پاک فوج, پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی
تحریر: کنول زہرا
کراچی میں امن کی بحالی ہو یا وزیرستان میں امن کا قیام, کھیلوں کے میدان میں سیکیورٹی کی فراہم ہو یا زندگی کی بقا کا تحفظ, ملک میں سیلاب آئے یا زلزلوں کی قدرتی آفات, نکاسی آب کا مسئلہ ہو یا اگ لگ جانے کے واقعات, عمارت کے گرنے جانے یا جہاز کرش ہو جانے کی صورت میں ملبہ اٹھانا ہو یا وبائی مرض سے نجات دلانے کا عمل, انتظامی غفلت کے باعث عوام کی داد رسی میں پیش پیش پاک فوج نہ صرف پاکستان بلکہ اقوام عالم میں بھی جفاکش اور امن کے پیامبر کے اعتبار سے باوقار اور پراعتماد ہے,یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے قیام امن کے لیے سب سے نمایاں اور مسلسل تعاون کرنے والا ملک رہا ہے.
اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا سفر 1960 میں شروع ہوا جب پہلی بار پاکستان آرمی کا دستہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے تعینات کیا گیاگزشتہ 61 سالوں کے دوران پاکستان
پاکستان نے اب تک اقوام متحدہ کے 46 امن مشنز میں حصہ لیا ہے جن میں کچھ انتہائی مشکل کام بھی شامل ہیں۔ پاکستان نے اب تک دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں 2 لاکھ سے زائد فوجیوں کا حصہ ڈالا ہے۔اس دوران ایک سو انہتر پاکستانی فوجی جوانوں نے اقوام متحدہ امن مشن میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے جنگ زدہ علاقوں میں امن کے چراغ جلانے کے لئے 1960ء میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شرکت کرتے ہوئے کانگو میں اپنا پہلا دستہ تعینات کیااور اس کے بعد شورش زدہ علاقوں میں مستقل طور پر اپنے سکیورٹی اہلکار بھیجنا شروع کیے۔ پاکستان خواتین کو ”امن آپریشنز ”میں بھیجنے والا واحد ملک بھی ہے۔اسی طرح اقوام متحدہ کے مختلف امن مشنز میں سب سے زیادہ تعدادمیں اہلکاروںکو بھیجنے والے ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ اب تک ہمارے دو لاکھ سے زائد امن اہلکار شورش زدہ علاقوںمیں خدمات انجام دے چکے ہیں۔پاکستان کے مختلف سکیورٹی دستے ہیٹی، لائبیریا، صحارا، وسطی افریقہ ، سوڈان، نیوگینی، نمیبیا، کمبوڈیا، صومالیہ، روانڈا، انگولا،سری لیون اور بوسنیا میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس وقت بھی پاکستان کے فوجی کانگو، وسطی افریقی جمہوریہ، جنوبی سوڈان، صومالیہ، مغربی صحارا، مالی اور قبرص میں تعینات ہیں۔ہمارے یہ بہادر جوان انتہائی مشکل حالات میں ان شورش زدہ علاقوں میں ”بلیو ہیلمٹ” یعنی امن کا نشان سرپر سجائے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے یہ فوجی دستے انسانی ہمدردی کاجذبہ رکھتے ہوئے جنگ زدہ علاقوں میں امن کو برقرار رکھتے ہیں۔پاکستان گزشتہ کئی سال میں مستقل طور پر تعاون کرنے والے ممالک میں بڑا اور مؤثر ملک ہے۔ ہمارے جوانوں نے جنگ زدہ علاقوں کو معمول پر لانے، امن وامان برقرار رکھنے اور انتخابات کی نگرانی کے ذریعے سیاسی تقسیم اور اقتدار کی کامیاب منتقلی کو یقینی بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اب تک 169 پاکستانی امن دستوں نے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے انسانیت کی مدد، امن قائم کرنے اور خطوں میں استحکام لانے کے عظیم مقصد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران، اقوام متحدہ کے کئی سیکرٹری جنرلز نے پاکستان کے تعاون کو سراہا موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی قیام امن کی کوششوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
پاکستانی امن دستوں کی کارکردگی کا دنیا بھرمیں متعدد عالمی رہنماوں اوراقوام متحدہ کی قیادت نےاعتراف کیا ہے فوج کے علاوہ بہت سے پاکستانی امن دستوں میں ایف سی، رینجرز اور پولیس کے دستے بھی شامل ہیں
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کی ٹوئٹ کے مطابق :”پاکستان 28 ممالک میں46 اقوام متحدہ مشنز میں حصہ لے چکاہے اور158 پاکستانی پیس کیپرز عالمی امن کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ اب تک دو لاکھ پاکستانی فوجی اقوام متحدہ کے امن مشنزمیں حصہ لے چکے ہیں۔ سال2020ء میں نائیک محمد نعیم رضا شہید کو اقوام متحدہ کا خصوصی میڈل عطا کیا گیا۔پاکستانی خواتین بھی کانگو میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں خدمات انجام دے رہی ہیں
اکتوبر
- Advertisement -
2018
میں پاک فوج کی ٹیم نے برطانیہ میں کیمبرین پیٹرول مقابلے میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا.
