MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پیرکوہ عوام کا دکھ اور بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کا کردار

0 398

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:فرید بگٹی

- Advertisement -

دکھ کی کیفیت کو بیان کرنے کیلے یہ امر ضروری ہے کہ تم کسی امتحان سے گزرو ایسی امتحاں  جہاں ننگے پیر گرم کوئلوں پر پشاور سے کراچی جانا پڑے جہاں پیاس کی تشنگی کا عالم یہ ہو کہ تمہیں ستمِ کربلا یاد آجائے آنکھوں میں بےبسی  چھائی رہے لبوں پر صدائے تکبیر جاری رہے اور جسم کا بوجھ تمہارے برداشت سے باہر ہونے لگے جب روح جان سے کھنچتی ہوئی محسوس ہونے لگے تم کسی ایسے امتحان سے گزرو پھر شاہد دکھ کی کیفیت کو سمجھتے ہوئے آپ کی آنکھیں نم ہوجائیں اور تم اس قدر غم کی داستاں بیان کرنے لگو کہ سنگ بھی آنسوؤں بھائیں اور زبان صرف کائنات کے مالک و خالق کے سوا کسی اور سے صدا نہ کرے اور نگائیں سبز گنبدِ خضرا کی عکس بناکر شکایت کرے کہ هذه أمتك یا محمدا
اے رسول امیںﷺ یہ آپ کی امت ہے اے شفیع اممﷺ یہ تیری امت ہے یہ کس قدر انجان بنے پھررہے ہیں انہیں کوئی خوف کیوں نہیں یہ ڈرتے کیوں نہیں کیا انہیں بروزِ حشر کے انجام کا بھی پتہ نہیں ؟ یہ نسیان کی بیماری میں مبتلا حکمرانوں کو کیسے یاد کروائی جائے کہ اگر ہم کسی ساحلی پٹی پر آباد ہوتے تو ہمارے مائیں بہنیں اور بچے پآنی کی تلاش میں ان کی تیرتی ہوئی لاشیں دریائے فرات پر ضرور جالگتیں پھر اس مثال پر تبصرہ کیسے کرو گے کہ کہ فرات کے کنارے کوئی کتا بھی مر جائے تو حاکم وقت جوآبدہ ہے ؟ تاریخی حوالے سے جس طرح کی عصبیت دیکھنے کو مل رہی اس کے نتائج خوفناک ہوسکتے ہیں یہ آپ کے جاگیرداری و سامراجی نظام کے تابوت پر آخری کیل بھی ٹھونک سکتی ہے یہ عصبیت کسی قصبے سے نکلے شخص کو اس قدر پزیرائی دے دیتی ہے کہ وہ بال شویک اور نیلسن منڈیلا کہلانے لگجاتا ہے یہی وہ عصبیت ہے جو ہم سے بنگال چھین کر لے گئی اور آج جس سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ جاگیرداری اور سامراجی نظام کو مظبوط بنانے۔کیلے تاجروں کے ہاتھ حکمرانی دی گئی یہ اس عصبیت پر عمل پھیرا ہیں جس سے شاہد تاریخ اپنے آپ کو پھر سے دہرانے پر۔مجبور ہوجائے یہ عصبیت کوئی نہئ چیز نہیں اس کا سامنا ابراہیم و اسحاق علیہ اسلام سے لیکر عیسیٰ و موسیٰ سے ہوتے ہوئے پیغمبر آخر زمان حضور اقدس جہانِ شاہ ﷺ تک کو کرنا پڑا خواہ خاندان کے اندر یا باہر لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے کہ ہر اٹھنے والی آواز کے پیچھے جاگیرداروں کی فرعونیت و عصبیت ہے 2017 سے ڈیرہ بگٹی سب تحصیل پیرکوہ واٹر پراجیکٹ کی خوشخبریوں سے لیکر لیپس شدا بجٹ کیبنٹ کی approvement تک کی خوشخبریاں  اس حدتک زہر ثابت ہونے لگیں کہ آج ہمارے درجنوں معصوم بچے و بزرگ موت کے آغوش جا سو گئے پانی کی شدید کلت نے ہر زبان پر صدائے کربلا جاری کردی اور اس سسکتی روح کو تسلی دینے کیلے جب گندہ پانی پینے کیلے استعمال کیا گیا تو ہیضے کی وبا پھوٹ پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے شہر کو اپنے لپیٹ میں لے لیا بلکل ایسے جب انیسویں صدی میں برصغیر میں  وبا پھوٹ پڑی تو ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوگئ اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس وبا کو عالمی وباؤں میں ساتویں نمبر پر شمار کیا جانے لگا  ہم اس عالمی وبا سے نبردآزما ہیں ہم مر بھی رہے ہیں ہم لڑ بھی رہے ہیں لیکن آخر کمزور جسموں سے اور کیا ممکن ہے  ہاتھوں میں ہنستے کھلتے پھول جیسوں کی جب میتیں اٹھانی پڑھیں تو ایسی ماؤں کو کون اعتبار دلائے گا کہ یہ فضاء پھر سے خوشگوار ہوگی ہم کیسے بنائیں ان ہاتھوں کا عکس جنہوں نے پھولوں کے جنازے اٹھائے ہم کیسے یقین دلائیں گے کہ چمن میں پھر سے بہار آئے گی پچیس افراد ہیضہ کی وجہ سے فانی دنیا سے کوچ کرگئے  یہ وہ بدقسمت ضلع ڈیرہ بگٹی کے بدنصیب عوام ہے جس نے اپنے سینے چیر کر وہ ذخائر پیدا کئیے کہ آج تک وطنِ عزیز پچھلے کئی دھائیوں سے خاصا مستفید ہوتا آرہا ہے دو کمپنیوں کے تین مختلف فیلڈز اپنے اندر سموئے رکھ کر بھی ڈیرہ بگٹی کا حالت زار قابلِ رحم و قابلِ ترس ہے کہ جہاں سات سے آٹھ ہزار فٹ گھرائی میں گیس تو تلاش کی جاتی ہے پر سات سے آٹھ سو فٹ گہرائی میں پانی کی تلاش نہیں کی جاتی ہم اسے کیا سمجھیں کیا یہ انسانی تاریخ میں انسانی المیہ نہیں ؟ کیا یہ تعصب کی انتہا نہیں ؟ ان دو کمپنیوں کے دونوں ایم ڈی کے دو ماہ کے تنخواہوں و مراعات کی کٹوتی کی جائے تو ڈیرہ بگٹی میں درجنوں ٹیوب ویل لگ سکتے ہیں اور پانی کا مسئلہ مکمل طورپر حل ہوسکتا ہے پر ایسا کرنا کہاں کی دانشمندی ہوگی وہ جو ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر انیسویں صدی کی سوچیں لڑا رہے ہیں انہیں یہ کیسے قبول ہوگا ؟ آج پانی کی شدید قلت کی وجہ سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں صرف ہیضے سے چار ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں اور درجنوں اپنی جان گواں بیٹھے ہیں پر پا…

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.