حلاوتِ ایمانی کے لئے ہر طرح کی بد نظری سے بچنا ضروری
تحریر،ایم فاروق انجم بھٹہ
- Advertisement -
جب ہم بازار، ریلوے اسٹیشن، ایئر پورٹ یا اور کسی عوامی جگہ پر جاتے ہیں تو ہمارا سامنا غیر محرم جنسِ مخا لف سے ہوتا ہے؛ اِس موقع پر ہماری سب سے اہم ذمہ داری بد نظر ی سے بچنا ہے۔اگر ہم اپنی نفسانی خواہشات پر فتح حاصل کرکے نظر کو قابو کر لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقیناً اس سے ہم وہ روحانی ترقی حاصل کر لیں گے جو مہینوں کی نفلی عبادت اور ریاضت سے بھی حاصل نہیں کر سکتے۔
سوشل میڈیا یا تھیٹر وغیرہ میں مخرب اخلاق فلمیں یا ویڈیو دیکھنا بھی بدنظری میں شامل ہیں۔سوشل میڈیا یا تھیٹر وغیرہ میں مخرب اخلاق فلمیں یا ویڈیو دیکھنا بھی بدنظری میں شامل ہیں۔
جب ہم بازار، ریلوے اسٹیشن، ایئر پورٹ یا اور کسی عوامی جگہ پر جاتے ہیں تو ہمارا سامنا غیر محرم جنسِ مخا لف سے ہوتا ہے؛ اِس موقع پر ہماری سب سے اہم ذمہ داری بد نظر ی سے بچنا ہے۔اگر ہم اپنی نفسانی خواہشات پر فتح حاصل کرکے نظر کو قابو کر لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقیناً اس سے ہم وہ روحانی ترقی حاصل کر لیں گے جو مہینوں کی نفلی عبادت اور ریاضت سے بھی حاصل نہیں کر سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم اس طرح نظر کی حفاظت کر کے اپنی نفسانی خواہشات کی قربانی دیتے ہیں تو ہر قدم پر ہم اللہ تعالیٰ سے قریب ہوتے ہیں اور روحانیت کی منازل طے کرتے ہیں۔
کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ بسا اوقت نظر کو قابو میں کرنا مشکل ہوتا ہے؛یہ مفروضہ ہی غلط ہے۔ در اصل مسئلہ ہماری کوشش نہ کرنے اور اِس گندگی کو اپنے ذہن میں نہ لانے کا ہے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص کسی چیز کی بُرائی اور تباہ کاری کوذہن میں رکھے گا تو وہ اُس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اس کو ایک مثال سے اِس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے نشہ آور کوئی چیز رکھ دے اور ہم اُس کی تباہ کاریوں سے واقف بھی ہوں تو کیا ہم اُس کو ہاتھ بھی لگائیں گے؟ اِس کا واضح جواب ہے `نہیں۔بعینہ اسی طریقے پر اگر ہم بد نظری کے نقصانات کو پیشِ نظر رکھیں گے تو ہر حالت میں ہمارے لئے اِس سے بچنا ممکن ہوجائے گا۔
نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: `نگاہ، ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) جو اسے میرے خوف سے چھوڑ دے تو میں اس کے بدلے اسے ایسا ایمان عطا کروں گا جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا ۔ (الترغیب والترہیب)
بدنظری کے نقصانات کا اگر مختصراً جائزہ لیا جائے تو چند ہوش رُبا حقائق سامنے آتے ہیں: ایک تو یہ کہ یہ اللہ رب العزت کے حکم کی صریح نافرمانی ہے؛کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتابِ ہدایت قرآن مجید میں مرد اور عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔اسی طریقے سے اوپر مذکور حدیث کی روشنی میں اگر کوئی شخص بد نظری کرتا ہے تو وہ شیطان کا آلۂ کار بن جاتا ہے ؛جس کے نتیجے میں ایمان کی حلاوت سے وہ شخص محروم ہوجائے گا اور کسی نیک کام میں اُس کا دل ہی نہیں لگے گا۔ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ آ نکھیں اللہ تعالیٰ کی ایک بیش قیمت امانت ہیں ؛ظاہرہے کہ اس کا غلط استعمال امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔
دنیاوی اعتبار سے بھی بد نظری کے نقصانات بے شمار ہیں۔ایک نقصان جو حکماء بتلا تے ہیں وہ یہ ہے کہ انسان اس عمل سے جنسی اور ذہنی اعتبار سے کمزور ہوجاتا ہے اور ایک دوسرا نقصان یہ ہے کہ اگر بد نظری والی حرکت شریف لوگوں کی نظر میں آجائے تو ذلت و رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بد نظری سے بچنے کا سب سے بہتر ین طریقہ وہی ہے جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتلادیا ہے ۔چنانچہ سورہ نور کی آیت نمبر ۳۰؍ اور ۳۱؍ میں ارشاد ہے: ’’آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی آنکھوں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لئے صاف ستھرا طریقہ ہے، وہ جو کچھ کرتے ہیں، یقیناً اللہ کو اِن سب کی خبر ہے، اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زیبائش و آرائش کو ظاہر نہ کریں۔ ‘‘ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ ہماری نگاہیں ہر وقت معقول حد تک جھکی رہنی چاہئے (نظر جھکانے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ کسی چیز سے جا کر ٹکرا جائیں)، ہاں بقدر ضرورت نظریں اوپر اُٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔کچھ لوگوں کا عمل یہ ہوتا ہے کہ جب ممنوعہ چیز پر نظر پڑ جاتی ہے تب نظریں جھکا تے ہیں۔ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس صورت میں غلطی میں پڑنے کا زیادہ امکان ہے اور یہ تقویٰ کے خلاف بھی ہے۔
علماء نے پہلی نظر کو معاف لکھا ہےلیکن کچھ لوگ اس کا غلط مطلب بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقتاً پہلی نظر کے معاف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کو ئی شخص نظریں نیچی کئے چل رہا ہے اور غیر ارادی طور پر اس کی نظر غیرمحرم جنسِ مخالف پر پڑ جاتی ہے تو یہ معاف ہے۔اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ آدمی منہ اٹھا کر چلتا رہے اور سامنے آنے والی جنس مخالف کو نظر بھر کر دیکھ لے ؛پھر اس کے بعد نگاہیں نیچی کرے۔
موجودہ زمانے میں ہم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بدنظری صرف وہ نہیں ہے جو لوگ باہر جنسِ مخالف غیر محرم کو سڑکوں ،بازاروں یا کسی اور جگہ براہ راست دیکھتے ہیں بلکہ اس میں سوشل میڈیا ، ٹی وی، سنیما ہال وغیرہ میں ویڈیو دیکھنا بھی شامل ہے۔ بد نظری کے یہ بد ترین آلات ہیں جن کو ہم محسوس بھی نہیں کر پاتے اور گناہوں اور نقصانات کے دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کی ہر طرح کی بد نظری سے حفاظت فرمائے