پاک فوج کے جوانوں نے برطانیہ میں ہونے والی کیمرین ایکسرسائز پڑول کے نام سے ہونے والے مقابلوں میں طلائی تمغے حاصل کرکے ملک و قوم کا نام روشن کیا ہے بلکہ دنیا پر یہ ثابت بھی کردیا ہے کہ پاک فوج ہر کڑے وقت میں اپنے ملک کی حفاظت کرنے کے لیے ہر دم تیار ہے ۔دنیا کی 140 بہترین افواج کے درمیان مشکل ترین مقابلوں میں جیت جانا ، کسی بھی فوج اور قوم کے لیے قابل ِ فخر ہے ۔یہ مشقیں سات مرحلوں پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں فوجیوں کو تمام فوجی آلات جن کا وزن کم و بیش 60 پونڈ ہوتا ہے ۔سے لیس ہو کر ۴۸ گھنٹوں میں 50 میل کا فاصلہ بغیر دم لیے یا سوئے بنا طے کرنا ہوتا ہے۔ اس دشوار گذا ر سفر میں,
946 پہاڑ ، صحرا ، جنگلات اور پرپیچ وادیوں کو طے کرنا ہوتا ہے ۔ اسی میں دفاعی فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔ یہ دنیا کے سخت ترین مقابلے کہلائے جاتے ہیں ۔ عالمی نوعیت کے ان مقابلوں میں دنیا کے مانے ہوئے کمانڈوز کو بھیجا جاتا ہے جن میں سے اکثریت یہ فاصلہ عبور نہیں کر پاتے ۔پچھلے بارہ سال سے پاک فوج ان مقابلوں میں سب سے زیادہ میڈل لینے والی فوج بن چکی ہے ۔
عالمی افواج میں پاک فوج اپنی الگ حیثیت رکھتی ہے ۔ عالمی مقابلوں میں پاک فوج کے کیڈٹ اسد مشتاق نے 2013 ء میں سارڈ آف آنر حاصل کی ۔ جولائی 2016 میں پاک فضائیہ کے سی ون تھرٹی ہرکولیس جہاز نے برطانیہ ہی میں منعقدہ کانکر ڈی الیگنس ٹرافی جیت لی ۔ اس مقابلے میں دنیا کے 200 ممالک کی ٹیمیں شامل تھیں ۔ نشانہ بازی کا مقابلہ سنائپر کمپٹیشن بیجگ جیت لیا ۔ ابھی کچھ دن پہلے برطانیہ میں منعقد ہونے والا انڑنیشل ملڑی ڈرل مقابلہ جیت لیا۔
2019فروری
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے پاکستان آرمی کے میجر جنرل ضیا الرحمٰن کو مغربی سہارا (مینورسو) میں ریفرنڈم کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کا فورس کمانڈر مقرر کیا
حال ہی میں پاک فوج اور قطر کے درمیان میگا ایونٹ درمیان “فیفا ورلڈ کپ 2022” کی سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کی منظوری دے دی۔
پاک فوج وہ واحد فوج ہے جو دنیا کے بلند ترین محاذ سیاہ چین پر استادہ ہے ۔مشکل سے مشکل محاذ پر یہ افواج ہماری آنے والی نسلوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور انھی کی وجہ سے ہماری سرحدیں مضبوط اور محفوظ ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی نیند ، اپنا چین و سکوں ملک کی حفاظت کی خاطر قربان کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی دشمن کی جرات نہیں کہ براہ راست پاکستان کے خلاف کوئی کاروائی کرے یا اس ملک کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھے ۔ ان کی خدمات ناقابل تسخیر ہیں ۔
ایک ملک کی سالمیت کا دارومدار اس کے اداروں اور عوام کے درمیان تعلقات پر مبنی ہوا کرتا ہے ۔ یہ تعلقات جتنے مضبوط ہوں گے اس ملک کا دفاع بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا اور جس قدر عوام اور اداروں کے بیچ خلیج ہو گی اسی قدر اس ملک کا دفاع کمزور سے کمزور تر ہو جائے گا, لہذا حکومت اور عوام کو ان عناصر کو یکسر مسترد کرنا چاہئے جو پاک فوج اور پاکستانیوں کے درمیان خلیج کا باعث بن رہے ہو, اگر ان عناصر کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی برتی گئی تو یہ پاکستان کے ساتھ سختی کرنے کت مترادف ہوگا, الله پاکستان کو مزید سخت آزمائشوں سے محفوظ رکھے الہی آمین, پاکستان زندہ باد
[…] (مسائل نیوز) افغانستان نے پاکستان کی جانب سے اپنے مشنز کی سیکیورٹی کے لیے کمانڈوز کی تعداد بڑھانے کی درخواست دوسری بار […]
[…] نیوز) بیلجیئم کے گول کیپر آر نے ایسپیل 25 سال کی عمر میں چل بسے۔غیرملکی میڈیا کے […]