جج اور وکیل میں دوستی ممکن نہیں، دونوں خداکو جوابدہ ہیں،چیف جسٹس بلوچستان
حب(مسائل نیوز) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اخترافغان نے کہا ہے کہ عدالت اور وکالت دونوں لازم وملزوم ہیں لیکن اس میں فاصلہ بھی ہونا ضروری اور کیونکہ جج اور وکیل کے درمیان دوستی نہیں ہوسکتی البتہ انکے درمیان احترام کا رشتہ قائم ہو نا چاہئے اگر جج خداکو جوابدہ ہے تو وکیل بھی خداکے سامنے جوابدہ ہونگے بلوچستان کے طول وعرض میں عدالت پھیلادیں ہیں لیکن بلوچستان میں عجیب طریقے کے مسائل بھی ہیں اس حالت میں وکلاء ہڑتال کلچرشروع کردیں گے تو سائلین عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں،لسبیلہ بار کے کابینہ سے احتجاج ختم کرنے کی التجاکرتاہوں لیکن ان پر کوئی زور زبردستی نہیں وہ اپنا فیصلہ خود کریں، بار کی سیاست کی ہے نہ ہی کرتاہوں نہ ہی کروں گا ان خیالات کااظہارانہوں نے گذشتہ روزڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ لسبیلہ بمقام حب کے دورے کے موقع پر لسبیلہ بار روم میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نعیم اخترافغان نے کہاکہ وہ بارکی سیاست کا حصہ نہیں ہوں اور نہ ہی بنتاہوں اور نہ ہی بنوں گا چیف جسٹس بلوچستان ہوں اور سائلین کو جوابدہ ہوں اگرکسی کا مقدمہ عدالت میں نہیں چلتاتواسکوحل کرنے کی ذمہ داری ہماری ہے بلوچستان کے طول وعرض میں انہوں نے عدالتیں پھیلادیں ہیں بلوچستان کے مسائل بھی زیادہ ہیں اور رقبے کے لحاظ سے بڑاصوبہ ہے اور بلوچستان کے ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ججز اسٹیشن ہیں لیکن وکیل دستیاب نہیں اوردیگرعلاقوں سے آکر وکالت کرتے ہیں جس میں نوشکی، دالبندین، نوکنڈی کی مثال سب کے سامنے ہیں وکلاء ایک نوکنڈی اور دوسرے دن نوشکی وتفتان میں پیشی کرتے ہیں حتیٰ کہ ان علاقوں کی سڑکیں ثابت نہیں ہیں وکلاء ان علاقوں میں بھی جاکر وکالت کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں عجیب طریقے کے مسائل ہیں اور اس حالت میں وکلاء ہڑتال کلچرشروع کردیتے ہیں تو سائلین عذاب میں مبتلاہوجاتے ہیں اور ہڑتالوں سے سائلین کوکافی پریشانی کاسامناہوتاہے کورٹ میں وکلاء انکی دادرسی نہ کریں تویہ المیہ ہوگا اگربارکو سیاست کرنی ہے تو اس کے ہرگزخلاف نہیں ہوں بارکوSensitiveہوناچاہئے بارکو ہر ایشو پر ری ایکشن دینا ہے بار ہی سے لیڈرشپ بنتے ہیں لیکن لسبیلہ بارکے کابینہ سے التجاکرتاہوں کہ وہ ہڑتال کو ختم کریں ان پر عملدرآمد نہ کرنا انکا فیصلہ ہوگا چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نعیم اخترافغان نے کہاکہ اگرجج خداکو جوابدہ ہے تو وکلاء بھی خداکے سامنے جوابدہ ہونگے اگرجج سے اللہ پاک کے دربارمیں پوچھ ہوگی تو وکلاء کی پوچھ بھی ہوگی کیونکہ سائلین سے وکلاء کیس کے حوالے سے فیس لیتے ہیں اور انکے کیس کے حوالے سے انہیں پیش ہوناچاہئے