MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پاکستانی معاشرے میں خواتین صحافیوں کو سپورٹ کرنا چاہتی ہوں،ریحام خان

یہ حکومت سلیکٹڈ تھی تو سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں جانا نہیں چاہیے تھا

0 598

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کراچی(ویب ڈیسک)نیوز کاسٹر ریحام خان  نے کہا ہے کہ اگر یہ حکومت سلیکٹڈ ہے تو مخالف جماعتوں کو پارلمینٹ میں بیٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا، عوامی حقوق کے لیے لانگ مارچ ضروری ہے مگر سیاسی جماعتیں سڑکوں پر ہوں گی تو ایوان میں کون بیٹھے گا۔کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ میں خبروں میں نہیں رہنا چاہتی مگر پھر بھی خبر بن جاتی ہوں، میں بنیادی طور پر صحافی ہوں اور صحافی ہمیشہ سچی کہانیوں کے پیچھے بھاگتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین صحافیوں کو سپورٹ کرنا چاہتی ہوں، کراچی پریس کلب کی سب سے بڑا مطالبہ تنخواہ ہے، پی ایف یو جے نے اس حوالے سے احتجاج بھی کیا جس کی میں مکمل حمایت کرتی ہوں۔ریحام خان نے کہا کہ آج پورے ملک کی تمام جماعتیں سڑکوں پر ہیں، سمجھ نہیں آرہا کہ جب سب سڑکوں پر ہے تو ایوانوں میں کون بیٹھا ہے، ان لوگوں سے پوچھنے اور سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے آپ کو منتخب کر کے ایوانوں میں تفریح کے لیے نہیں بھیجا، جس بات اور مسئلے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث ہونی چاہیے مگر نہیں ہوتی اور نمائندے اپنے پانچ سال پورے کر کے چلے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں ہم مالی خسارہ کا بھی ریکارڈ توڑنے جارہے ہیں، مہنگائی کو سیاسی بیان تک محدود نہیں ہونا چاہیے، انصاف کا تقاضہ ہے کہ یہ کسی ایک شخص کا قصور نہیں ہے بلکہ سب اس میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج میں صرف اس لیے تنقید کررہی ہوں کہ یہ لوگ ہمارے مسائل کی ترجمانی نہیں کرتے، میں جب سیاست میں آؤں گی تو دیکھا جائے گا، پہلے بھی میری کتاب کو شہرت پی ٹی آئی کے لوگوں نے ہی دی تھی، میں بنی گالا میں جب شامی کباب بنا رہی تھی تب بھی سیاست کر رہی تھی، میں ووٹ ڈالنے پر جب اتنی کنفیوز ہوں تو مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کونسی جماعت میں جانا ہے۔

- Advertisement -

ریحام خان کا کہنا تھا کہ آج کل سیاسی جماعتوں میں نظریات کا فقدان ہے، سب اقتدار کی جنگ میں لگے ہوئے ہیں، جب کسی اچھی سیاسی جماعت سے آفر آئے گی تب جوائن کروں گی، میری کتاب کا ہر صفحہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، جو لوگ چاہتے تھے کہ یہ کتاب الیکشن سے پہلے نہ آئے پہلی والی کتاب پڑھ لیں گے تو دوسری کتاب کے بارے میں سوچا جائے گا۔

اپنی کتاب کے بارے میں ریحام خان نے کہا کہ ’یہ میری کہانی تھی میں نے اپنی زبانی سنائی، میرے ساتھ زندگی میں بہت سارے حادثات ہوئے، جنہیں میں نے کتاب میں لکھا اور یہ بھی ضروری بھی تھے، یہ کتاب صرف ریحام خان ہی لکھ سکتی تھی، مجھے اس کتاب لکھنے پر کسی قسم کا کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ریحام خان نے کہا کہ پی پی پی جب پارلیمنٹ کو نہیں مانتی تو اسے بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا، تحریک عدم اعتماد آئین کے مطابق ہے، جب وزیر اعظم پر اعتماد نہیں ہے تو عدم استحکام تحریک کا انتظار کیوں ہے، مجھے پاکستان آنے سے پہلے پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی علم نہیں تھا۔

ریحام خان نے مزید کہا کہ بلیک بیری میرے پاس نہیں ہے مگر کسی محفوظ جگہ پر ہے، میں رہوں یا نہ رہوں بلیک بیری رہے گا، اگر اسمبلی توڑ دی جاتی ہے تو یہ خوش آئند ہوگا تاہم اسمبلیاں توڑنے کے لیے ہمت چاہیے، جو سب کو کہتے رہتے ہیں کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے اُن میں یہ ہمت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری عمران خان کی پہلی بیوی اور خاتون اول سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور میں نے اُن سے ملاقات کی کوشش بھی نہیں کی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.