میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتاہوں
تحریر وارث دیناری
- Advertisement -
میں منتظر ہوں اس دن کاجس دن بغیر سفارش رشوت کے بلا تاخیر میرا جائز کام ہوجائے۔مجھے انتظار ہے اس دن کا جب میں دیکھوں کہ سرکاری اسکولوں میں ایک محنت کش مزدور کے بچے کے ساتھ اعلیٰ سرکاری آفیسران اور پارلیمنٹرین کے بچے بھی اسی سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کرتے نظر آئیں۔میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتاہوں تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتالوں میں اپنے علاقے کے منتخب نمائندوں اعلی سرکاری آفیسران ا سسٹنٹ کمشنر ڈپٹی کمشنر اپنا علاج کرائیں۔وہ دن کب آئے گا جب تمام ادارے ایک عام شہری کے ساتھ اس طرح پیش آئیں جیسے کسی وی آئی پی کے ساتھ ان کا رویہ دیکھا جاسکتا ہے۔مجھے تو انتظار ہے اس دن کا جب ٹریفک قوانین پر وزیراعظم وزیر اعلی سمیت دیگر اداروں کے سربراہ بھی اسی طرح سے پابندی کریں جیسے کہ ایک عام شہری کرتا ہے خلاف ورزی کی صورت میں عام شہری سے خاص شہری کو کئی گنا زیادہ جرمانہ اور سزا کا مستحق قرار دیا جائے۔مجھے انتظار ان عدالتی فصلوں کا جس کیلئے عمر خضر کی دعائیں نا مانگی جاتی ہوں ایک عام شہری کے مقدمات کا فیصلہ بھی دنوں ہفتوں میں ممکن ہو۔اور دروغ گوئی پر وکیل بھی سزا سے نہ بچ پائیں۔ اور عام شہری کیلئے عدالتوں کے دروازے ایسے ہی کھولتے ہوں جیسے حال ہی میں انصاف کی خاطر رات دن کا فرق نظرنہیں آیا میں وہ انصاف چاہتا ہوں جو سب کو نظر آئے۔میں یہ بھی دیکھنا چاہتا ہوں عدالتوں میں گواہی کیلئے حلفیہ بیان دینے کی ضرورت نہ ہو۔جھوٹی گواہی جھوٹی ایف آر پر سخت سے سخت سزا دی جاتی ہو۔ میں دیکھنا اور سنانا چاہتاہوں کہ مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد کسی بھی ادارے کا سربراہ کسی بھی صورت میں ایکس ٹینشن لینے سے یہ کہہ کر انکار کرے کہ اس پر دوسروں کا حق ہے میں کسی کا حق مارنا نہیں چاہتا ہوں۔میں دیکھنا چاہتا ہوں جنرل ہو جسٹس یا پارلیمنٹرین کسی بھی مہلک اور جان لیوا بیماری کے باوجود ملک سے باہر علاج کرانے سے یہ کہہ کر انکار کریں جب میرے ملک کے ایک عام شہری کا علاج یہاں ہوتا ہے تو میں کیوں علاج کیلئے باہر جاوں۔یہ سننے کیلئے کان ترس گئے ہیں کہ جب کوئی keeپوسٹ سے ریٹائرڈ ہونے والا اہلکار یہ کہے کہ میرا جینا مرنا وطن کے ساتھ ہے میری ملک سے باہر کوئی جائیدادنہیں ہے۔میں یہ دیکھنا چاہتاہوں کہ تمام پاکستانی شہریوں کو ترقی کے یکساں مواقعے دستیاب ہوں۔بیرون ممالک کاروبار کرنے والے پاکستانیوں اپنے وطن میں آکر اپنا کاروبار شروع کیا ہواور وہ اپنے اس فیصلے سے انتہائی خوش اور مطمئن ہوکر یہ کہے کہ میرا کاروبار یورپ اور مڈل ایسٹ سے یہاں پر زیادہ محفوظ اور منافع بخش ہے میں یہ بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی بڑے سرکاری یا سیاسی عہدے پر بیٹا باپ اور دادا تک یہ سلسلہ نہ جائے کیونکہ قابلیت یا اہلیت صرف اور صرف پنڈ کے چودہدری کے بعد ان کا بیٹا پھران کا بیٹا نہیں دوسروں کا بھی حق بنتا ہے میں چاہتا ہوں میرٹ ہو موروثی سیاست اور نوکر شاہی کا خاتمہ ہو۔