آپ کل سے آنے کی زہمت نہ کریں یہ سننے کے بعد تو مجھ پر جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا
تحریر و رپورٹ: سید شاہ زیب رضا
پسینے میں ڈوبے ہوئے٫ عدالتوں میں خوار ہوتے اور پریشانیوں میں پھسے یہ ہیں اعظم الفت یہ 27 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، ان کے والد بھی صحافت میں خدمات دے چکے ہیں، ان کا شمار بلوچستان کے سینیئر صحافیوں میں ہوتا ہے ان کا خاندان شعبہ صحافت سے60 سال سے منسلک ہے یہ 2023 تک بول نیوز کوئٹہ بیورو میں ڈپٹی بیرو چیف کے فرائض سر انجام دے رہے تھے
اعظم الفت کے مطابق 4 دسمبر 2023 کی رات تھی جب میں اپنے افس میں صحافتی ذمیداریاں سرانجام دے رہا تھا، میں چھ سال سے بول نیوز کے ساتھ کام کر رہا تھا کہ چار دسمبر 2023 کو مجھے رات 10 بجے بول ہیڈ افس سے کال آئی کہ اپ کو فارغ کر دیا گیا ہے آپ کل سے نہیں ائے اور اپ کی چار ماہ کی تنخواہیں اور پینشن کی رقم جو صحافی کے لیے رکھتے ہیں وہ وہ ہم اپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیں گے آپ افس انے کی زہمت نہ کریں۔
ان کا کہنا تھا یہ سننے کے بعد تو مجھ پر جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑے زندگی ایسے ہی تنگ ہو گئی کہ پہلے تو چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی گھر میں نہ بچوں کے لیے راشن ہے نہ کھانے کو کچھ اور تو ادھار اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کیوں اب تو پتھر بھی اٹھاؤں تو نیچے سے قرضدار نکل اتا ہے ایک امید تھی تنخواہ کی وہ بھی دم توڑ گئی اب اگے کیا ہوگا۔۔
اعظم الفت کے مطابق جب مجھے نوکری سے غیر قانونی طور پر فارغ کردیا گیا تو اس وقت میری حالت قابل رحم تھی جب میں رات گیارہ بجے گھر روانہ ہوا تو عجیب خیالات تھے جو بتانے کے قابل نہیں تاہم میں نے گھر میں فی الحال اس رات کچھ نہیں بتایا یہی سمجھ کر کہ گھر والے پریشانی نہیں ہو، تین روز تک کسی سے شیئر نہیں کیا پھر آخر بتانا پڑا کہ میں بے روز گار ہوچکا ہوں ادھار سر پر تھے کیونکہ بول نیوز ہر ماہ تنخواہ تو نہیں دیتی دو تین ماہ میں ایک تنخواہ آتی تو بہت پریشانیاں تھی اور بچے ان کی تعلیم سب متاثر ہوئے اور اب مجھے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہوا کہ میں بے روزگار ہوں چونکہ ستائیس سال صحافت کی اور کوئی کام آتا بھی نہیں بس پریشانی کے دن گزارنے چلے۔
اعظم الفت نے اپنی روداد سناتے ہوئے مزید بتایا کہ اس کے بعد فوری طور پہ عدالت گیا جہاں بلوچستان ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا کہ جس طرح مجھے غیر قانونی طور پہ نکالا گیا یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے، نہ ہی مجھے کوئی شوکاز نوٹس دیا گیا نہ ہی کوئی لیٹر تو کس قانون کے تحت نکالا گیا٫ صحافتی تنظیموں کو لیٹر لکھتا رہا مگر آج تک کچھ نہیں ہوا۔
اعظم الفت نے لمبی سانس لیتے ہوئے اپنی ذہنی حالت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایہ کہ دل میں عجیب قسم کے وسوسے آرہے تھے عجیب و غریب خیال آتے تھے، اس کے علاوہ قرضوں اور بے روزگاری کی وجہ سے گھر کا ماحول بھی خراب ہو چکا تھا جس کا اثر چھوٹے بچوں پر بھی پڑھ رہا تھا۔
اعظم الفت کا ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کہ کے سوال پر بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ میں تو مالی حیثیت ہی نہیں کہ میں کسی ماہر نفسیات سے باقاعدہ رجوع کروں اور نہ ہی پریس کلب یا کسی صحافتی تنظیم کی جانب سے کوئی ایسا پروگرام کا انعقاد کروایا گیا ہے جس سے ہم اپنی ذہنی صحت کو سدھار سکیں۔
