ورکرز تربیتی کنونشن کے مقاصد
تحریر عبدالغنی شہزاد
- Advertisement -
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سیاست اور سیاستدانوں کو ایک گہری سازش کے تحت بدنام کرکے سیاست کو نہ صرف گالی بنا دیا گیا بلکہ نفرتوں عداوتوں کو ہوا دینے کے لیے عوامی اجتماعات میں ایسی بازی بازاری زبان کو متعارف کرایا گیا کہ عوام اس کو سیاست ہی سمجھنے لگے ، حالانکہ سیاست شرافت واخلاق اور عوام کی خدمت اور عظیم مقاصد کے لیے جدوجہد کانام ہے ۔ اس حوالے سے اپنے کارکنوں کو سوشل میڈیا کی بداخلاقی اور بلاتحقیق منفی پروپیگنڈوں سے محفوظ رکھنے اور انہیں سنجیدہ اور باوقار سیاست کے میدان میں کام پر لگانے کے لیے جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق نے ضلع بھر میں خصوصی ورکرز تربیتی کنونشن کے انعقاد کا فیصلہ کیا اس کا اعلان انہوں نے 17اکتوبر کوئٹہ پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا
انہوں نے کہا ہے کارکنوں کے ساتھ عام لوگوں کی تربیت کیلئے ماضی میں بھی کامیاب پروگرام کیے اور رواں ماہ کے دوران21اکتوبر سی30اکتوبر سے مختلف علاقوں میں تربیتی ورکرز کنونشن منعقد کرینگے جس میں دینی اداروں کے ساتھ فنی اداروں کے طلبا کو شامل کریں گے ۔ اس موقع پر سنیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد جنرل سیکریٹری حاجی بشیر احمد کاکڑ سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد حافظ مسعود احمدمفتی عبدالغفور مدنی مولانا محمد ہاشم خیشکی فاروق لانگو اور دیگر موجود تھے انہوں نے کہاکہ میڈیا نے ہمیشہ ہمارے ساتھ تعاون کیا اور درپیش مسائل اجاگر کرنے میں حکام بالا تک پہنچانے میں ہمیشہ ساتھ رہی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت سیاست میں ایک سازش کے تحت گالی گلوچ اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے اس صورت میں تمام سیاسی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی صحیح معنوں میں تربیت کریں جمعیت علما اسلام ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جس نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ کارکنوں کے ساتھ دیگر عوام کے بھی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی تربیت کے لئے ایسے پروگرامز کا انعقاد کریں جس سے یہ استفادہ حاصل کرسکیں انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں پہلے ہاکی گراونڈ میں علما کنونشن ہوا جو کامیاب ہوا ساتھ میں مختلف علاقوں میں تربیتی پروگرام منعقد کیے وہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوئے ابھی مزید سات جگہوں پر21 اکتوبر ہزاگنجی23 اکتوبر ائیر پورٹ روڈ24 اکتوبر سٹیلائٹ ٹان26 اکتوبر ہنہ اوڑک27 کلی چلتن سریاب28 پنجپائی اور30 اکتوبر کچلاک میں تربیتی ورکرز کنونشن منعقد ہوں گے اس میں عام عوام سے بھی شرکت کی اپیل کی جاتی ہے ڈاکٹر وکلا انجینئرز اساتذہ طلبا سمیت سب کو شرکت دی جاتی ہے اس کے اچھے اور مثبت اثرات مرتب ہونگے تربیتی ورکرز پروگرام کے نام سے ہوگا جس کے معاشرے کے ایک اچھا پیغام جائے گا انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنی نسل بے حیائی اور منشیات سے بچانا ہے منشیات فروشوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں اڈے بنائے ہیں مسائل کے خاتمے کیلئے ذمہ دار افراد سے ملاقاتیں کرینگے معاشرے سے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے سیاست کو بد اخلاقی اور گندگی کی ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے اس حوالے سے تربیت کی ضرورت ہے دین اور قرآن کی روشنی میں تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جارہا ہے اس کے بعد ضلع کوئٹہ کی سطح پر بڑے پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا جس میں مرکزی و صوبائی قائدین شرکت اور خطاب کریں گے ۔ اسی سلسلے میں پہلا ورکرز تربیتی کنونشن ائیرپورٹ روڈ پر منعقد ہوا جس سے جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر وفاقی وزیر ہاؤسنگ مولانا عبد الواسع، ضلعی امیر مولانا عبد الرحمن رفیق مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا مفتی محمد روزی خان اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری حاجی بشیر احمد کاکڑ چئیرمین کمیٹی حاجی صالح محمد معاون سیکرٹری اطلاعات مولانا مفتی نیک محمد فاروقی شیخ مولانا محمد نور اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست سے اخلاق کا جنازہ نکالنے والوں کا جنازہ نکل چکا ہے، کارکن صبر و تحمل کادامن تھام کر بلاتحقیق کسی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں ۔ آج 24اکتوبر کو عظیم الشان ورکرز تربیتی کنونشن سیٹلائٹ ٹاؤن میں منعقد ہوگا جس میں ذمہ داران بہت بڑی تعداد میں شرکت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کی پگڑیوں کو اچھالنے میں جس بے شرمی اور بے حیائی کو فروغ دیا گیا وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر سیاہ دھبہ ہے، اس کو مٹانے کے لیے جمعیت علماء اسلام کے کارکنان اپنے اسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کو شعار بنائیں ۔ اور ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں مادہ پرستی کی بجائے خداپرستی اپنانا ہوگی انہوں نے کہا کہ
یہ انتہائی افسوناک امر ہے کہ فتنہ انگیزی کی سیاست میں ہماری نوجوان نسل کو اس قدر گمراہ کیا گیا کہ اب وہ تعمیری سوچ کی بجائے تخریبی سرگرمیاں ان کا محور بن گئی ہیں۔ سیاست میں عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ کسی کی ذرا سی بات پر باہمی احترام، رواداری، صلح جوئی اور امن و آشتی کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جس کے باعث تعصب، نفرتوں، قتل و غارت گری اور بربریت کے ایسے ایسے سانحات جنم لے رہے ہیں جو ایک مہذب معاشرے کی نفی کرتے ہوئے زہر قاتل بنتے جا رہے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ اس وقت عدم برداشت اور سیاسی و معاشرتی اخلاقی اقدار سے عاری ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ سیاسی لوگوں اور سیاسی قائدین کے رویوں میں صبر و تحمل اور قوت برداشت عنقا ہو گئی ہے۔ سیاست کے کارپردازوں کے رویوں میں شدت پسندی اور عدم برداشت اس حد تک غالب آچکی ہے کہ ان کے باہمی رویوں اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کے باعث احترام آدمیت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کے درمیان مناظرے اور مباحثے ہوا کرتے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کی بات حتیٰ کہ تنقید کو تحمل مزاجی کے ساتھ سنتے، حسنِ ادب کے ساتھ اختلاف رائے بھی کرتے لیکن احترام آدمیت کا وقار کبھی بھی اپنے رویوں اور مشکوک اخلاقی اقدار کی روایات سے پراگندہ نہیں ہونے دیتے تھے۔ مگر اب صورتحال ماضی کے بالکل بر عکس ہے، آج لوگ اظہار رائے کا سلیقہ بھول چکے ہیں۔ آج کے مباحثوں میں شدت پسندی،جارحانہ پن، غصہ، عدم برداشت، دھمکیوں اور گالی گلوچ کا کلچر نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے تمام کارکنان اخلاص اور للہیت کا دامن تھام کر منزل مقصود کی جانب گامزن ہوکر انتہائی شائستگی اور اخلاق سے سیاسی جدوجہد اور عوام کے بے لوث خدمت کرنے میں کوئی کوتاہی برداشت نہ کریں ۔