بلوچستان میں پانی کی شدید کمی کے باعث زراعت خصوصا پھلوں کے باغات متاثر ہوئے ہیں،عتیق الرحمن شاہوانی
لورالائی(نامہ نگار)ڈپٹی کمشنر لورالائی ؑڈاکٹر عتیق الرحمن شاہوانی نے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑاصوبہ ہے معدنیا ت سے مالا مال اس علاقے میں لوگوں کی اکثریت کا ذریعہ معاش بارانی کاشتکاری اور غلہ بانی ہے پھلوں کے باغات اور خشک میوہ جات بھی یہاں کی خاص سوغاتیں ہیں یہ باتیں انہوں نے گذشتہ روز کٹوی فارم کے دروے کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہیں اس موقع پر ڈائریکٹر میتن اچکزئی اور ڈاکٹر عبدالرزاق بھی ان کے ہمراہ تھے ڈپٹی کمشنر لورالائی ڈاکٹر عتیق الرحمن شاہوانی نے کہا کہ بلوچستان میں پانی کی شدید کمی کے باعث زراعت خصوصا پھلوں کے باغات متاثر ہوئے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے حکومت بلوچستان نے وفاقی زرعی تحقیقاتی مرکز نے زمینداروں نقد آور فصل تیا رکرنے کیلئے ایک منصوبہ او لو پراجیکٹ کے نام سے شروع کیا گیا ہے
- Advertisement -
جس میں انگور پستہ اورانارکے ساتھ زیتون کو بھی متعارف کروایا گیا کیونکہ سیب کے درختوں کو پانی کی بہت ضرورت ہوتی ہے لہذا پانی کی قلت کے پیش نظر زیتون کا درخت بہت مفید ہے کیونکہ زیتون کے درخت کو سال میں چار یا پانچ بار پانی کی ضرورت ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے19کروڑ روپے کی مالیت کے اس منصوبے پر کام شروع کررکھاہے جس میں شامل شہر کوئٹہ لورالائی ژوب پشین شیرانی ہرنائی موسی خیل بارکھان مستونگ قلات نوشکی خاران لسبیلہ ہیں ان تمام اضلاع میں زمینداروں مفت یا بہت کم قیمت پر زیتون کے پودے دئیے جارہے ہیں
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لورالائی ڈاکٹر عتیق الراحمن شاہوانی کو محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر متین اچکزئی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان کی حکومت نے وفاقی حکومت کے تعاون سے اٹلی سے دو مشینیں منگوائی گئی ہیں جن سے لورالائی اورخضدار میں کام لیا جارہاہے انہوں نے بتایا کہ زیتون سے تیل نکالے جانے کے بعد اس کا فضلہ بھی بہت کارآمد ہوتا ہے جو بطور کھاد جانوروں کی خوراک صابن یا فارمیکہ بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لورالائی ڈاکٹر عتیق الراحمن شاہوانی نے کہا کہ اگر دوسرے اضلاع میں بھی زیتون کا تیل نکالنے والی مشینیں لگائی جائیں تو بیرون ملک سے زیتون کے خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کا زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