عمران نا اہلی فیصلہ،پاکستان کی سیاسی تاریخ نے اپنے کو دہرایا ہے ،حاجی لشکری
کوئٹہ(مسائل نیوز)سنیئر سیاست دان و سابق سینیٹر نوبزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ عمران خان کی نااہلی کے فیصلے سے پاکستان کی سیاسی تاریخ نے اپنے کو دہرایا ہے سیاسی جماعتیں ایک قومی ایجنڈا پر متفق ہوکر عوامی نمائندوں کے احتساب کا ذریعہ ووٹ کو بنائیں تاکہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے نمائندوں کا احتساب اور انتخاب کریں، بد قسمتی سے عوام کے مسائل کے حل کی بجائے سیاسی جماعتیں ایک دوسری کی توہین اور گرانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو بلوچستان ہائیکورٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید کاکڑ ایڈوکیٹ، بلوچستان بار کونسل کے راحب بلیدی ایڈووکیٹ، سینئر قانون دان و سابق سینیٹر ملک ممتاز محفوظ ایڈووکیٹ، سید نذیر آغا ایڈوکیٹ، سہیل راجپوت ایڈووکیٹ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ عمران خان کی نااہلی کے فیصلے سے پاکستان کی سیاسی تاریخ نے اپنے کو دہرایا ہے صرف نام، چہرہ اور تاریخ تبدیل ہے باقی سب کچھ ویسے ہی ہورہا ہے جیسے لیاقت علی خان سے لیکر آج تک ہوتا رہا ہے تاہم افسوس اس بات کا ہے کہ اکثر سیاسی جماعتیں ڈیل کرکے اقتدار میں آکر عوام اور پارلیمنٹ کے فعال کردار کو بھول جاتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنا وقت گزارنے کیساتھ اسٹیبلشمنٹ کی خدمت کریں اگر سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں آکر آئینی ترامیم کرکے عوامی نمائندوں کے احتساب کا اختیار عوام کو منتقل کرتیں کہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے عوامی نمائندوں کا احتساب کرتے ایسے واقعات بار بار ہوتے رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں نہ ہی حیران کن ہے یہ نتیجہ ایسے ہی نکلنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتیں جو آج اقتدار میں ہیں یا ماضی میں اقتدار میں رہی ہیں اس عمل سے گزرہی ہیں مگر افسوس سیاسی جماعتیں ایسے واقعات سے سبق سیکھنے کی بجائے ایک دوسری کی بے عزتی اور توہین پر مٹھائی بانٹتی ہیں، انہوں نے کہا کہ عوام ووٹر اور سیاسی کارکن پارلیمنٹ کی بالادستی پر توجہ دیں یہ ہلہ گلہ تو ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لانگ مارچ کی ایک طویل تاریخ ہے سیاسی کارکن پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں ہمیشہ لانگ مارچ ہوتے رہے ہیں کیوں کہ سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کی بالادستی کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں اقتدار میں آتی ہیں ملک کی 73 سالہ تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ اور اس کی سرپرستی میں بننے والی حکومتوں نے ملک کا وقت ضائع کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ عمرا ن خان اسٹیبلشمنٹ کی جن بیساکھیوںکے سہارے کھڑے تھے ان بیساکھیوں کو عمران خان سے لیکر اسٹیبلشمنٹ نے دوسرے کو دیدی ہے سیاسی جماعتیں ان بیساکھیوں کو توڑ کر سیاسی وقار پارلیمنٹ کی بالاستی کیلئے ایک قومی ایجنڈے پر عملدرآمد کریں۔عمران خان کیخلاف جو فیصلہ آیا ہے اس قسم کے فیصلے پہلے بھی آئے ہیں اگر سیاسی جماعتوں کا یہی رویہ رہا تو آئندہ بھی آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں عوام اور عوام کے ووٹ سے خیانت کررہی ہیں جس کے نتیجے میں عموماً سیاسی جماعتوں کی قیادت کسی خاص طبقہ کی جی حضوری میں اپنا وقت گزارہی ہے۔
[…] فورم کے سربراہ ، سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ارتقاءایک فطری عمل ہے جو معاشروں اور قوموں […]