انکی طرح کے ایک اور صحافی صاحبزادہ عتیق بھی ہیں جو شعبہ صحافت سے اٹھ سال سے وابستہ ہیں انہوں نے 2021 میں شعبہ صحافت میں جامعہ بلوچستان سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور اج یہ صحافت چھوڑ کر پرائیویٹ ہسپتال میں کمپیوٹر اپریٹر کی نوکری کر رہے ہیں جس سے مہینے کے یہ 60 ہزار روپے کما لیتے ہیں
“میں مختلف الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اداروں کے ساتھ وابستہ رہا، جہاں بمشکل ماہانہ 30 سے 40 ہزار روپے کما پاتا تھا۔ تنخواہوں کی تاخیر یا کبھی نہ ملنے کی وجہ سے مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار رہتا۔ بلوچستان میں اکثر میڈیا ہاؤسز کا بیورو یا بیٹ موجود نہیں ہوتا، اس لیے ایک ہی رپورٹر کو متعدد ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں، جو جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی تھکن کا باعث بنتی ہے۔ کوئٹہ میں سیکیورٹی کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہے، جو کام کے دباؤ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
صاحبزادہ عتیق کا مزید کہنا تھا جتنا تجربہ ان کو اس فیلڈ میں ہوا ہے ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی عذاب سے نکل کر باہر ائے ہیں ہر وقت اپنی نوکری کی فکر رہتی تھی کہ کہیں مالک کی کال نہ ا جائے اور مجھے نوکری سے فارغ نہ کر دیں۔
اپنی ذہنی حالت کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔ کہنے لگے کہ “میں بہت شوق اور جذبے کے ساتھ صحافت میں آیا تھا۔ کبھی دل نہیں چاہا کہ اسے چھوڑوں، لیکن گھریلو حالات نے اس قدر مجبور کر دیا کہ بالآخر صحافت کو خیرباد کہنا پڑا اور میں ایک بالکل مختلف شعبے میں چلا گیا۔ مالی مشکلات اتنی شدید تھیں کہ شدید ڈپریشن میں مبتلا ہو گیا۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ مجھے تین ماہ تک اسپتال میں داخل رہنا پڑا۔ ان دنوں دل میں نہایت منفی اور خطرناک خیالات آتے تھے۔””
- Advertisement -
انہوں نے مزید کہا کہ “میں اب باقاعدگی سے طبی ماہرِ نفسیات سے علاج کروا رہا ہوں، کیونکہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں خود کو ذہنی طور پر مفلوج سا محسوس کرنے لگا تھا۔ شعبۂ صحافت میں معاوضہ نہایت کم تھا، مگر ذہنی دباؤ بے حد زیادہ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ادارے میں کسی مسئلے کی شکایت کی جائے، تو کوئی بھی نہ سُنتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی پشت پناہی فراہم کی جاتی ہے۔ ایسا کوئی نظام موجود نہیں جو صحافیوں کی بہبود اور تحفظ کو یقینی بنائے۔”
ان کا مزید کہنا ہے کہ اخبار اور چینل مالکان کے پاس بہت پیسہ موجود ہے اور ان کے حالات بھی بہتر ہیں مگر وہ میڈیا ورکرز کو اس لیے نوکری سے برخاست کر رہے ہیں کہ سارا کام ایک ہی بندے سے لیا جائے اور زیادہ پیسے بھی خرچ نہ کرنے پڑے ٫ صحافیوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے تربیتی نشستیں منعقد کروانی چاہیے جس سے صحافی اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھ سکے اور پریشانیوں سے باہر ا سکے اور اپنے گھر کو ماحول کو بہتر بنا سکے۔
بلوچستان میں صحافیوں کو تربیت اور مختلف کورسز فراہم کرنے والے ادارے سے وابستہ فوزیہ مغل نے بتایا کہ “ہم نے ‘انڈوڈیڈلینڈ’ نامی کونسلنگ سینٹر کا آغاز مئی 2018 میں کیا، جہاں ہم بلوچستان کے صحافیوں کو ذہنی صحت سے متعلق رہنمائی کے ساتھ ساتھ ذہنی تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔”
