جو بیان دیا وہ میری جماعت کا موٴقف ہے،فواد چوہدری
اسلام آباد(مسائل نیوز) اسلام آباد کی سیشن عدالت میں الیکشن کمیشن اراکین کو دھمکانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،دوران سماعت فواد چوہدری روسٹرم پر آئے اور کہا کہ عمران خان پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،ہم حق سچ بات کریں گے۔میں پی ٹی آئی کا ترجمان ہوں،ضروری نہیں میری اپنی رائے ہو۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی جماعت کی ترجمانی کرنی ہے،جو میں نے بیان دیا وہ میری جماعت کا مؤقف ہے۔
مجھے اسلام آباد پولیس نے نہیں لاہور پولیس نے گرفتار کیا،میرا موبائل فون پولیس کے پاس ہے اور میری سم بند کی جائے۔ کیس کی سماعت کے دوران سماعت پراسکیوٹر نے کہا کہ فوٹو گرامیڑک ٹیسٹ لاہور سے کروانا ہے،مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے،مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔
پ راسیکیوشن کی جانب سےشہبازگِل کیس کا حوالہ دیا گیا۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ رات 12 بجے دو روز کا ریمانڈ ملا تب تک ایک دن ختم ہو گیا تھا،عملی طور پر ہمیں ایک دن کا ریمانڈ ملا ہے اب مزید ریمانڈ دیا جائے۔
- Advertisement -
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فواد چوہدری کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے،انہوں نے اپنی تقریر کا اقرار بھی کیا ہے،تقریر پر تو کوئی اعتراض اٹھا نہیں سکتا،ملزم نے بیان مانا ہے۔فواد چوہدری نے حکومت کے خلاف الزامات لگائے،الیکشن کمیشن کو حکومت کا منشی کہا،فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ملازمین کے گھروں تک جائیں گے،الیکشن کمیشن کا کردار اگلے چند ماہ بہت اہم ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کام کرپشن ختم کرنا ہے لیکن فواد چوہدری پریشر بڑھارہے ہیں،فواد چوہدری کے گھر کی تلاشی لینا ضروری ہے،انکے گھر سے لیپ ٹاپ اور موبائل ان کی موجودگی میں لینا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ میں بھی فواد چوہدری کے بیان میں شامل ہوں۔ بابر اعوان نے کہا کہ ججوں کے گھروں تک جانے کا بیان دیا گیا اور ایٹمی ریاست کو موم کی گڑیا بنا دیا گیا،ہم نے پرچہ نہیں کروایا۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فواد چوہدری کا بیان کسی ایک بندے کا نہیں،ایک گروپ کا بیان ہے۔ بعد ازاں عدالت نے فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