کوئٹہ میں رات دس بجے گیس لوڈشیڈنگ ، حکومت کی مجرمانہ غفلت سے صبح کے دھماکے معمول بن گئے!
تحریر فاروق لہڑی
آج صبح اے ون سٹی میں گھر میں گیس بھر جانے سے ایک اور دھماکہ ذمہ دار کون ؟
عوام خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور، حکام کی خاموشی سوالیہ نشان ،کتنی جانیں ضائع ہونے کے بعد ہوش آئے گا؟
کوئٹہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رات دس بجے گیس کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حکومتِ بلوچستان اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی غفلت نے صورتحال کو خطرناک حد تک پہنچا دیا ہے۔ گیس کی بندش کے بعد اکثر شہری گیس وال بند کرنا بھول جاتے ہیں، اور صبح تقریباً پانچ بجے جب گیس بحال ہوتی ہے تو گھروں میں گیس بھرنے سے خوفناک دھماکے ہوتے ہیں.
حکومت بلوچستان اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے اب تک نہ کوئی مؤثر حکمتِ عملی بنائی ہے، نہ عوام کو کسی حفاظتی آگاہی سے آگاہ کیا ہے۔ روزانہ پیش آنے والے ان حادثات کے باوجود خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی جانوں کی کوئی قیمت نہیں
- Advertisement -
یہ واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں، مگر حکومت اور متعلقہ ادارے کانوں میں انگلیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ متعدد علاقوں میں دھماکوں سے قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، درجنوں افراد جھلس چکے ہیں اور گھروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، مگر کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی تو دور، کوئی بیان تک جاری نہیں کیا گیا
عوام کا کہنا ہے کہ رات کے وقت گیس بند کرنا عوام دشمنی کے مترادف ہے۔ یہ ناقص پالیسی عوامی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہے، مگر حکومت تاحال خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے
شہریوں کا سوال ہے کہ جب ہر دوسرے روز دھماکے ہو رہے ہیں، جب گھروں میں لاشیں اٹھ رہی ہیں تو آخر حکومت کس چیز کا انتظار کر رہی ہے؟
جب تک گیس کی اس طرح لوڈشیڈنگ جاری رہے گی ان خوفناک واقعات و حادثات پر قابوں پالینا ناممکن ہے
اب سوال ایک یہ بھی ہے کہ کیا حکومت عوام کی لاشوں پر سیاست کرے گی یا اب کوئی عملی اقدام بھی اٹھائے گی
عوام کا مطالبہ ہے کہ رات کے اوقات میں گیس لوڈشیڈنگ پر فوری پابندی لگائی کر ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے