لسانیت ، قومیت اور عصبیت کی وبا
تحریر،نور سحر
- Advertisement -
گزشتہ قوم پرستی کی لہر کیسی مسلمان کے لیے بھیانک خواب سے کم نہیں تھی ہر زی شعور مسلمان کے یہ مناظر تکلیف و رنج کا باعث ہے
لیکن یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ ہم اس رسول ﷺ کو مانے والے ہیں جنہوں نے مواخات مدینہ کی صورت میں دنیا کے لیے بھائی چارے کی بہترین مثال قائم کر دی جنہوں نے مسلمانوں کے لیے فرمایا کہ :مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اُس پر نہ خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قلب مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار
یہ الفاظ فرمائے: تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دُوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔‘‘ (آپ کسی بھی مسلمان بھائی کا نا خون بہا سکتے ہو، نا مال کھا سکتے ہو، اور نا ہی عزت خراب کر سکتے ہو)
گویا کہ اُخوت و محبت کی بنیاد ایمان اور اسلام ہے، یعنی سب کا ایک رب، ایک رسول، ایک کتاب، ایک قبلہ اور ایک دین ہے جو کہ دینِ اسلام ہے۔
لیکن جیسے جیسے اسلام کا نظریہ ہمارے ذہنوں میں کمزور ہوتا گیا ایسے ہی عصبیت وبا کی صورت میں مسلمانوں میں پھلتی چلی گئی،1924 میں خلافت
کے نظام کو بذریعہ جنگ ختم کرکے ہمیں جدید قومی ریاستوں میں تقسیم کرکہ اپنے اپنے جھنڈے پکڑا کر سرحدوں میں قید کردیا،اور عصبیت کے چند نعرے بھی دیئے گئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قوم پرستی کے لیے بلانے والوں کے لیے فرمایا:
دعوھا فانھا منتنة
ان نعروں کو چھوڑو بیشک یہ بدبودار نعرے ہیں۔ وہیں ہمیں بتایا گیا کہ آج سے تم انڈین ہو، تم پاکستانی ہو، تم عراقی ہو، تم سعودی ہو، تم فلسطینی ہو، تم ایرانی ہو، تم افغانی ہو، چاہے تمہارا عقیدہ ایک ہے لیکن تمہارے مفادات تمہارے قوم کے ساتھ جڑے رہنے چاہیے یعنی وہ فکر جو مسلمان کی بنیادی اساس تھی جس میں رسول اللہﷺ نے امت کو جسدِ واحد کہا تھا اس وحدت کو پارہ پارہ کردیا گیا یہاں پر ہی بس نہیں کی گئی بلکہ فر صوبوں کے نام پر بھی ہمیں تقسیم کیا گیا کہ تم سندھی ہو، تم پنجابی ہو، تم بلوچی ہو،تم پختون ہو، اور اب اس بھی آگے کی جاہلیت میں مسلمانوں کو لے جایا جا رہا ہے کہ زبان اور قبیلہ کے نام پر بھی امت کو فرقوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ اتنے زیادہ ان کفار نے جال بھن دیے ہیں کہ ان کو کاٹنا مشکل سے مشکل تر ہوتاجارہا ہے اور مسلمانوں میں علم کی کمی کی وجہ سے اس عصبیت کو بہت چرچہ مل رہا ہے اور لوگ ان قوم پرست رہنماوں کی باتوں میں پھنس رہے ہیں۔
یہاں ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو عصبیت کی اس وبا سے محفوظ کریں جو لسانیت ‘ قومیت یا علاقائیت کے خوشنما نعروں کے جال میں پھانسے جاچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دینِ حق کا فدائی اور شیدائی بنادے اور دنیا کے مختلف جھوٹے نعروں کی لعنت سے محفوظ فرمائے‘ آمین۔