غریب کے بچے کو بھی ترقی کے اتنے ہی مواقعے میسر ہوں جو کسی بڑے آدمی کے بچے کیلئے کی جاتی ہیں۔انصاف سچائی کا بول بالاہو۔کسی دوکان پر یہ جملہ لکھا ہوا نہ ملے یہاں پر خاص شہد گھی یا خالص دودھ دستیاب ہے۔یا کسی قصاب کے دوکان پر لاغر بیمار پریشر والے گوشت کا خاتمہ بھی چاہتاہوں۔گرم اور ٹھنڈی مرغی کا اصطلاح سنانا نہیں چاہتاہوں۔میں یہ چاہتاہوں سبزی یا پھل خریدتے وقت پھل فروش آنکھ بچاکر اس میں دوتین ناکارہ گلے سڑے پھل نہ ڈالے کوالٹی اور کونٹیٹی میں کوئی ہیرپھیر نہ ہو۔میں چاہتا ہوں کہ بجلی اور گیس کے بلوں اور میٹرز میں کوئی ہیراپھیری نہ ہو غلط ریڈنگ دینے اور بلینگ کرنے اہلکار سزا سے نہ بچ پائیں۔میں چاہتاہوں کہ ہمارے مساجدوں اور دیگر عبادت خانوں کے دروازوں کو چوری کی ڈر کی وجہ سے قفل نہ لگائیں جاتے ہوں۔کوئی کسی مسلمان کو کافر نہ کہے۔میں یہ بھی چاہتاہوں کہ اپنی عبادات کی خاطر کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے۔اور توہین مذہب کے نام پر کسی بے قصور انسا ن کو سزا نہ ملے میں چاہتاہوں کہ وطن عزیز جس مقصد کیلئے حاصل کیا گیا ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے خوابوں کی عملی اور حقیقی معنوں میں تعبیر چاہتا ہوں میرے ایک مہربان دوست نثار صاحب جو محقق ادیب دانشور اورلکھاری شاعر ہیں انھوں نے لکھا ہے جنت تو جاپان کی ہے ہم تو صرف دعوے دار ہیں۔انھوں نے لکھا کہ جاپان میں گزشتہ تیس سالوں میں کوئی چوری نہیں ہوئی کوئی قتل نہیں ہوا ہے کوئی بھی بھوکا نہیں سوتا ہے۔قدرتی آفات سونامی زلزلوں کے وقت کیمپوں میں ضرورت کی ہر چیز رکھ دی جاتی ہے مجال ہے ایک رتی بھی ضرورت سے زیادہ نہیں لیتے ہیں۔ دیانتداری میں ان کی کوئی مثال نہیں سڑک پر ایک کروڑ بھی پڑا ہو تو کوئی اٹھانے والا نہیں ہے۔آپ کندھا ماریں سامنے والا ہی معذرت کرتا دیکھائی دے گا۔ترقی اور ٹیکنالوجی میں دنیا سے کئی گنا آگئے۔محنتی اتنے کہ ان کا وزیر اعظم ہاتھ جوڑ کر آرام کرنے کا مشورہ دینے پر مجبور ہوجاتا ہے صفائی اتنی کہ سڑکوں پر منہ نظر آئے۔ وقت کے پابند اتنے کہ صرف پانچ منٹ ٹرین لیٹ ہوئی تو پوری کمپنی کو بندکردیا گیا مہمانوازی اخلاق اور کردار میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے دونمبری بے ایمانی کا تصور نہیں آج تک جاپانیوں کو جھوٹ کا پتہ نہیں ہے دوستی اور وعدے کے پکے جس کے ساتھ تعلق رکھا آخری دم تک ان کے ساتھ رہے۔پھر واقعی یہ ملک جنت نہیں تو اور کیا ہے۔میں صرف یہ چاہتاہوں کہ میرا ملک جاپان نہیں بن سکتا ہے تو اس جیسا بنے کی کوشش تو کرے۔لیکن وہاں تو ایک قوم آباد ہے اور میرے یہاں ایک بے ہنگم ہجوم ہے اپنی اس سوچ پر میں بس اتنا کہتا ہوں۔
[…] نیوز) جاپانی کمپنی کی جاننب سے پاکستان کو عالمی مارکیٹ سے پینتیس فیصد کم […]