کراچی: نوجوان عرفان کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی، جسم پر تشدد کے نشان نہیں تھے: ایس آئی یو
کراچی(مسائل نیوز) اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان کی ہلاکت کے کیس میں پیشرفت سامنے آئی ہے۔
ایس آئی یو حکام کے مطابق پولیس کو ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ نوجوان عرفان کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی اور اس کے جسم پر تشدد کے نشان موجود نہیں تھے۔
- Advertisement -
ایس آئی یو حکام نے بتایا کہ عرفان کو حساس مقامات کی تصویریں بنانے پر حراست میں لیاگیا تھا جس کے ساتھ اس کے تین ساتھیوں کو بھی پکڑا گیا، باقی تین افراد سے تفتیش اور ان کا میڈیکل مکمل ہونےکے بعد رہا کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹے اسپتال میں لاش موجود ہونےکی وجہ سے اس پر نشانات پڑے تاہم پولیس کی کوئی غفلت ثابت ہوئی تو مقدمہ درج کیاجائےگا۔
حکام نے مزید بتایا کہ عرفان کا پوسٹ مارٹم مجسٹریٹ کی موجودگی میں کروایاگیا اور پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ آنے پر تفصیلات سامنےآئیں گیں۔