شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ سے تاریخی ملاقات، ’اب پاکستان کو مچھلی کھانے کے بجائے پکڑنے کا طریقہ سیکھنا چاہیے‘
واشنگٹن (مسائل نیوز)وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ’عظیم رہنما‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دو عظیم رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل دونوں ہی بہترین شخصیات ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس ملاقات کو خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے، جہاں صارفین مختلف انداز میں اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔ بعض صارفین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستانی قیادت کو ’گریٹ لیڈرز‘ کہنے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔
سفینہ خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی قیدی نمبر 804 عمران خان کو خبر کرے ٹرمپ ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو گریٹ لیڈر کہہ کر ویلکم کر رہا ہے۔
- Advertisement -
صحافی حامد میر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس مسکراہٹ کے پیچھے کوئی بڑی کہانی ہے؟ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چند دن بعد اس بڑی کہانی کو سمجھیں گے۔
اسد چوہدری نے ٹرمپ کی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا مزاح کا انداز لاجواب ہے، انہوں نے رافیل جہاز والا پن کوٹ پہن کر دنیا کو ایک پیغام دیا اور ساتھ ہی مودی کو بھی ٹرول کیا ہے۔
صحافی عمر چیمہ نے کہا کہ ایسے مواقع پہلے بھی جب آئے ہم اصلاحات چھوڑ کر پھر سے ایزی پیسے پر لگ گئے،اگر کچھ سیکھا ہے تو ان تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور افرادی قوت کی بہتری کے لیے استعمال کریں، ان سے مچھلی کھانے کی بجائے اسے پکڑنے کا طریقہ سیکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور بھارت نے بھی امریکا سے مچھلی پکڑنا سیکھا تھا۔
سعد قیصر نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے ٹائیگر کا پروٹوکول دیکھ رہے ہو۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے سدرہ اسلم نے کہا کہ پوری دنیا یہ منظر دیکھ رہی ہے، جبکہ بھارت اور پی ٹی آئی اشکبار ہیں۔