اسلام آباد(مسائل نیوز) حکومت کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کا حصول مشکل ہو گیا۔عالمی مالیاتی ادارے سے قرض لینے کے لیے آئندہ 15 دنوں میں اسی شرح سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ہوں گی۔دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق اگر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم نہ کی تو اسے ماہانہ 120 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا جو وفاقی حکومت کے اخراجات سے بھی زیادہ ہے جو صرف 85 ارب روپے تک ہیں۔
موجودہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا کڑوا گھونٹ آئی ایم ایف پروگرام بحال کرنے کے لیے کیا تاکہ 900 ملین ڈالرز کی قسط جاری ہو سکے۔اگر آئی ایم ایف نے رضا مندی کا اظہار کیا تو سعودی عرب تین ارب ڈالرز کے قرضہ جات کی ادائیگی میں سہولت دے گا۔چین بھی پاکستان کو مالی معاونت فراہم کرے گا جب کہ امریکا بھی یہی اقدامات اٹھائے گا۔
- Advertisement -
واضح رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج رات سے ہی اضافے کا اعلان کر دیا۔وزیر خزانہ نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 30 روپے اضافے کا اعلان کیا، فیصلے کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو ا۔ حکومت کے فیصلے کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 179 روپے 86 پیسے، لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 148 روپے 31 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 174 روپے 15 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 155 روپے 56 پیسے ہو گئی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 15 دن میں 55 ارب روپے کا نقصان کر چکے، عوام پر کچھ نا کچھ بوجھ ڈالنا ناگزیر ہے، پٹرول اور ڈیزل سستا ہونے سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھتی ہے۔ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث آج مہنگائی کا سامنا ہے، گزشتہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو فکس کیا، عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا ہمارے لیے مشکل فیصلہ تھا۔
انہوں نے کہا پٹرول پر سبسڈی کا امیر اور غریب طبقہ دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں، پٹرولیم قیمتیں بڑھائے بغیر آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں مل سکتا۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیراعظم نے معاشی صورتحال کے پیش نظر سخت فیصلہ لیا ہے، اس وقت ہمارے لیے ریاست کا مفاد عزیز ہے، آئی ایم ایف سے بات چیت میں مثبت پیشرفت جاری ہے۔ واضح رہے آئی ایم ایف نے قرض قسط کیلئے تیل اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے تیل اور بجلی پر سبسڈی کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے، آئی ایم ایف نے شرح سود میں اضافہ کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔
آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان طے شدہ پالیسی سے انحراف کیا گیا، پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی۔