MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سیلاب میں ڈوبا غریب وطن

0 243

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عبدالغنی شہزاد

- Advertisement -

مون سون بارشوں نے پاکستان کے تمام صوبوں خصوصاً صوبہ سندھ کو زیادہ متاثر کیا اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب نے عالمی دنیا کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول کرانے کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے،وزیر اعظم کے سادہ اور دوستانہ انداز نے عالمی دنیا کے رہنماؤں کو متاثر کیا انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جب میں اپنے ملک پاکستان کا احوال سنانے کے لئے یہاں کھڑا ہوں لیکن میرا دل و دماغ اس وقت بھی میرے ملک میں ہے ،ہم جس صدمے سے گزر رہے ہیں ، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں موسمیاتی آفت سے آنے والی تباہی کے بارے میں دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے یہاں آیا ہوں جس سے میرے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 40 دن اور 40 راتوں تک ایک تباہ کن سیلاب ہم پر مسلط رہا جس نے صدیوں کا موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیا ہے، آج بھی ملک کا بڑا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، خواتین اور بچوں سمیت 33 ملین افراد اب صحت کے خطرات سے دوچار ہیں جن میں ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث1500 سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 400 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں، بہت سے بیماری اور غذائی قلت کے خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا،370 پل تباہ ، 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے۔وزیراعظم نے کہا کہ ابتدائی تخمینے بتاتے ہیں کہ سیلاب کے باعث 13 ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے ،چار ملین ایکڑ فصلیں بہہ گئیں۔ ، لاکھوں بے گھر افراد اب بھی اپنے خاندانوں، مستقبل اور ان کے ذریعہ معاش کو پہنچنے والے نقصانات کے ساتھ اپنے خیمے لگانے کے لئے خشک زمین کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پاکستان متاثر ہورہا ہے،پاکستان میں اس طرح کی قدرتی آفت کو نہیں دیکھا ،ہمیں پہلے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور اب سیلاب کا سامنا ہے حالانکہ دنیا میں جو کاربن فضا میں بھیجی جارہی ہے ، پاکستان کا اس میں ایک فیصد سے بھی کم ہے ، ہمیں جن مساہل کا سامنا ہے اس کی وجہ ہم نہیں ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے گلوبل وارمنگ کے اثرات کی اس سے بڑی اور تباہ کن مثال کبھی نہیں دیکھی جہاں زندگی ہمیشہ کے لئے بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آفت کے دوران میں نے اپنے تباہ حال ملک کے ہر کونے کا دورہ کیا اور وقت گزارا، پاکستان میں لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟، ناقابل تردید اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آفت ہماری وجہ سے نہیں آئی بلکہ ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور گرمی کی لہر 53 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکی ہے جو اسے کرہ ارض کا گرم ترین مقام بنا رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم تباہ کن مون سون سے گزر رہے ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسے انتہائی مناسب طریقے سے بیان کیا ہے، ایک بات بہت واضح ہے کہ جو کچھ پاکستان میں رونما ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اپنی قوم کی طرف سے مشکل وقت میں مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پاکستان کے دورے پر شکرگزار ہوں، سیکرٹری جنرل نے اپنی آنکھوں سے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈ کا حصہ بھی ریسکیو اور ریلیف کے کاموں پر خرچ کر رہے ہیں ،سیلاب متاثرین میں 70 ارب کی رقم تقسیم کی گئی۔مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے مظلوم کشمیری عوام کا حق غصب کرنے کے لئے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بنادیا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کے حل تک کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، تنازعات کو پرامن مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے، ہمیں اپنے وسائل کا رخ عوام کی طرف موڑنا ہوگا۔دوسری طرف آڈیو لیکس نے حکومت خصوصاً مسلم لیگ کو پریشان کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس سمیت اہم مقامات سے خفیہ ریکارڈنگ کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم ہاؤس میں طلب کرلیا ہے، اجلاس میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہان بھی شرکت کریں گے۔ آئی بی اور آئی ایس آئی کے سربراہان خفیہ ریکارڈنگز کے متعلق قومی سلامتی کمیٹی کو بریف کریں گے۔ اجلاس میں وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ بھی شرکت کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ایم ہاؤس سمیت اہم مقامات سے خفیہ ریکارڈنگ کے معاملے پرقومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کرلیا۔ جس میں آڈیو لیک، ملکی سلامتی اور دیگر امور پر بات کی جائیگی۔سرکاری اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے جس میں اعلیٰ عسکری اور سول قیادت شریک ہوگی۔ اجلاس میں وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، وزیر خزانہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت اہم وزراء شریک ہونگے۔دیکھتے ہیں کہ ملکی مسائل کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.