MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

آہ ارشد شریف

0 428

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
آج صبح بہت ہی بہت تکلیف دھ خبر ملی جو سینئر صحافی ارشد شریف کی حادثاتی موت کے متعلق تھی, یقینا یہ خبر صحافی برداری کے لئے بہت افسوناک تھی بلکہ پورا پاکستان ہی اس خبر پر سوگوار ہے, پاکستان میں یہ بات عام ہے کہ جیسے ہی کوئی خبر آتی ہے اسے فوری پاکستان آرمی سے جوڑ دیا جاتا ہے, آج جیسے ہی سینئر صحافی کے جاں بحق ہونے کی خبر آئی تو حسب عادت سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل مجاہدین نے بلا تحقیق پاک فوج پر ہزرہ سرائی کی جبکہ کچھ ہی گھنٹوں میں کینیا کے میڈیا نے مقامی پولیس کا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ
پولیس نے مغوی بچے کو بازیاب کرانے کی خاطر سٹرک پر ناکہ بندی کی ہوئی تھی, اس دوران ہر  کار کی تلاشی کی جا رہی تھی, اسی اثنا میں ارشد شریف کی کار آئی, پولیس نے انہیں روکنے کو کہا, مگر وہ مبینہ طور پر روکنے میں ناکام رہے اور روڈ بلاک سے گزر گئے۔ بعد ازاں پولیس نے ان کے  تعاقب میں گولی چلائی, جس سے ارشد شریف موقع پر ہی جان بحق ہوگئے, کار  کے ڈرائیور کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا, سوال یہ ہے کہ وہ کینیا کیوں گئے? دراصل کینیا لاقانونیت کی جنت ہے, ارشد شریف وہاں ایک ڈاکومینٹری بنانے اور ریسرچر ورک کے لئے گئے تھے, اگرچہ پاکستان کی حکومت سے ان کے کچھ نظریاتی اختلافات چل رہے تھے تاہم وہ 28 اکتوبر کو واپس آرہے تھے,انہیں ایک نجی چینل بے ہائر بھی کرلیا تھا کہ 24 اکتوبر کو یہ واقعہ پیش آگیا اور سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی مچ گیا, ارشد شریف کی ناگہاں موت پر قومی قیادت سے لیکر عسکری حکام نے تعزیتی پیغامات جاری کرچکے ہیں, مگر کھیل کھیلنے والوں نے اپنا گندہ کھیل بھی جاری رکھا ہوا ہے, یہ عناصر فوج اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں, حالیہ واقعے پر بھی ان عناصر نے پاک فوج کے خلاف ٹرینڈ چلایا مگر الله کے فضل سے ہمیشہ کی طرح منہ کی کھانے پر مجبور ہوئے, دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستان ایک سینئر صحافی سے محروم ہوگیا
ارشد شریف 22 فروری 1973 کو کراچی میں پیدا ہوئے ، جب کہ راولپنڈی کے گولڈن کالج سے بی اے اور قائداعظم یونیورسٹی سے ایم اے کیا ۔ پڑھائی کے دنوں میں ہی فری لانس جرنلسٹ بن گئے اور اس کے بعد عملی طور پر صحافت سے وابستہ ہوئے ، انہوں نے روئٹرز ڈان نیوز اور آج نیوز اور اس کے بعد دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ رہ کر بطور صحافی اور اینکر پرسن اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا

- Advertisement -

دنیا نیوز پر انہوں نے اپنا پروگرام ’’ کیوں ‘‘ شروع کیا ، لیکن اصل شہرت انہیں اے آر وائی پر ان کے پروگرام ’’ پاور پلے ‘‘ کے ذریعے ملی ۔ سال 2019 میں حکومت پاکستان نے ان کو پرائیڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ دیا ۔ اس کے علاوہ وہ انٹرنیشنل سطح پر آگاہی ایوارڈ ، ایشین انویسٹیگیٹو میڈیا ایوارڈ اور وار کور سپونڈنٹ ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات حاصل کر چکے ہیں ۔ وہ خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار رہے تھے ۔
ارشد شریف پاکستان کے علاوہ لندن ، پیرس ، اسٹراسبورگ اور کیل سے بھی رپورٹنگ کر چکے تھے ۔ انہیں علاقائی حالات اور انٹرنیشنل چیلنجوں کے بارے میں پوری طرح ادراک تھا ۔ اور وہ ہر طرح کے حالات میں بہترین کام کرنے کا تجربہ رکھتے تھے ۔ ویسے تو اس شریف کے کریڈٹ پر بے شمار سنسنی خیز اور چونکا دینے والی اسٹوریاں ہیں لیکن خاص طور پر جب انہوں نے موٹروے کے ایک منصوبے اور سابق سربراہ احتساب بیورو سیف الرحمان کے حوالے سے اسٹوری کی تھی تو ان کو خاصی شہرت حاصل ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ جب انہوں نے مسلم کمرشل بینک اور میاں منشاء کے نشاط گروپ کے حوالے سے اسٹوریز کرنا شروع کیں تو وہ توجہ کا مرکز رہے ۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں ہونے والے مختلف اقدامات پر انہوں نے تحقیقاتی سٹوریاں کیں ، اس کے علاوہ سینٹ جیمز ہوٹل لندن کی خریداری میں نشاط گروپ کے حوالے سے ان کی اسٹوری کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی
ارشد شریف کے والد محمد شریف پاکستان نیوی میں کمانڈر تھے ، انہیں بہادری اور شاندار کارکردگی پر تمغہ امتیاز ملا تھا ، 2011 میں وہ 79 سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے تھے ۔ والد کے انتقال کی خبر سن کر ارشد شریف کے بھائی اشرف شریف ( پاکستان آرمی میں میجر) بنوں کنٹونمنٹ سے بغیر پروٹوکول کے روانہ ہوئے ، گھر پہنچنے پر ان پر حملہ ہوا اور وہ بھی شہید ہو گئے ۔
میجر اشرف شریف کی عمر35 سال تھی ۔ میجر اشرف شریف کو والد کے جنازے کو کندھا دینے سے پہلے ہی شہید کر دیا گیا ۔ ایک گھر میں دو جنازے اٹھے ۔ میجر اشرف شریف کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ملٹری قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت حکومتی شخصیات نے ارشد شریف کے گھر آنے سے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے اہم مقدمات میں ارشد شریف کے پروگراموں اور تحقیقاتی رپورٹس کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ ارشد شریف بنیادی طور پر دھیمے لہجے میں بات کرنے کے عادی  اور دلیل کے ساتھ بات کرتے تھے, 24 اکتوبر 2022 کو کینیا پولیس کے فائر سے نیروبی میں جاں بحق ہوگئے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.