MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

قرآن پاک کی بے حرمتی برداشت نہیں کریں گے، دشمنان اہل بیت کو ہماری نسلوں پر مسلط کیا جارہا ہے، شیعہ علماء

0 208

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ (مسائل نیوز) شیعہ علماء بلوچستان اور آئمہ جمعہ نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب کے اس اقدام سے اربوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے مسلمان اپنی جان تو دے سکتا ہے لیکن قرآن پا کی بے حرمتی کسی صورت قبول نہیں کرسکتا حکومت قرآن پاک کی بے حرمتی کے معاملے کو عالمی سطح پراٹھائے اس سلسلے میں سینٹ کا اجلاس بلانا بہترین اقدام ہے۔یہ بات علامہ علی حسنین،علامہ ہاشم موسوی، علامہ ولایت حسین جعفری، کامران حسین اوردیگر نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کوئی بھی مسلمان اپنی جان کو دے سکتا ہے لیکن قرآن پاک کی بے حرمتی کسی صورت قبول نہیں کریگا وفاقی حکومت سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے اور آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون سازی کامطالبہ کرے۔انہوں نے کہا کہ سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ پر سینٹ کا اجلاس طلب کرنا حکومت کی جانب سے ایک احسن اقدام ہے تاکہ حکومتی سطح پر اس حوالے سے ایکشن لیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کی تشکیل کے وقت بانی پاکستان محمد علی جناح اور دیگر قائدین کا اصرار تھا کہ اس مملکت خداداد میں شیعہ،سنی، بریلوی،دیوبندی،اہل حدیث اور دیگر مسالک اپنی مکمل آزادی کے ساتھ زندگی گزاریں اور اتحاد کی چھتری تلے باہمی رواداری، برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں گے اس سلسلے میں ہم شیعیان حیدر کرار اتحاد امت اور باہمی رواداری کے لیے بہت ساری قربانیاں دے چکے ہیں لیکن بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ ہمیشہ سوتیلا سلوک روا رکھا جاتا رہاہے گذشتہ بیس سال میں ہمارے قتل عام اور آئے دن ہمارے خلاف نت نئی سازشیں سب پرواضح ہیں، حال ہی میں پارلیمنٹ میں ایسابل پاس کیا گیا جس سے عوام کو بے خبر رکھا گیا تھا اور یہ بل ان فرقہ پرست عناصر کے لئے ہے جو ہمیں پہلے بم اور گولیوں کا نشانہ بنایا کرتے تھے اور یہ بل ایک ایسا وسیلہ بنے گا جس کے ذریعے وہ ہماری مذہبی آزادی کو ہم سے چھین لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ کے تقدس کی آڑ میں اس بل کے ذریعے بعض دشمنان اہل بیتؓ کو تقدس کا لبادہ پہناکر ہماری آئندہ نسلوں پر مسلط کیا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ تاریخ اسلام اور عصر رسول اللہؐکے حقائق سے نئی نسل کو محروم کیاجارہا ہے لہذا یہ بل باعث انتشار و افتراق اور مسلمانوں میں برداشت اور رواداری کے خاتمے کا سبب بنے گا ہم اس بل کو مسترد کرتے ہیں اورمطالبہ کرتے ہیں اس جیسا کوئی بل جس سے تعصب، فرقہ واریت اور عدم برداشت کے ذریعے وطن عزیز پاکستان کی سالمیت کو خطرہ ہو قانون کا حصہ نہ بنایا جائے۔

- Advertisement -

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.