فوزیہ مغل کے مطابق: “جب ہم نے مختلف میڈیا کارکنان کو تربیت دی تو ہماری مشاہداتی دریافتیں یہ تھیں کہ وہ متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں روزگار کا عدم تحفظ، حفظانِ صحت سے متعلق ناکافی آگہی، اور بنیادی تربیت—جیسے ذہنی دباؤ سے نمٹنے اور ابتدائی طبی امداد کی معلومات—کا فقدان شامل ہے۔
فوزیہ مغل نے بتایا کہ بلوچستان کے صحافی جغرافیائی اور تکنیکی معلومات کی کمی، مالی مشکلات، بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی، اور روزگار کی غیر محفوظ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں جان کے خطرات، ہراسگی اور پابندیوں کا بھی سامنا ہے، خاص طور پر سیاسی اور قبائلی تنظیموں، سیکورٹی اداروں اور دہشت گردوں کی جانب سے۔ ان کے ادارے نے صحافیوں کو ذہنی صحت کی تربیت اور ماہرین سے رابطے کی سہولت فراہم کی ہے اور ذہنی مسائل سے نجات کے لیے مختلف شہروں کے دورے کروائے ہیں۔ مگر مالی مشکلات اور کام کا دباؤ ختم نہ ہونے کی وجہ سے صحافی دوبارہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر کام کا بوجھ کم کیا جائے، تنخواہیں وقت پر دی جائیں اور روزگار کی حفاظت کی جائے تو صحافیوں کی ذہنی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔
بلوچستان یونین اف جرنلسٹ کے جنرل سیکرٹری عبدالغنی کاکڑ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں صرف صحافی نہیں بلکہ میڈیا کارکنان مسائل کا شکار ہیں جس نے سب سے پہلی وہ تنخواہیں ہیں جو ان کو ملنی چاہیے وہ ایک لیبر تنخواہ سے بھی کم ہے، اس کے علاوہ ان کی تنخواہوں کا لیٹ انا اور جاب سکیورٹی روزگار کا تحفظ نہ ہونا سب سے بڑے مسائل ہیں جس کے حل کے لیے بی یو جے اپنی خدمات سرانجام دیتی رہتی ہے۔
بی یو جے نے بہت سے صحافیوں کے مسائل حل کر ائے ہیں جن میں ان کے بقایا جات واپس دلوانا،اس کے علاوہ ائی پی این ای کے ساتھ تمام مسائل کی نشان دہی کروائی گئی، اس کے علاوہ بی یو جے نے چیف سیکرٹری بلوچستان کے ساتھ ایک نشست کی جس میں ہم نے ان کو بتایا کہ میڈیا کارکنان کو تنخواہ وقت پہ نہیں ملتی اور جو تنخواہیں ہیں اس میں محنت کشوں کے حقوق و ضوابط کو عملدرآمد نہیں کیا جاتا، جس پر جی سیکٹری نے سیکرٹری انفارمیشن کو ہدایت جاری کی کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں صحافیوں کے تمام مسائل کا حل نکالا جائے۔
جنرل سیکرٹری کے مطابق انہوں نے ایک پالیسی فراہم کی ہے جس میں انہوں نے تمام چینل مالکان سے مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہ ہے تمام رپورٹرز اور صحافیوں کو چیک کی صورت میں دی جائے کیونکہ مالکان وہاں ریکارڈ میں کچھ اور لکھتے ہیں اور یہاں تنخواہیں کچھ اور دی جاتی ہیں جس سے صاف شفافیت نہیں رہتی
انکا مزید کہنا تھا جہ ایک کمیٹی ہے جس میں صدر کوئٹہ پریس کلب، صدر بی یو جے و حکومت بلوچستان انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے افراد موجود ہیں جس میں صحافیوں کی درخواستیں رکھی جاتی ہیں،سال 2024 میں میڈیا ورکرز کو بی یو جے نے 80 لاکھ روپے کی مد میں ویلفیئر فنڈ فراہم کیا جس میں صحافیوں کے بچوں کی تعلیم ان کی شادی وغیرہ، صحت کے مسائل اور گھر کے راشن کے سامان شامل ہے۔
