MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دن – 30 اگست

0 263

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے مختلف ممالک میں جبری گمشدگیوں  بشمول گرفتاری، حراست اور اغوا پر گہری تشویش کا اظہار کیا
جبری گمشدگیوں کے گواہوں یا لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو ہراساں کرنے، ناروا سلوک اور ڈرانے سے متعلق رپورٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اقوام متحدہ نے 21 دسمبر 2010 کو 30 ​​اگست کو جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دن قرار دینے کا فیصلہ کیا، جسے 2011 سے منایا جارہا ہے.
پاکستان دشمنوں نے کی جانب سے لاپتہ افراد کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا  تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو منفی انداز میں پیش کیا جا سکے اور عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان دوری پیدا کی جا سکے,قوم پرست اور دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے نوجوانوں کو منظم طریقے سے بین الاقوامی میدان میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ در حقیقت لاپتہ افراد کا مسئلہ ہندوستانی اور ملک دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے پاکستان کی مسلح افواج کو بدنام کرنے کی منظم سازش ہے, جس کا مقصد دنیا کی توجہ جموں کشمیر سے ہٹانے کی ہے, جہاں بھارتی ستم عروج پر ہے, مقبوضہ وادی ہندوستان انسانی حقوق کی پامالی کا بازار گرم کر رہا ہے اور اقوام عالم کے سلامتی کے ادا لب سے لب جوڑے خاموشی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں, وہاں روز انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں آنکھیں اور کان بند کیے سب اچھا ہے کا راگ الاپنے میں مصروف اور مطمئن نظر آتی ہیں.
پاکستان میں تو جبری گمشدگیوں کا جھوٹ بے نقاب ہوچکا ہے کیونکہ کتنے ہی ایسے دہشتگردوں کی شناخت ہو چکی ہے جنہیں جبری گمشدہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے.
ہندوستان کی حکومت اپنے فوجیوں کو استثنیٰ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ، ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ جیسے سخت قوانین کے ذریعے لوگوں کو مارنے،  گرفتار کرنے اور ہراساں کرنے کی کھلی چھوٹ دیتی ہے
لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن ( اے پی  ڈی پی ) کے مطابق، جموں و کشمیر میں، 1989-2021 کے درمیان، فوجی اور نیم فوجی دستوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں 8,000 جبری گمشدگیاں اور 70,000 اموات ہوئیں، جن میں ماورائے عدالت قتل یعنی جعلی انکاؤنٹرز شامل ہیں
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سیکڑوں لوگوں کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے گرفتار کیا جاتا ہے, اے آئی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ  سیکورٹی فورسز کو ناکافی ثبوت کے بدولت بھی گرفتاریاں کرنے کی اجازت دیتا ہے,2011 میں ریاستی انسانی حقوق کمیشن کی انکوائری نے اس بات کی تصدیق کی کہ جموں و کشمیر کے  4 اضلاع میں 2730 لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے 574 لاشوں کی شناخت لاپتہ مقامی لوگوں کے طور پر کی گئی۔حقوق کمیشن (ایس ایچ آر سی ) نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ جموں و کشمیر  میں 8000 سے زیادہ اجتماعی قبریں ہیں, ان قبروں کی موجودگی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خطے کے لاپتہ افراد میں سے بہت سے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناکر انہیں اجتماعی طور پر سپرد کیا گیا ہے, 2009 میں ایس ایچ آر سی نے رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا اور انکوائری کرنے کے لیے ایس ایس پی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں شمالی کشمیر کے تین اضلاع میں 37 مقامات پر 2730 نامعلوم لاشوں کی موجودگی کی تصدیق کی ۔
2009 میں انسانی حقوق اور انصاف پر بین الاقوامی عوامی ٹریبونل نے ایک  اور رپورٹ جاری کی جس میں کشمیر کے علاقے بارہمولہ، بانڈی پورہ اور کپواڑہ اضلاع میں 2,700 اجتماعی قبروں کے معتلق بتایا گیا, بین الاقوامی انسانی حقوق کے ٹریبونل آئی پی ٹی کے کی رپورٹ مطابق 2005 سے 2009 کے درمیان مقبوضہ کشمیر  کے 55 دیہاتوں اور تین اضلاع میں 2,700 گمنام قبروں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ہندوستان سرکار کو خصوصی ٹربیونل قائم کرنا چاہیے تاکہ اجتماعی بے نشان قبروں کے معاملے کی تحقیقات ہوسکے مگر بھارتی سورما سارے ثبوت اور حقائق کو ماننے سے مکمل انکاری ہیں,
جنیوا کنونشنز کے مندرجات کے مطابق کوئی ملک کسی بھی علاقے پر جبری مسلط نہیں ہوسکتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کشمیریوں کو خود ارادیت کا حق 1948 میں دے چکی ہے, جس کی بھارت کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی ہے,. یہاں یہ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہندوستان جبری گمشدگیوں کے  بین الاقوامی کنونشن پر 2007 میں  دستخط کر چکا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے مسلسل ہندوستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں ہونے والی “گمشدگیوں” اور جعلی “انکاؤنٹرز کی شفاف تحقیقات کرے۔ ہندوستان اقوام متحدہ کا رکن ہونے کے ناطے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں یعنی قرارداد 47 (1948)، 98 (1952) اور 122 (1957) پر عمل درآمد نہ کرنے پر بھی سزا کا مستحق ہے۔ انسانیت کے خلاف بھارت کے ڈھٹائی اور منظم جرائم بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری اور سیاسی حقوق (ائی سی سی پی آر ) کے انسانی حقوق کے معاہدے کے آرٹیکل 12 کی خلاف ورزی کرتے ہیں, جس کی بھارت نے ہی توثیق دی ہے, یعنی یہ بھارت کی ایک اور کھلی منافقت ہے جو کہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہے مگر پھر بھی اقوام عالم کے لب ساکت ہیں.
کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے لیکن اسے مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے ہماری حکومتوں کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے ہرانٹرنیشنل فورم پر نہایت مضبوطی سے اپنا موقف پیش کریں اور انسانی حقوق کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی اور بھارتی جارحیت کے خلاف ایسا عالمی دباؤ تخلیق کریں جس سے بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔ ہمیں چاہئے کہ بہترین اور موثر پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے قیامت خیز تشدد کی طرف عالمی توجہ مبذول کروانے کے لئے بھی مناسب حکمت عملی وضع کریں اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو بھی یکجہتی کا ایسا پیغام دیتے رہنا چاہئے جس سے ان کے پائے استقامت کو مزید تقویت ملے اور حوصلہ افزائی کے اس تاثر سے ان کی تحریک آزادی میں جب ضرورت ہو نئی روح پھونکی جا سکے۔ بیرون ملک رہنے والے کشمیری مسلمانوں کی طرف سے بھی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا قابل ستائش ہے۔  تنازعہ کشمیر پر اقوام عالم کی توجہ اس وقت تک مبذول کرواتے رہنا چاہئے جب تک کشمیریوں کو آزادی مل نہیں جاتی جو ان کا بنیادی حق ہے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.