اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے دورے سے قبل امریکا نے اعلیٰ سطح کا رابطہ کر کے پاکستان سے معصومانہ سوال کیا تو ہم نے مودبانہ جواب دیا، پاکستان کا مو¿قف جوں کا توں رہا اور کوئی دباﺅ قبول نہیں کیا،مستقبل قریب میں پاک روس مشترکہ مقاصد کو عالمی فورمز پر اجاگر کیا جائےگا، جنوبی ایشیا میں عدم توازن پر پاکستان کی تشویش پر بھی تبادلہ خیال ہوا، وزیراعظم نے یوکرائن کی صورت حال کا بھی ذکر کیا،
- Advertisement -
یوکرائن کی صورت حال کی طویل تاریخ ہے، پاکستان ہمیشہ سفارت کاری سے مسائل کے حل پر زور دیتا آیا ہے،افغانستان سے متعلق روس، پاکستان کی متفقہ رائے ہے،ازبکستان تک آنے والی روس کی گیس پائپ لائن کو براستہ افغانستان پاکستان تک توسیع دی جائے،روس دورے پر جانے کا فیصلہ درست تھا،تحریک عدم اعتماد کے لیے اپوزیشن شوق سے ملاقاتیں کرے، کوئی فرق نہیں پڑنے والا، (آج) اتوار کو گھوٹکی پہنچ رہا ہوں،
بلاول اور شہباز بھی تیار ہوجائیں، لاڑکانہ میں ہر سوال کا جواب ملے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب ہم ماسکو پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں تبصرے شروع ہوگئے کہ دورے کا وقت غلط تھا، بھارتی میڈیا نے تو یہاں تک خبریں پھیلا دیں کہ دورہ منسوخ ہوگیا