انہوں نے کہاکہ وکلاء سائلین کا احساس کریں انہوں نے کہاکہ انہوں نے 22سال تک وکالت کی ہے انکے ساتھ بھی بہت سے مسائل ہوئے اورججز کے رویہ کی بھی شکایتیں ہوئیں لیکن جج اور وکیل لازم وملزوم ہیں جب کوئی وکیل سج دھج کرکورٹ پہن کرعدالت میں آجائے تووہاں جج نہ ہوتو وہ کیا وکالت کریں گے اسی طرح اگر جج آکر عدالت میں بیٹھ جائے اور وکیل نہ ہوتو عدالت کیسے چل سکتی ہے اسی طرح وکالت اور عدالت دونوں لازم وملزوم ہیں لیکن اس میں فاصلہ ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ جج اور وکیل کے درمیان دوستی نہیں ہوسکتی لیکن ان کے درمیان باہمی احترام کا رشتہ قائم ہوسکتاہے کیونکہ کام کی نوعیت ایسی ہے کہ اے اور بی کامدعی ہوتاہے دونوں میں سے ایک ہی کو ریلیف مل جاتاہے ایک جھوٹا تو دوسرا سچاہوتاہے اور سچ کی لڑائی میں وکیل ہماری معاون ومددگارہوتے ہیں اور وکیل مظلوم کا وسیلہ بھی ہوتاہے جب کوئی وکیل کسی سائل کو انصاف دلاتاہے تو وہ اپنے دل میں خوشی محسوس کرلیتاہے چیف جسٹس بلوچستان نے کہاکہ اچھاوکیل اسے کہاجاتاہے جو اپنے کیس کی تیاری کرکے حقائق کو پرکھے اور آداب کے ساتھ عدالت میں پیش ہوجاتے ہیں جبکہ کوئی بڑانام رکھنے والا وکیل اپنے کیس کاتیاری کرکے نہیں آتاوہ کبھی اچھاوکیل نہیں بن سکتا،لیکن کوئی جونیئروکیل اپنے کیس کی تیاری کرے تواچھاوکیل بن سکتاہے وکلاء اپنے پیشے پر توجہ دیں تو قدرت بھی ان پرخود بخود مہربان ہوجاتی ہے بہترکام ہی آپکو کامیابی کے طرف گامزن کردیتاہے اوراچھے کام کی وجہ عزت اوررتبہ ملتاہے حالانکہ وکالت مشکل شعبہ ہے پہلے وکالت کی ڈگری ایک سال کی تھی اوراب پانچ سال کی ہوگئی ہے لیکن صرف ڈگری لینے سے کوئی وکیل نہیں بن سکتاوکالت کے لئے استاد کے پاس جاناپڑتاہے اور استاد ہی سکھاتاہے جووکیل پروفیشنلزم کولیکرچلتے ہیں وہ ہر میدان میں آگے نکل جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ سیشن کورٹ کے دورے کے موقع پر جب مقدمات کاجائزلیاگیاتوخوشی ہوئی کہ کوئی پرانا مقدمہ نہیں ہے. چیف جسٹس بلوچستان نے کہاکہ لسبیلہ بارکی جانب سے جو ڈیمانڈ پیش کی گئی ہے جس میں خواتین وکلاء کیلئے الگ بارروم لیکن وہ خواتین کے الگ بارروم کے حامی نہیں ہیں کیونکہ خواتین کو معاشرے کا سامنا کرناہوتاہے انہوں نے کہاکہ عدالتی کمپلیکس کے قیام کی اراضی کیلئے ایم بی آرکو خط لکھاجائے گاتاکہ زمین الاٹ کی جاسکے انہوں نے کہاکہ سیشن کورٹ کے سیکورٹی کے حوالے سے ایس ایس پی حب کو تنبیہ کیاگیا ہے انہوں نے کہاکہ سیکورٹی کیلئے بیگ اسکینر،واک تھروگیٹوں کے مد میں اربوں روپے برباد ہوچکے ہیں سیکورٹی کے حوالے سے وکلاء کے ڈیمانڈ پر مختلف عدالتوں میں واک تھروگیٹ بھجوادیئے گئے ہیں جس پر اربوں روپے خر چ ہوئے ہیں لیکن وہ ایکٹیونہیں ہیں اس موقع پرلسبیلہ بارکے صدرایڈوکیٹ اقبال جاموٹ،جنرل سیکریٹری آفتاب احمد شیخ نے بھی خطاب کیا۔
- Advertisement -