MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پشین بچاؤ تحریک کا مطالبات کے حق میں بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا جاری

1 254

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(مسائل نیوز) پشین بچاؤ تحریک کے رہنماگزشتہ سات روز سے جائز مطالبات کے حق میں بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور جب تک دھرنا کے شرکا کا مطالبے کا تسلیم نہیں کیا جاتا دھرنا جاری رہیگا دھرنا شرکاء نے واضح کیا جاتا ہے کہ ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہیں کہ گزشتہ 22 نومبر 2022 کو جو نوٹیفکیشن جاری ہو تھا جو کہ برشور توبہ کاکڑی کو پشین میں واپس ضم کیا تھا اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس کرکہ پشین کے سابق حثیت کو بحال کیا جائے جبکہ ضلع پشین کو دو ضلعوں میں تقسیم کا نوٹیفکیشن محررہ 22 نومبر 2022 کو بحال کیا جائے جبکہ متنازع نوٹیفکیشن محررہ 22 نومبر 2022 کو فی الفور منسوخ کیا جاے اور ضلع کے مستقبل کے حوالے سے یعنی انتظامی فیصلے و پشین کی تقسیم کے حوالے سے ضلع پشین کے عوام کے مشہورے کے بعد کیا جایان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی امیر نائب صدر محمد عیسی روشان،حاجی مہمند ترین،سردار معصوم ترین،قبائلی رہنما صمد خان خلجی سید ناصر شاہ پاکستان پیپلز پارٹی،سید حاجی بصیر آغا حرمزئی،عباس خان درانی درانی قومی اتحاد کے چیرمین،بلوچستان عوامی پارٹی کے حیات خان ترین،زمیندار ایکشن کمیٹی کے رکن ممبر حاجی عبد الجبار مجک اور دیگر نے کہا کہ ضلع پشین کے عوام اور پشین قبائل کے ساتھ زیادتی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاے گا اگر ہمارے ان جائز مطالبات کو تسلیم نیں ہو تو ھم آیندہ لاعمل کے حوالے سے سخت ترین احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہونگے۔قرین نے کہا کہ پشین بچاؤ تحریک دھرنے کے جائز مطالبات تسلیم کیا جائے اور پشین کے عوام کے عوام کا استحصال کسی صورت قبول نہیں کرینگے جبکہ پشین کے عوام کی اکثریت کی بنیاد برشور کو پیشن میں ضم کرنے کا غیر آئینی نوٹیفکیشن کو واپس کیا جائے پشثین کی آبادی 6 لاکھ سے زائد ہیں ایک وسیع و عریض رقبے کی بنیاد پر پر علیحدہ ضلع دیا جائے آبادی کا مزید جوبھ پیشن پرڈلنا ظلم ہیں پشین عوام کی حق تلفی ایک منظم انداز میں ہوتی ہے جبکہ نیے اضلاع پر پشین عوام کی تحفظات اور خوشات دور نیں کیے تو مشکلات پیدا ہوگی ڈراینگ روم کے بجائے پشین عوام کی مفادات کو مد نظر رکھ کر فیصلے کیا جاے۔مقررین نے ضلع پشین کی تقسیم پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع پشین کو گزشتہ دنوں تقیسم کر کہ (ضلع کاریزات اور ضلع پشین) کر دیاگیا ہیں واضح رہے کہ نیے ضلع پشین کی آبادی 6 لاکھ جبکہ ضلع کاریزات ایک لاکھ 37 ہزار پر مستمل ہیں ضلع پشین کو اس طرح غیر منصفانہ تقسیم سے پیشن کے عوام اور قبایل میں شدید تحفظات پیدا ہو ہیں جو ضلع پشین کی اس غیر منصفانہ تقسیم کی ہرگز اجازت نہیں دی گئی اور ہی ہمارے عوام کو اس غیر آئینی فیصلہ قابل قبول ہے حکومت نے اس قدر اپنے آپ کو متنازع بنالیا کی پہلے نوٹیفکیشن کے تحت ضلع کارزت میں برشور توبہ کاکڑی کو شامل کیا تھا دوسری روز نوٹیفکیشن میں ضلع پشین کی بہت بڑی آبادی میں برشور اور توبہ کاکڑی کو دوبارہ ضلع پشین میں ضم کیا گیا جو کہ آبادی اور وسائل کی تقسیم کے لحاظ سے سرا سر ناانصافی ہے حکومت کو فی الفور دوسرا نوٹیفکیشن واپس کرنا چاہیے اور اس عوام اقدام کو پشین کے عوام پر ہرگز عوام مسلط نیں کیا جاے چند افراد کو جمع کرکہ آپنی مرضی ومنشا سے نوٹیفکیشن غیر آئینی رات کی تارکی میں جاری کرکہ ضلع پشین کے غیو عوام کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں اور گزشتہ سات روز سے صوبائی اسمبلی کے سامنے پشین بچاؤ تحریک میں شامل سیاسی مذہبی جماعتوں کے علاؤ قبائلی عمائدین۔وکلا برادری انجمن تاجران کے مرکزی عہدیداران سمت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کر کہ اپنے وطن دوستی کا ثث پیش کیا کیا گیا ہیں اور دھرنے کا شرکاء کا ان کے جائز مطالبات کو مکمل طور پر حمایت کرنے کا اعلان کیا ہیں

- Advertisement -

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] (مسائل نیوز) بلوچستان اسمبلی نے کوئٹہ چمن،کراچی وکوئٹہ ژوب شاہراہوں کی تعمیراتی […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.