اسلام آباد (مسائل نیوز) سابق وزیر اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ رانا ثنااللہ وزارت داخلہ کا کام نہیں کر رہے۔انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ اپنے کام کے علاوہ باقی سب کچھ کر رہے ہیں۔رانا ثنااللہ وزیر داخلہ نہیں وزیر اطلاعات ہیں۔جب کہ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہوگی عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہو ۔
چاہتے ہیں عمران خان کو عدالت سے ہی گرفتار کرلیں ۔عمران خان جس جیل میں رہنا چاہیں گے ان کو اس جیل میں رکھا جائے گا ۔اسلام آباد میں کسی جگہ کو سب جیل قرار دیا جاسکتا ہے۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کا معاملہ مزید آسان ہو گیا ہے۔ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کےمقدمے میں کسی اضافی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔
عمران خان کے الفاظ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا۔کوشش ہے عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہو۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کے لیے سہولتوں کے باوجود جیل میں رہنا بہت مشکل ہوگا۔ خیال رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو عمران خان کی طرف سے دھمکیاں دینے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹس لے لیا ۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔
لارجر بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں، عمران خان نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کیخلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد پرکیس کرنے کا اعلان اور شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ کو نام لیکر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے،مجسٹریٹ زیبا چوہدری آپ کو بھی ہم نے نہیں چھوڑنا، کیس کرنا ہے تم پر بھی، مجسٹریٹ کو پتہ تھا شہباز پر تشدد ہوا پھر بھی ریمانڈ دیدیا، بڑے ادب سے سپریم کورٹ کوکہتا ہوں قانون کی حکمرانی پر عمل درآمد آپ کا کام ہے۔
Get real time updates directly on you device, subscribe now.