فوجی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں,  آرمی پبلک سکول اینڈ کالج سسٹم کے آغاز 2005 میں ہوا, جہاں اب تک کل 81,655 اساتذہ کو تربیت دی جا چکی ہے۔ آرمی پبلک سکول اینڈ کالج سسٹم نے 23,000 سے زیادہ تدریسی اور غیر تدریسی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد دی ہے جن میں سے 95 فیصد فیکلٹی سویلین ہیں۔
پاکستان آرمی نے خصوصی تعلیم کے فروغ کے لئے 25 خصوصی تعلیم کے اسکول قائم کیے ہیں، جن میں 4000 طلبہ زیر تعلیم ہیں جن کا 80 فیصد غیر فوجی پس منظر سے ہے۔ خصوصی بچوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے کراچی اور اسلام آباد میں پاک بحریہ کی جانب سے تین اسکول چلائے جارہے ہیں جن میں کل 466 طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں سے 86 فیصد کا تعلق غیر فوجی پس منظر سے ہے۔
نوجوانوں کی ترقی میں اعلیٰ تعلیم کا تعاون چھ بڑی یونیورسٹیوں کے ذریعے حکومت پاکستان کی معاونت کے طور پر نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام میں مسلح افواج کا بڑا کردار ہے، یعنی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ،  نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز۔ نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز, نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی بحریہ یونیورسٹی اور ایئر یونیورسٹی۔ نسٹ یونیورسٹی عالمی درجہ بندی میں 358 ویں، ایشیا میں 74 ویں اور پاکستان میں پہلے نمبر پر ہے۔جہاں ہر سال 18,144 پاکستانی اور 531 غیر ملکی طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے, جس میں 85 فیصد غیر فوجی پس منظر سے ہیں,
نمل ایک مکمل خودمختار ادارہ ہے جس کے نو علاقائی کیمپس ہر سال 22,301 طلباء کو  تعلیم دے رہا ہے, جن میں 95 فیصد طلبا کا تعلق فوج سے نہیں ہے
نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز  اکتوبر 2015 میں قائم ہوئی, اس یونیورسٹی کو 45 ملٹری ہسپتالوں، 12 سنگل اسپیشلٹی انسٹی ٹیوٹ، 10 میڈیکل کالجز اور 4 نرسنگ کالجوں کے وسیع نیٹ ورک کی حمایت حاصل ہے، صحت کی دیکھ بھال کے اعتباڑ سے یہ یونیورسٹی ملک کا سب بڑا ادارہ  ہے۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ،
ہر سال 5,400 طلباء کو تعلیم فراہم کرتا ہے، جس میں 80 فیصد طلباء غیر فوجی پس منظر کے ہوتے ہیں۔
ملک بھر میں 3 ملٹری کالجز اور 32 کیڈٹ کالجز ہیں جس میں 6,280 طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے, جن میں 31 فیصد طلباء کا تعلق ملٹری سے نہیں ہے۔
2019 میں  آرمی میڈیکل کالج, راولپنڈی اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال, لاہور میڈیکل کالج کو پاکستان میڈیکل کمیشن  نے A+ گریڈنگ دی تھی۔
صوبہ بلوچستان, خیبر پختونخواہ  اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے شہداء اور غیر فوجی طبقے کے لیے آرمی فارمیشنز اور یونٹ کی سطح پر 79 ہاسٹل قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں مجموعی طور پر 3,868 طلباء کو جگہ دی جارہی ہے جن کا 35 فیصد غیر فوجی پس منظر سے ہے۔
راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی  29 اسکول اور کالج چلا رہی ہے جو 26,604 طلباء  کو  میٹرک تک تعلیم دیں جارہی ہے جن میں 4.65 فیصد فوجی اور 95.35 فیصد غیر فوجی گھرانے کے طلبا شامل ہیں.
فاٹا انضمام اگرچہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کا انضمام مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوا لیکن اس میں بھی پاک فوج کا کردار کافی اہم اور قابل تعریف رہا

- Advertisement -

قبائلی تنازعات اور بدامنی کے باعث بے گھر افراد کے لئے فرنٹیئر کور بلوچستان  اور ضلعی انتظامیہ نے تقریباً 2,000 مقامی خاندانوں کی دوبارہ آبادکاری کی, بے گھر افراد کو صوبہ بلوچستان کے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان میں دوبارہ آباد کیا,
پاک فوج نے جنوبی بلوچستان ترقیاتی پیکج کے تحت 1100 کلومیٹر سڑک کا جال بچھانے میں مدد دی, 0.15 ملین ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے اور پینے کے پانی کا ذخیرہ کرنے کی سہولت فراہم کی.
زیر تعمیر منصوبوں میں پاکستان آرمی کے روشن پاکستان پروجیکٹ کے تحت بجلی کی فراہمی 12% سے 57% اور ایل پی جی 61% سے 100% تک ممکن ہوگی
اس طرح ڈیجیٹل بلوچستان پروجیکٹ کے ذریعے ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیٹا کوریج 0.5 ملین سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے مؤاقع مہیسر آئیں گے.
قدرتی وسائل کے  استعمال سے 0.5 ملین سے زیادہ لوگوں کی بیروزگاری ختم ہوگی.

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] رہ گیا جب طیارہ ٹیک آف راہداری پر چلا گیا تھا۔ بیوی نے خاندانی تنازعات کی وجہ سے اپنے سعودی عرب میں مقیم شوہر کے ساتھ جھگڑے کا […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.