اے ٹی سی نے پی ٹی آئی رہنما صالح محمد خان کی ضمانت منظور کرلی
اسلام آباد (مسائل نیوز) انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے صالح محمد خان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔اے ٹی سی نے صالح محمد خان کی ضمانت منظور کرلی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے فیصلہ سنایا۔صالح محمد خان کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان نے دلائل دئیے۔انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔
آج پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ نے صالح محمد کی گرفتاری کے خلاف پارلیمنٹ کے گیٹ پر احتجاج کرتے ہوئے صالح محمد کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔منگل کو ارکان پارلیمنٹ نے پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی صالح محمد کی گرفتاری اورتضحیک آمیز رویے کے خلاف احتجاج کیا ۔
پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی رکن قومی اسمبلی صالح محمد کو الیکشن کمیشن کے باہر سے گرفتار کیا تھا،صالح محمد کی پولیس کی حراست میں گلے میں لٹکتی تصویر وائرل ہونے پر پولیس پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
- Advertisement -
احتجاج میں اسد عمر ، پرویز خٹک ، شاہ محمود قریشی ،اسد قیصر،علی محمد،شیخ راشد شفیق،علی نواز اعوان سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے ،پی ٹی آئی کے رہنماوں کی جانب سے آئی جی اسلام آباد کے خلاف نعرے بازی کی گئی ،صالح محمد کو رہا کرو،اعظم سواتی کو انصاف دو کے نعرے کے لگائے ۔پی ٹی آئی رہنمائوں نے پارلیمنٹ گیٹ سے سپریم کورٹ تک مارچ مارچ کیا ۔
بعد ازاں پی ٹی ائی رہنمائوں نے سپریم کورٹ کے باہر بھی احتجاج کیا اور موجودہ حکومت اور رانا ثناء اللہ کے خلاف نعرے بازی کی ۔وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ صالح محمد منتخب عوامی نمائندے ہیں،ایک منتخب نمائندے کی تضحیک کی گئی۔ اسلام آباد میں صالح محمد کی تضحیک کیخلاف احتجاج کے بعد شاہ محمود قریشی نے دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اعظم سواتی اور صالح محمد کے ساتھ جو رویہ روا رکھا گیا اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،پولیس والے نام پکار کر گرفتار کر کے لے گئے۔
آئی جی اسلام آباد کا رویہ پوری قوم کے سامنے ہے،تحریک انصاف کیساتھ انکا رویہ جانبدارانہ ہے۔ اعظم سواتی اور شہباز گل کیساتھ جو ہوا اس کی بھی مذمت کرتے ہیں،25 مئی کو اسلام آباد میں ہمارے نہتے کارکنوں پر بھی بدترین تشدد کیا گیا۔