سیاسی نانی ، نانا اور دادا کی جلوہ گریاں ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
- Advertisement -
نسل حرامی بلآخر حرامی ہی رہتی ھیں۔ اس بات کا ثبوت ھماری سیاست اور اشرفیہ نے خوب ثابت کر رکھا ھے یہی نہیں بلکہ اس صفِ حرامی اور بدکاری میں منصفین اور نوکر شاہی طبقہ کمال حد تک متحرک نظر آتا ھے، یاد رھے ایک اور طبقہ جو بِک بِک شور مچانے، پروپیگنڈہ پھیلانے، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے من گھڑت قصے، کہانیاں سنا کر عوام کو مسلسل گمراہ کررھے ھیں جن کا مقصد ہی ان حرامیوں کی سہولتکاری اور معاونت شامل ھے جس کی بھاری قیمت، معاوضہ اور مراعات حاصل کرتے ھیں یہ عمل ھماری میڈیا کا ھے جو تا حال جاری ھے۔ اب بات کرتے ھیں نون کی نانی اور نانا کی معزز قارئین!! لندن پلان کیمطابق نوازشریف کی ساکھ عوام میں بحال کرنے کیلئے دو تین گروپ تشکیل دیئے گئے ہیں۔ ایک گروپ جسکی قیادت شاہد خاقان عباسی کررہا ہے۔ سعد رفیق، مصدق ملک وغیرہ اس میں شامل ہیں اسکے ذمہ اس بیانیہ کو پروموٹ کرنا ہیکہ آپس کی سیاسی لڑائی سے ملک کا بڑا نقصان ہوگیا ہے مل جل کر ملک کا سوچنا چاہئے کرپشن وغیرہ کے متعلق بات کرنا سب فضول ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی سیاسی معاملات میں بس اس قدر ہی مداخلت کرنا چاہئے جس سے شریف خاندان کو فائدہ ملتا رہے اس گروپ کا بظاہر بیانیہ صلح صفائی اور امن و آتشی کے درس پر مشتمل ہوگا۔ دوسرا گروپ جس میں مریم اورنگزیب، راناثناءاللہ، جاوید لطیف، طلال چوہدری وغیرہ پر مشتمل ہوگا یہ گروپ ہارڈ لائنر کے طور پر کام کریگا اور اسکا بیانیہ ملکی تباہی کی ذمہداری عمران خان، جنرل باجوہ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ سمیت ریاستی اداروں پر ڈال کر نوازشریف کے مقدمات اور کرپشن کو غلط اور جھوٹ ثابت کرنا ہے۔ آئندہ چند روز میں ان بیانیوں میں شدت پیدا کی جائیگی ان میں سے ایک گروپ بظاہر مریم نواز سے نالاں دکھائی دیگا اور دوسرا گروپ مریم کا ترجمان جبکہ حقیقت میں دونوں گروپس کی کمانڈ مریم نواز ہی کے ہاتھ میں ہونگی۔ تیسرا گروپ شہبازشریف کی قیادت میں اسٹیبلشمنٹ کو لولی پاپ دیکر رکھے گا تاکہ ادھر بھی معاملات خراب نا ہونے پائیں۔ ن لیگ آئندہ چند روز میں پارٹی کو متحرک کرنے کیلئے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز اہم شہروں میں جلسے، جلوسوں سے کریگی اگر انکی اس چال سے پٹواریوں میں ہل چل کے امکانات نظر آئے تو پھر نوازشریف کو بھی لندن کے نا معلوم ڈاکٹر صحتیاب قرار دیکر پٹواریوں کو از سر نو اُلو بنانے کی اجاز ت دے دیں گے اور اگر انکی ان ساری فریب کاریوں کے باوجود پٹواریوں میں جان نہ پڑی تو پھر نوازشریف کے پلیٹ لٹس جان لیوا حد تک کم ہو جائیں گے اور مریم نواز سمیت سارا شریف ٹبر عیادت کے بہانے لندن فرار ہوجائے گا اور پٹواری اک بار پھر سیاسی طور پر یتیم ہوجائیں گے۔ دوسری جانب وہ نانا جو ابھی تک دادا نہ بن سکا اپنے شاطر اور حرامی ذہن کو شیطانی پروں میں سمو کر عیاری و مکاری کے ایسے ایسے گھن پیش کررھا ھے جس کی ایک مکارانہ مسکراہٹ پر سیاسی فیصلے کہاں کے کہاں پہنچ جاتے ھیں اس کے ہوشیاری کا اندازہ یوں بھی لگالیں کہ مولویوں کی منافقت کو کراچی والوں کے سامنے خوب ننگا کرکے پیش کردیا اور اس مولوی سیاسی گروپ کے ایمان کو دھن دولت اور مراعات کے بدلے خرید ڈالا میں بذات خود اس سندھ کے سیاسی نانا کی قابلیت اور ذہانت کا بہت بڑا قدردان ھوں اور سمجھتا ھوں کہ پاکستان بھر میں اس نانا سے زیادہ سیاسی بصیرت رکھنے والا کوئی نہیں مگر افسوس اس بات کا ھے کہ اس نانا کے پاس منفی سوچ منفی انداز ھے کاش یہ مثبت سوچ کیساتھ ھوتا تو یہ پوری قوم کا واحد لیڈر سربراہ بنکر ابھرتا لیکن اس نے بھی اپنے سسر کی طرح لسانیت کو فوقیت و اہمیت دی تاکہ چھوٹے ٹکڑے پر اپنی شہنشاہت برقرار رکھ سکے اور نسل در نسل عیش و تعائش میں زندگی گزار سکیں یہ نانا جانتا ھے کہ اس کے صوبے کی عوام بے حس ھے وہ کبھی بھی بیدار نہیں ھوگی حقیقت تو یہ ھے کہ عوام خود بھی حوصلہ رکھنا نہیں چاہتی اب بات کرتے ھیں اس نانا کی جو انصاف کی بات کرتا ھے جس نے اپنی زندگی میں کسی بھی موڑ پر انصاف ہی نہیں کیا۔ اپنا شعبہ ھو یا اپنی زندگی کے خونی رشتوں کیساتھ یہ بھی دیگر نانا نانی کی طرح خود غرض ضدی ہٹ دھرمی میں کمال اگر ان سب نانا نانی اور دادا کا مشترکہ تقابلی جائزہ لیا جائے تو اندر خانہ اعمال سب کے سب ایک جیسے حرامی اور ذلیل نظر آئینگے کیونکہ یہ جس جمہوریت اور آئین کی بات کرتے ھیں۔ آئین میں تحریر ھے کہ سب سے بڑا حاکم ذات صرف اللہ واحد لاشریک کی ھے اور اسی کا قانون اور احکامات سب سے معتبر ھیں اس آئینی شق اور آرٹیکل کی رو سے مملکت پاکستان کو اسلامی ریاست ہونا چاہئے فرق صاف ظاہر ھے ھمیں جمہوریت کے نام پر دھوکہ دیا جارھا ھے یہ تمام کے تمام سیاسی نانی، نانا، دادی، دادا کتنی ہی عیاریاں، مکاریاں، حرام کاریاں اور سازشیں کرلیں لیکن اس فیصلے سے ہرگز ہرگز نہیں نکل سکتے، جو فیصلے آسمان میں طے ھوتے ھیں۔ رب العزت نے اگر ڈھیل چھوڑ رکھی ھے تو اسکا ہر مطلب یہ نہیں کہ وہ کھینچ نہیں سکتا۔ یہ قوم یعنی اللہ کے بندے ہی اصل میں گمراہ ھوچکے ھیں جو اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کیلئے ان دجالی طاقتوں کو اپنا خدا بنائے بیٹھے ھیں انکی طاقت سے ڈرتے ھیں، انکی دولت سے مرعوب ھوتے ھیں، یاد رکھیں اصل مالک دوجہاں کائنات اللہ تبارک تعالیٰ ہے، اگر اسکی اطاعت گزاری، تقویٰ اور پرہیزگاری ایمانداری و دیانتداری میں آجاؤگے تو یہی تمہارے سیاسی نانی، نانا، دادی، دادا مکڑی کے جال سے بھی کمزور مجبور نظر آئینگے۔۔۔!! اے محب وطن پاکستانیو!! سوشل میڈیا کے ذریعہ ڈاکوؤں کے سارے بیانیوں کی جئی تئی پھیرنا آپکا قومی فرض ہے اس کیلئے آج ہی سے کمر بستہ ہوجائیں اٹھائیس جنوری سے پٹواریوں کی نانی اماں اوور ہالنگ کراکے دوبارہ پٹواریوں میں جلوہ گر ہونے والی ہے انکے بیانیے کی دُم کاٹنا اب آپ پر لازم ہے۔اور بلو رانی کے ناچ کو بھی روکنا ھے۔۔۔۔!!