فواد چوہدری کے منہ پر کپڑا ڈال کر پیش نہیں کرنا چاہیے تھا
اسلام آباد (مسائل نیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کی گرفتاری پر دل بوجھل ہے مگر ان سے ایسے بیان کی توقع نہیں تھی۔فواد چوہدری کو دھمکی نہیں دینی چاہیے تھی اور انہیں منہ پر کپڑا ڈال کر پیش نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تفصیلات کے مطابق ملک احمد خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ فواد چوہدری کیخلاف الیکشن کمیشن نے ایف آئی آردرج کرائی،فواد چوہدری کیساتھ ناانصافی ہو گی تو اس کی مذمت کروں گا،فواد چوہدری کو جانتا ہوں وہ ایسے نہیں ہیں،پی ٹی آئی کو پنجاب میں دامادوں کی بہت سپورٹ حاصل رہی۔
انکا کہنا تھا کہ فرخ حبیب کا کیا حق تھا پولیس سے بدمعاشی کریں،فرخ حبیب ٹول پلازہ پر پولیس کی گاڑی پر مکے مارے،فرخ حبیب کیخلاف ایف آئی آر بنتی ہے،آپ چاہتے ہیں کہ جرم بھی کریں اور سزا بھی نہ ملے۔
چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی تو تحریک انصااف کے دور میں ہوئی،پی ٹی آئی دورمیں چیف الیکشن کمشنر کی تعریفیں کی جاتی تھیں۔سب نے دوٹوک کہا کہ بہت اچھی تعیناتی ہوئی ہے،ہم نے الیکشن کمیشن کیخلاف کوئی مہم نہیں چلائی تاہم عمران خان نے عدالت کو بھی دھمکیاں دیں۔
- Advertisement -
ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کیخلاف فیصلہ آئے تو یہ احتجاج شروع کر دیتے ہیں،30 آدمیوں کی پارٹی تھی،باقی لوگوں کو پکڑ پکڑ کر ان کیساتھ جوڑا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی کی تصاویر اگرآصف زرداری کیساتھ ہے تو پرویزالٰہی کیساتھ بھی ہیں،کیا آپ تصاویر کی بنیاد پر انہیں متنازع سمجھیں گے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ قاسم سوری اور عمران خان کیخلاف آرٹیکل 6 لگنا چاہیے تھا،حکومت نے آرٹیکل 6 نہ لگا کر غلطی کی۔
دوسری جانب شاہد خاقان عباسی نے بھی پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی گرفتاری کی مخالفت کر دی۔انہوں نے جی این این کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔جو کچھ فواد چوہدری نے کیا اس کا بھی دفاع نہیں کیا جا سکتا،اس قسم کی زبان استعمال نہیں ہونی چاہیے اور اس قسم کی دھمکیاں نہیں دینی چاہیے۔
[…] مسلم لیگ ق کے سینئر رہنماء اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ آرمی اور ملک کیلئے پرویز مشرف کی خدمات کو […]