عبدالغنی کاکڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان تمام پاکستان کے علاقے کی طرح نہیں ایک تو بلوچستان پاکستان کا آدھا رقبہ ہے جبکہ بلوچستان میں صافیوں کے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے جس میں ان کی سکیورٹی ایشوز، کانفلکٹ ایریا، سیاسی و قبائلی معاملات صحافیوں کی مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں ہمارے بہت سے صحافی شہید ہوئے ہیں جبکہ چند سال قبل نیوز ایجنسی کے دفتر میں تین صحافیوں کو شہید کر دیا گیا تھا جبکہ پورے صوبے میں مختلف واقعات پیش ارہے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان تمام مسائل کی وجہ سے اپنے صحافیوں کی کونسلنگ کے لیے اقدامات کیے ہیں جس میں بہت سے کونسلنگ سیشن رکھے ہیں اور مختلف ٹیکنیکس اور معلومات صحافیوں کو فراہم کی ہیں جس کو برو کا لاتے ہوئے وہ اس طرح کے معاملات سے بچ سکتے ہیں اور اپنی جان بچا سکتے ہیں اس کے علاوہ بلوچستان میڈیا اکیڈمی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جس میں صحافیوں کو ٹریننگ ان کونسلنگ کی جائے گی۔
عبدالغنی کاکڑ کا بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان میں بہت سے بڑے اداروں نے اپنے بیورو بند کر دیے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس مالی مشکلات کا سامنا ہے مگر یہ بات حقیقت نہیں ہے اس کے حل کے لیے ہم اواز اٹھا رہے ہیں اور اٹھاتے رہیں گے ہم نے چینل مالکان پر زور دیا ہے کہ میڈیا ورکرز کی تنخواہیں ٹائم پہ فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے مسائل کو حل کر سکیں۔
ان کا مزید بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ بہت سے صحافی اپنی سکیورٹی رسک اور نوکری کی ٹینشن کی وجہ سے ہمیں مسائل نہیں بتاتے نہ ہی کوئی درخواست دیتے ہیں جب کی تنخواہ تین تین ماہ لیٹ ہو رہی ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں اپ درخواستیں تو مگر وہ اس ڈر سے کہ کہیں نوکری سے نہ نکال دیے جائیں یہ چینل کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہ کریں درخواست دینے سے ڈرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو خود اگے انا ہوگا کسی نہ کسی کو مثال بننا ہی ہوگا اور اواز اٹھانی ہوگی تب ہی بی یو جے مالکان کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے
ڈاکٹر مہرین، اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ بلوچستان، نے بلوچستان کے صحافیوں کی ذہنی صحت کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ انہیں سب سے بڑا مسئلہ سیکیورٹی کا سامنا ہے۔ میڈیا ورکرز کو رپورٹنگ کے دوران ذہنی اور جسمانی خطرات لاحق ہوتے ہیں، اور ان کی ملازمتیں غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے وہ مستقل ذہنی دباؤ اور خوف میں رہتے ہیں۔
مالی مشکلات اور نوکری کی غیر یقینی صورتحال صحافیوں کو ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن کا شکار بناتی ہیں۔ اگر کوئی صحافی دورانِ کام بیمار یا زخمی ہو جائے تو اسے مالی یا طبی امداد نہیں ملتی، جو ان کے مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
ذہنی دباؤ کے اثرات صحافیوں کی جسمانی صحت پر بھی پڑتے ہیں، جن میں پٹھوں کے درد، گردے اور دل کی بیماری، اور بینائی کے مسائل شامل ہیں۔ خواتین صحافی مردوں کی نسبت زیادہ نازک ہوتی ہیں اور مشکلات کی وجہ سے وہ زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں یا صحافت چھوڑ دیتی ہیں۔
ڈاکٹر مہرین کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو باقاعدہ ذہنی مشاورت اور تربیتی کورسز کی ضرورت ہے۔ اگر ان کا ماہانہ نفسیاتی معائنہ کیا جائے اور انہیں مناسب سپورٹ فراہم کی جائے تو وہ اپنی صحت بہتر بنا کر کام کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں گے۔